یوٹیوبر بنو، عالم نہ بنو نئی نسل کی ترجیحات اور امت کا مستقبل

Spread the love

یوٹیوبر بنو، عالم نہ بنو نئی نسل کی ترجیحات اور امت کا مستقبل
از قلم: محمد صفدر رضا علائی
( مربت پور پیکبان کٹیہار بہار )

ایک زمانہ تھا، جب مسلمان والدین کی سب سے بڑی آرزو یہ ہوتی تھی کہ ان کا بیٹا عالمِ دین بنے، قرآن کا حافظ ہو، اور دین کا خادم ہو۔ ماں باپ اپنے بچوں کی جبینوں پر ہاتھ رکھ کر دعا کرتے تھے:
“یا اللہ! میرے بیٹے کو علمِ دین عطا فرما، اسے عالمِ ربانی بنا دے، تاکہ وہ تیرے دین کا جھنڈا بلند کرے!”

مگر آج؟
آج جب ایک نوجوان بچہ بولنا سیکھتا ہے تو باپ کے لہجے میں یہ خواہش جھلکتی ہے:
“بیٹا! یوٹیوبر بن جا، لاکھوں کما لے گا، مشہور ہو جائے گا!”

اور یہی نہیں — اگر کوئی بچہ مدرسے کا رخ کرے، قرآن یاد کرے، یا عالمِ دین بننے کا خواب دیکھے، تو اُسے حقارت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔
سوال ہوتا ہے:
“کیا کرے گا مولوی بن کے؟”
“اس سے تو اچھا ہے یوٹیوبر بن جائے!”
گویا علمِ دین ایک بوجھ بن گیا ہے، اور کیمرہ، لائٹس، ویوز اور سبسکرائبرز ہی کامیابی کی علامت بن چکے ہیں۔

یہ تنزلی صرف فکر کی نہیں، ایمان کی بھی ہے۔
یہ تبدیلی صرف رجحان کی نہیں، مستقبل کی بنیادوں کو ہلانے والی ہے۔

یوٹیوب کا عروج یا علمِ دین کا زوال؟

آج سوشل میڈیا نے جہاں بہت سے فائدے دیے، وہیں ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ نوجوان نسل نے شہرت، اسٹیج، ویوز، اور کمنٹس کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ لیا۔
کون سا گیجٹ نیا آیا؟
کون سا فری لانس کورس کرو؟
کون سا ٹرینڈ پکڑو؟
یہ سب کچھ سیکھنے کی دوڑ ہے
لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا:
“میرے دین کا کیا بنے گا؟”
“میری آخرت کی تیاری کہاں ہے؟”

کیا یہ حقیقت نہیں کہ
آج اگر کوئی نوجوان یوٹیوب پر وائرل ہو جائے تو لوگ اسے دعائیں دیتے ہیں
لیکن اگر کوئی بچہ عالم بننے مدرسہ جائے تو اُسے ترس، طنز اور تحقیر ملتی ہے؟

یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایک قوم اپنی تباہی کی پہلی اینٹ رکھتی ہے۔

دین کا عالم: ایک بوجھ یا نعمت؟

قرآن کہتا ہے:
“یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ”
(اللہ ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے)

مگر آج ہمارے سماج میں
علم والا نظرانداز،
اور گانے والا، ناچنے والا، کھیلنے والا — سر پر بٹھایا جاتا ہے۔

ہماری نئی نسل جب عالمِ دین کو فقیر، مدرسہ کو قید خانہ، اور داڑھی والے کو دقیانوس کہنے لگے —
تو یہ صرف نظریاتی گمراہی نہیں، یہ پورے دین پر عدمِ اعتماد کا اعلان ہے۔

قوم کی رہبری کون کرے گا؟

پوچھو اپنے دل سے:
جب عالمِ دین کی عزت مٹی میں ملا دی جائے،
تو کل کو تمہاری مسجد کا امام کون ہوگا؟
تمہاری بچی کا نکاح کون پڑھائے گا؟
تمہارے مرنے کے بعد جنازہ کس کے ہاتھ ہوگا؟

کیا یوٹیوبر یہ سب کرے گا؟
کیا گیمنگ چینل چلانے والا فتاویٰ دے گا؟
کیا روز بروز کپڑے بدل بدل کر ویڈیوز بنانے والا تمہیں قرآن کی تفسیر پڑھائے گا؟

نہیں!
یہ کام صرف اور صرف اہلِ علم، اہلِ تقویٰ اور علماءِ ربانیین ہی انجام دے سکتے ہیں
جنہیں آج کا سماج غربت، بےعزتی اور حقارت کے گڑھے میں دھکیل رہا ہے۔

اب بھی وقت ہے…

یہ مضمون لکھتے وقت میرا دل رو رہا ہے
کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے اُن والدین کو دیکھا ہے جو کہتے ہیں:
“ہمارے بیٹے کو عالم نہیں بنانا، بس یوٹیوب پر سیٹنگ کر دو!”
اور میں نے اُن بچّوں کو بھی دیکھا ہے جو قرآن پڑھنے سے بھاگتے ہیں، لیکن سکرین پر مشہور ہونے کے لیے رات رات بھر جاگتے ہیں۔

کاش! وہ سمجھ سکتے
کہ علمِ دین بوجھ نہیں
سراسر عزت، رحمت اور نجات کا راستہ ہے۔

نتیجہ: ترجیحات کو بدلو، نہیں تو انجام روئے گا

ہم یوٹیوبرز کے خلاف نہیں
لیکن ہم اُن والدین اور اُس نسل سے درد مندانہ عرض کرتے ہیں:
خدارا! علمِ دین کو بےوقعت نہ کرو۔
علماء کو عزت دو۔
مدرسے کے طالب علم کو محرومی کا شکار نہ بناؤ۔

آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنے گھروں میں علمِ دین کو مرکز بنائیں،
نوجوانوں کے ذہن میں یہ ڈالیں کہ
“یوٹیوب دنیا کا ذریعہ ہے —
لیکن عالمِ دین آخرت کا راستہ ہے!”
اور آخرت ہی اصل زندگی ہے، جہاں شہرت نہیں، صرف عمل چلے گا!

اللّٰہم اجعلنا من أهل العلم والعمل، واجعل شباب أمتنا محبین للعلماء، وخداماً لدینک! آمین یا رب العالمین!

از قلم: محمد صفدر رضا علائی
( مربت پور پیکبان کٹیہار بہار )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *