شام پر ٹرمپ کی مہربانی، ایک خطرناک سودے بازی کا عندیہ

Spread the love

شام پر ٹرمپ کی مہربانی، ایک خطرناک سودے بازی کا عندیہ
رحمت کلیم امواوی


امریکہ نے جس شخص کو 12 سال پہلے عالمی دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کیا تھا آج اسی شخص سے گلے مل رہا ہے،8 سال پہلے جس موسٹ وانٹڈ کے سر پر امریکہ نے دس ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا،آج اسی شخص کی امریکہ تعریف کررہا ہے،اور دل کھول کر تعریف کررہا ہے۔یہ نہ کوئی اتفاق ہے اور ناہی کوئی معجزہ، یہ ایک سودا ہے اور بڑا ہی خطرناک سودا۔ اور اس وقت عالمی سطح پر جس لیڈر کے سودے بازی کا بازار گرم ہے،ان کو دنیا ڈونالڈ ٹرمپ کہتی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 13 مئی کو اعلان کیا کہ امریکہ گذشتہ کئی برسوں سے شام پر عائدتمام پابندیوں کو ہٹا رہا ہے۔اس اعلان کے ایک دن بعد ایک ایسی تصویر آئی جو ناقابل یقین تھی،یعنی ڈونالڈ ٹرمپ شام کے عبوری صدر احمد الشرع سے مصافحہ کررہے تھے اور ان کی تعریف بھی کررہے تھے

اس ملاقات میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے علاوہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان بھی شامل تھے۔ چوں کہ امریکہ کو اس ڈگر تک لانے میں ان دونوں کا کردار غیر معمولی رہا ہے،دونوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں،کچھ واضح ہیں اور کچھ غیر واضح۔ترکیہ میں تیس لاکھ شامی پناہ گزین موجود ہیں جن سے اردوغان پریشان ہیں اور وہ اپنے ملک کو اس سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔محمد بن سلمان کی نظر اپنے اثر روسوخ کے علاوہ بھی بہت ساری چیزوں پر ہے۔لیکن بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس پورے کھیل میں کس منصوبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔


شام پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے پچھے ممکنہ خفیہ منصوبے کیا ہوسکتے ہیں؟ ٹرمپ ایک بزنس مین ہیں اوروہ اپنے مفاد کو ہمیشہ ترجیح دیتے ہیں،اسرائیل امریکہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنا اللو سیدھا کرتا رہا ہے

لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ کے اس حیرت انگیز یوٹرن کے پیچھے اسرائیل امریکہ کا خفیہ بلیو پرنٹ کیا ہے؟ عالمی تجزیہ کاروں کی رائے سے یہ بات واضح ہے کہ اس فیصلے کے پچھے کئی اسٹریٹجک مقاصد ہو سکتے ہیں، جن میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے کنٹرول کو مضبوط کرنا، ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنا، اور مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی توازن کو تبدیل کرنا شامل ہیں۔


گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی کنٹرول کی مضبوطی: اسٹریٹجک اور عسکری لحاظ سے گولان کی پہاڑیوں کی بے پناہ اہمیت ہے، کیونکہ یہ اسرائیل کے لئے شام اور لبنان کی سرحدوں پر نگرانی اور دفاع کا اہم مقام ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں اس علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور 1981 میں اسے الحاق کر لیا، جسے عالمی برادری نے تسلمں نہیں کی۔ شام میں ہورہی حالیہ تبدیلیوں کو اسرائیل گولان کی پہاڑیوں کے تناظر میں دیکھتا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ شام کے نئے حکام کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہو جس میں گولان پر اسرائیل کے کنٹرول کو خاموشی سے قبول کیاجائے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اس اقدام کے ذریعے شام کی نئی قیادت کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی ترغیب دے سکتا ہے، جس سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ مستقل طور پر محفوظ ہو جائے۔
ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور علاقائی استحکام پیدا کرنا: شام پر پابندیوں کے خاتمے کا ایک اور ممکنہ مقصد ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا ہے۔ ایران شامی حکومت کا اہم اتحادی رہا ہے، اور اس کی فوجی موجودگی اسرائیل کیلئے خطرہ سمجھی جاتی ہے۔خبر ہے کہ امریکہ نے شام سے جومطالبات کئے ہیں ان میں غیر ملکی دہشت گرد گروہوں (بشمول ایران سے منسلک گروہوں) کو ملک سے باہر نکالنا اور داعش کے خلاف تعاون شامل ہے۔

پابندیوں کے خاتمے کو ملک شام کو ایران سے دور کرنے اور اسے امریکہ اور اسرائیلی مفادات کے قریب لانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ مزید برآں، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اقدام شام میں نئی حکومت کو مستحکم کرنے اور اسے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی طرف لانے کا حصہ ہے، جس سے ایران کی علاقائی پوزیشن کمزور ہو گی۔


مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی تبدیلی: پابندیوں کا خاتمہ مشرق وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی ڈھانچے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ کچھ تجزیہ کار یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ اور نئی قیادت کا ابھرنا ”گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے، جس میں شام کے کچھ حصوں پر اسرائیل یا اس کے اتحادیوں کا کنٹرول شامل ہے۔ تاہم، یہ نظریات قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں ۔ دوسری طرف، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ شام کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتا ہے

جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے اور خطے میں امریکی مفادات کی حمایت کرے۔ دعویٰ یہ بھی کیا جارہا ہے کہ بہت جلد شام کے نئے رہنما ٹرمپ انتظامیہ سے ملاقات کر کے امریکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی پیشکش کر سکتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے حامی بھر سکتے ہیں۔ یہ سب ایک ایسی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کا مقصد خطے میں اسرائیل کی بالادستی کو یقینی بنانا اور امریکی اثر و رسوخ کو بحال کرنا ہے۔


ان تمام خفیہ منصوبوں کے بیچ ایک خیر کا پہلو یہ ہے کہ ملک شام میں دہائیوں بعد ایک خوشگوار صبح کی امید جگی ہے،لاکھوں چہروں پر مدتوں بعد ہلکی سے مسکراہٹ لوٹی ہے،90 فیصد سے زیادہ شامی جو انتہائی غربت اور ذلت کی زندگی جینے پر مجبور تھے،انہیں ایک نئی صبح کی کرن کی ہلکی ہلکی روشنی نظرآنے لگی ہے، ایک نئی زندگی اور ایک نیا شام دیکھنے کی تمنا پیدا ہونے لگی ہے

اور ان امیدوں کے بیچ ملک شام کے 23 ملین شہریوں کیلئے اچھی خبر یہ بھی ہے کہ بڑی تعداد میں بڑے بڑے سرمایہ کار شام کی طرف نکلنے کی تیاری کررہے ہیں۔شام کے وزیر خزانہ نے بھی کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات، کویت اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے سرمایہ کار سرمایہ کاری کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔اوراب اچھی خبریں بھی آنے لگی ہیں۔دعا ہے کہ ان کی اچھی خبروں کو نظر نہ لگے اور ملک شام میں ایک خوبصورت نئی صبح ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *