معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کی کوشش
معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کی کوشش : ایک اہم دینی فریضہ
از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤشریف،باڑمیر(راجستھان)
دنیا میں انسان کی زندگی کا مقصد محض جینا، کمانا اور مر جانا نہیں بلکہ اس کا اصل ہدف اللہ و رسول (جل جلالہ وصلی اللہ علیہ وسلم) کی رضا کا حصول، نیکیوں کی ترویج اور برائیوں کا سدباب ہے۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور ہر فرد اپنے قول و فعل سے معاشرے کو یا تو سنوارتا ہے یا بگاڑتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ جس زوال، فساد، بے حیائی، ناانصافی، مادہ پرستی اور اخلاقی بحران کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے فریضہ کو ترک کر دیا ہے۔
اسلام کا نظریۂ اصلاحِ معاشرہ:
اسلام ایک کامل ضابطۂ حیات ہے جو صرف انفرادی تزکیہ پر نہیں بلکہ اجتماعی تطہیر پر بھی زور دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:”كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ”(آل عمران: 110)
“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔”
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “جس قوم میں نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے نہ ہوں، وہ قوم جلد یا بدیر اللہ کے عذاب کی مستحق بن جاتی ہے۔”
(احیاء علوم الدین، جلد 2، کتاب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، ص 273، دارالفکر)
معاشرتی برائیاں، چند نمایاں مظاہر:
- جھوٹ اور فریب: سچائی معاشرتی اعتماد کی بنیاد ہے، اور جھوٹ اس بنیاد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
- رشوت اور بدعنوانی: یہ نظامِ عدل کو کھا جاتی ہے اور حقدار کو حق سے محروم کر دیتی ہے۔
- غیبت، چغلی اور بہتان: یہ برائیاں معاشرتی اتحاد کو توڑ کر نفرتیں پیدا کرتی ہیں۔
- بدنظری اور بے حیائی: میڈیا اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال نے شرم و حیا کو مٹا دیا ہے۔
- فضول خرچی اور اسراف: معاشرتی نمائش کی دوڑ نے متوسط طبقے کو پریشان کر دیا ہے۔
- ناحق قتل، ظلم اور زیادتی: کمزوروں کو دبانا ایک عام چلن بن چکا ہے۔
- دینی و اخلاقی تربیت کی کمی: اسکولوں، گھروں اور سوسائٹی میں تعلیم تو ہے، تربیت کا فقدان ہے۔
- سوشل میڈیا پر فتنہ انگیزی: فیک نیوز، کردار کشی، دینی اختلافات کو ہوا دینا عام ہو چکا ہے۔
ان برائیوں کا اثر:
اخلاقی انحطاط،معاشرتی بے اعتمادی،نوجوان نسل کی بربادی،دینی غیرت کا فقدان،
عدل و انصاف کا خاتمہ،اتحاد و اتفاق کا بکھر جانا،دین و دنیا میں ناکامی کا خطرہ-
اصلاحِ معاشرہ: کس کی ذمہ داری؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق اصلاحِ معاشرہ کی ذمہ داری ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے، خصوصاً:
- علما کرام: دینی خطابات، دروس، اور تحریرات کے ذریعے لوگوں کو بیدار کریں۔
- اساتذہ و مدارس: نئی نسل کے کردار کو سنواریں، سیرتِ نبوی کا درس عام کریں۔
- والدین: گھریلو ماحول کو نیکی کا گہوارہ بنائیں، بچوں میں دینی شعور پیدا کریں۔
- صوفیاء و مشائخ: روحانی پاکیزگی کے ساتھ معاشرتی شعور بھی اجاگر کریں۔
- حکومتی و سماجی ادارے: قانون سازی، بیداری مہمات اور مثبت میڈیا کے ذریعے کردار ادا کریں۔
- تاجر و صنعت کار: حلال روزی، ایمانداری، سچائی کو اپنائیں اور سماجی خدمات میں حصہ لیں۔
- طلبہ و نوجوانان: سوشل میڈیا و سماجی سرگرمیوں کے ذریعے اصلاحی علمبردار بنیں۔
اصلاح کا طریقۂ کار:
- دعوت و تبلیغ: نرمی، محبت اور حکمت سے لوگوں کو نیکی کی طرف مائل کیا جائے۔
- خود احتسابی: ہر فرد خود سے آغاز کرے، کیونکہ معاشرے کی اصلاح فرد کی اصلاح سے ہوتی ہے۔
- اجتماعی شعور بیداری: اصلاحی مہمات، سیمینار، جلسے، اصلاحی کانفرنسیں، خطبات جمعہ کو مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔
- سوشل میڈیا کا مثبت استعمال: اصلاحی پیغامات، دینی کلپس، اور فکری تحریریں عام کی جائیں۔
- برائی سے نفرت، نہ کہ برے سے: فرد کو نہیں، بلکہ اس کی برائی کو نشانہ بنایا جائے، تاکہ اصلاح کی راہیں کھلیں۔
- نمونۂ عمل بنیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرزِ عمل کو اپنانا اصلاح کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
- مساجد و دینی مراکز کا فعال استعمال: نماز کے ساتھ ساتھ دینی دروس، بچوں کی تربیت اور خواتین کے لیے اصلاحی حلقے جاری کیے جائیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم: مصلحِ اعظم
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ معاشرتی اصلاح کا عظیم نمونہ ہے۔ آپ نے مکہ کے ظلم، جاہلیت، شرک، فحاشی اور ناانصافی کو اخلاقِ حسنہ، عفو و درگزر، عدل، تقویٰ اور علم کے ذریعے مٹایا۔
آپ نے فرمایا:”من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان”
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 49)
ترجمہ: تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے، اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے برا جانے، اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “دلوں کی خرابی دنیا کے بگاڑ کا پیش خیمہ ہے، اور دلوں کی اصلاح دین و دنیا کی فلاح کی کنجی ہے۔”(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، ص 377، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
حاصل کلام یہ ہے کہ اصلاحِ معاشرہ محض ایک سماجی نعرہ نہیں بلکہ ایک عظیم دینی فریضہ ہے۔ جب تک ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس ذمہ داری کو نہیں نبھائیں گے، تب تک معاشرہ بدامنی، انارکی اور زوال کا شکار رہے گا۔ اب وقت ہے کہ ہر فرد، ہر طبقہ، ہر ادارہ اپنی ذمہ داری کو پہچانے اور برائیوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائے۔ کیونکہ معاشرتی اصلاح ہی قوم کی بقا، دین کی ترقی اور رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے۔
بارگاہ رب ذوالجلال میں دعا ہے کہ مولیٰ تعالیٰ!ہمیں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنا سچا بندہ، معاشرے کا خیر خواہ، اور دینِ حق کا سچا داعی بنائے۔ ہمارے دلوں کو تقویٰ، زبانوں کو سچائی اور اعمال کو اخلاص سے معمور فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم)