مقدمہ
مقدمہ : افسانہ
مدثراحمد ، شیموگہ
کمرۂ عدالت میں سناٹا تھا، ایسا سناٹا جو سانسوں کو بھی مجرم بنا دے۔ سامنے کٹہرے میں ایک نحیف، سفید لباس میں لپٹی ہوئی شخصیت کھڑی تھی۔
آنکھوں میں دھندلاپن، چہرے پر مایوسی کی شکنیں اور ہونٹوں پر نمکین سی خاموشی۔یہ اردو تھی۔جج نے چہرہ اُٹھایا، قلم کو انگلیوں میں گھمایا، اور کاغذ پر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا:اردو زبان، تم پر الزام ہے کہ تم مر رہی ہو۔
تمہیں دفن کرنے کی تیاری ہو چکی ہے، تمہیں سکولوں، کالجوں اور بازاروں سے نکال دیا گیا ہے۔ تمہارے لفظ اب لوگوں کو پرانے طرز کی چیز لگتے ہیں۔ تم پر الزام ہے کہ تم نے وقت کے ساتھ نہیں چلا سکی، تم غیر ضروری ہو گئی ہو۔ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟
اردو نے نگاہیں اُٹھائیں، گلا صاف کیا، اور آہستہ سے بولی ،میری زبان کمزور ہوئی، مگر میرا قصور نہیں تھا۔ میں تو آج بھی وہی محبت، وہی تہذیب، وہی روشنی ہوں جو کبھی غالب، میر، اقبال، اور فیض کے اشعار سے جگمگاتی تھی۔
میں تو آج بھی چاہتی ہوں کہ بچوں کی زبان پر ‘امّی کا پہلا لفظ ہو، نہ کہ ‘ماما یا ممی۔ میں چاہتی تھی کہ ‘محبت کو اب بھی ‘Love’ سے بہتر سمجھا جائے۔ لیکن۔۔۔اردو کی آواز ٹوٹ گئی۔
جج نے سر اُٹھا کر کہا،لیکن کیا؟۔۔اردو نے نم آنکھوں سے کمرۂ عدالت میں بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا، جن میں کچھ پرانے شاعر، کچھ بڑے ادیب، اور چند اردو اساتذہ بیٹھے تھے۔یہی میرے قاتل ہیں
اردو چیخ اٹھی۔یہی لوگ جو خود کو میرے محافظ کہتے ہیں، میرے وجود کے سب سے بڑے دشمن نکلے۔کمرے میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ کچھ لوگ شرمندگی سے نظریں جھکا بیٹھے۔
اردو آگے بولی ۔شاعر جو اب مشاعروں میں صرف داد کے طالب ہیں، علم کے نہیں۔ ادیب جو لفظوں کو کمرشل بنا چکے، جذبوں کو بیچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ استاد جو اب صرف ملازمت کے لیے اردو پڑھاتے ہیں، محبت سے نہیں۔
اور سب سے بڑا ظلم۔۔ یہ کہ انہوں نے اپنی زبان کو محدود کر دیا، اپنی محفلوں میں، اپنے حلقوں میں، ایک دوسرے کے شعروں پر واہ واہ کرتے رہے، مگر بچے انگریزی اسکولوں میں
‘What is your name’
سے آگے نہ بڑھ سکے۔عدالت میں خاموشی چھا گئی۔اردو نے لرزتی آواز میں کہامجھے دشمنوں نے نہیں، اپنوں نے مارا ہے۔
میری لاش پر جو بھی نوحہ پڑھا جا رہا ہے، وہ بھی اردو میں نہیں، انگریزی میں ہے۔
جج نے کچھ لمحے خاموشی اختیار کی، پھر قلم رکھا اور فیصلہ سنایا۔۔اردو قصوروار نہیں، مقتول ہے۔ اور قاتل وہ لوگ ہیں جو اس کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے۔
اردو نے آخری بار مسکرا کر کہا۔۔اگر تم مجھے بچانا چاہتے ہو، تو صرف تقریری مقابلوں سے نہیں، اپنے بچوں کی زبان سے کرو، اپنی سوچ سے کرو۔ میں آج بھی زندہ ہو سکتی ہوں، اگر تم چاہو۔عدالت برخاست ہو گئی۔