تعلیم سے دوری کا انجام
تعلیم سے دوری کا انجام
از قلم: محمد صفدر رضا علائی، مربت پور پیکبان، کٹیہار (بہار)
تعلیم انسان کی اصل دولت ہے، جو اسے بلندی عطا کرتی ہے، عزت بخشتی ہے، اور دنیا و آخرت کی فلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔
یہی تعلیم انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت و بصیرت کی روشنی عطا کرتی ہے۔
مگر افسوس! آج مسلمان تعلیم سے دُور ہوتے جا رہے ہیں، اور اسی دوری نے ہمیں پستی، کمزوری، اور محرومی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔تعلیم سے دوری کا سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ انسان اپنی اصل پہچان کھو دیتا ہے۔
وہ نہ قرآن کی عظمت سمجھتا ہے، نہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے واقف ہوتا ہے۔ وہ اپنی تہذیب، تاریخ، اور روحانی میراث سے غافل ہو کر اغیار کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی کئی لوگ علم کو دنیاوی چیز سمجھ کر اسے ترک کیے بیٹھے ہیں، حالانکہ علم تو دین و دنیا دونوں کا زینہ ہے۔ جو قومیں علم کو اپناتی ہیں، وہ آسمانوں کو چھو لیتی ہیں، اور جو علم سے دُور ہو جاتی ہیں، وہ پستی کی تاریکیوں میں گم ہو جاتی ہیں۔
والدین بچوں کو صرف روزی کمانے والا بنانا چاہتے ہیں، دین دار اور بااخلاق انسان بنانا ان کی فکر میں شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان بے راہ رو، بے مقصد، اور دین سے دور ہو چکا ہے۔
الحاصل: تعلیم سے دوری صرف ایک فرد کا نہیں، پوری ملت کا زوال ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم علم کو اپنا شعار بنائیں، اپنے بچوں کو دینی و عصری تعلیم دونوں سے آراستہ کریں
اور مدارس و مکاتب سے مضبوط رشتہ قائم رکھیں۔ یہی راستہ ہماری بقا کا، عزت کا، اور کامیابی کا ہے۔