ہم نے چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح

Spread the love

از قلم : خلیل احمد فیضانی ہم نے چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح

ہم نے چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح


اللہ تعالی ہم سےکتنی محبت فرماتا ہے ہمیں ابھی تک اس کا صحیح اندزہ نہیں ہوپایا ہے

مضمون حدیث ہے : اگر لوگوں پتا چل جاے کہ اللہ تعالی ہم سے اس قدر محبت فرماتا ہے تو وہ کپڑے پھاڑ کر صحرانوردی و کوہ پیمائی کرتے کرتے اپنی ساری زندگی گزاردیں

ماں نے ہمیں صرف جنم دیا ہے مگر اس کی داستان محبت مشہور عالم ہے تو جس رب نے ہمیں خلق کیا ہے۔پیدا کیا ہے۔وقار کا تاج ہمارے سروں پر سجایا ہے
ہر قسم کی نعمت ہمارے لیے مہیا کی ہےاس کی محبت کا عالم کیا ہوگا

اس کے پیار کا عالم کیاہوگا۔ہم ہر ایک سے اپنی داستان غم بیان کررہے ہوتے ہیں کیا کبھی رات کی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے مولا سے بھی مخاطب ہوے۔

کہ اے میرے مولا ۔میں کمینہ ہوں تو کریم ہے ..مجھ کو اپنا محبوب بنالے ..اس کائنات میں تیرے سوا میرا کوئی سہارا نہیں۔

مجھ کو اپنے سوا سے بے نیاز کردے ..اپنی محبت عطا فرما..اپنے مقربین بندوں میں شامل فرمالے

دعا مانگیں..اللھم انی اسئلک حبک وحب من یحبک والعمل الذی یبلغنی الی حبک پھر دیکھیں آثار محبتِ و نقوش کیف و مستی کس طرح آپ کی زندگی کا حصہ بنتے ہیں مادی دنیا کے تعیشات /سرور/خمار/محبت/مال/فریفتگی/ سب ایک طرف ہیں اور مولاکی محبت میں بہنے والا ایک آنسو ایک طرف ہے۔

واللہ! جو سرورمزہ کیف اور لذت اس آنسو میں ہے جو مولا تعالی کی محبت میں آدھی رات کو آپ کی آنکھ سےبہے اور لڑک کر رخسار کو تر کردے وہ عیش و کیف آپ کو دنیا کی کسی بھی آسائش میں نہیں ملے گا-

بندہ ایک مرتبہ “اللہ ” کہتا ہے میرا رب جواب میں سترمرتبہ “عبدی عبدی”فرماتا ہے نوازشیں فرماتا ہے..عنایات کی بارش برساتا ہے اپنا قرب عطا فرماتا ہے….مگر شرط یہ ہےکہ بایزید بسطامی جیسی پرسوز پکار رکھنے والا تو کوئی ہو۔۔ ابو الحسن خرقانی جیسی دردانگیز و پتھروں کو پگھلانے والی آہیں بھرنے والا مستانہ تو کوئی ہو ۔۔ہماری بیماری

یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک اس بات کا ذرہ بھر ادراک بھی نہیں ہو پایا کہ وہ ذات کتنی کریم ہے اور اس بارگاہ کتنی عظیم ہے…جب نوازنے پر آتی ہے تو کیسے نرالے انداز سے نوازتی ہے. ذرے کو آفتاب بنادیتی ہے… ایک پسماندہ شخص کو اوج ثریا پر پہنچادیتی ہے ستر ماؤں کی زندگی بھر کا پیار ایک طرف اور میرے رب کی ایک نگاہ کرم ایک طرف ہے

ہم کتنے بے وفا ہیں کہ جس رب نے ہمیں زندگی کی بہاریں نصیب فرمائی.. ماں کی ممتا و کچھ کرگزرنے کی شمتا سے نوازا..ہمارے لیے بزم کائنات کو سجایا..اور پھر روح کائناتﷺ کے قدموں میں جگہ عنایت فرمائیسبقت رحمتی علی غضبی کا محبت بھرا مژدہ سنایا

ہم مسلسل گناہ کرتے جاتے ہیں اچانک گرفت نہیں فرماتا ہے ۔ کبھی ذہن بن گیا توبہ کرلی تو اپنا محبوب بنالیتا ہے،، ہے کوئی ایسا معاف فرمانےوالا   اور اتنی محبت دینے والا  سوچو بار بار سوچو..رات میں جب سب سو جائیں تب سوچو کہ اللہ تعالی نے ہمارے لیے سب کچھ کیا ہم نے اسے راضی کرنے کے لیے ابھی تک کیا کیا ہے

کتنی ڈوڑ بھاگ کی..کتنا پسینہ بہایا…کتنی راتیں بستر سے الگ رہ کرگزاری..اس کی نعمتوں کی ایک لسٹ بنائیں..اور پھر راتیںاس کے حضور شکر کی وادیوں میں گزاریں..تب جاکر کہیں احساس ہوگا اور یہ شعر ذہن میں گردش کرتا محسوس ہوگا کہ:۔ع

ہماری بے وفائی پربھی وہ اتنا پیارکرتے ہیں
اگر ہم باوفا ہوتے تو کیا ہوتا

سناٹے دار فضا میں یہ پیغام محبت محسوس ہوگا کہ

دل تو کیا چیز ہے ہم روحوں میں اترے ہوتے تونے

چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح

تحریر: خلیل احمد فیضانی

ان مضامین کو بھی پڑھیں

 تحریر میں حوالہ چاہیے تو تقریر میں کیوں نہیں 

ہندوستان کی آزادی اور علامہ فضل حق خیر آبادی 

 مذہبی مخلوط کلچر غیرت دین کا غارت گر

قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی 

محبت کریں پیار بانٹیں

ایک مظلوم مجاہد آزادی

عورتوں کی تعلیم اور روشن کے خیالوں کے الزامات

سیاسی پارٹیاں یا مسلمان کون ہیں محسن

شوسل میڈیا بلیک مینگ 

ہمارے لیے آئیڈیل کون ہیں ؟ 

  قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی 

 اتحاد کی بات کرتے ہو مسلک کیا ہے

خطرے میں کون ہے ؟

افغانستان سے لوگ کیوں بھاگ رہے ہیں 

 مہنگی ہوتی دٓاوا ئیاںلوٹ کھسوٹ میں مصروف کمپنیاں اور ڈاکٹرز

۔ 1979 سے 2021 تک کی  آسام کے مختصر روداد

کسان بل واپس ہوسکتا ہے تو سی اے اے اور این آر سی بل کیوں نہیں

ہوائی جہاز ٹکٹ آن لائن بک کرتے ہوے کیسے بچت کریں

ہندی میں مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में पढ़ने क्लिक करें

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *