محبان جہانیاں کمیٹی کی سالانہ مجلس مشاورت بحسن وخوبی اختتام پزیر

Spread the love

سہلاؤشریف میں تقریب افتتاح بخاری شریف و شاخہائے انوارمصطفیٰ و محبان جہانیاں کمیٹی کی سالانہ مجلس مشاورت بحسن وخوبی اختتام پزیر

حسب دستور سابق مغربی راجستھان کی عظیم وممتاز اور علاقۂ تھار کی مرکزی دینی، تربیتی وعصری درس گاہ “دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر،راجستھان” کی عظیم الشان “غریب نوازمسجد” میں 10شوال المکرم 1446 ہجری مطابق 9 اپریل 2025 عیسوی بروز چہارشنبہ
انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ “جشن افتتاح بخاری شریف” کا پروگرام منعقد ہوا


اس پروگرام کی شروعات تلاوت کلام ربانی سے کی گئی،بعدہ یکے بعد دیگرے دارالعلوم کے کئی خوش گلو طلبہ اور معروف ثناخوانان مصطفیٰ حضرت مولاناقاری محمد جاوید صاحب سکندری انواری و حضرت حافظ وقاری عطاؤالرحمن صاحب قادری انواری نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نعت خوانی کاشرف حاصل کیا-
پھر طلیق اللسان حضرت مولانا محمدحسین صاحب قادری انواری نے بالاختصار درس بخاری کی عظمت واہمیت پر روشنی ڈالنے کے ساتھ اس پروگرام میں تشریف لائے سبھی حضرات کا شکریہ ادا کیا اور شہزادۂ مفتئ تھار حضرت مولانا عبدالمصطفی صاحب نعیمی سہروردی ناظم اعلیٰ وشیخ الحدیث دارالعلوم انوار غوثیہ سیڑھوا کو افتتاح بخاری شریف کروانے کے لیے مدعو کیا-

آپ نے اولاً اپنے خطاب میں حضرت امام بخاری کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بخاری شریف کی جمع وترتیب کی کیفیت وغیرہ پر عمدہ اورمعلوماتی خطاب کیا-پھر آپ نے طلبۂ فضیلت کو “افتتاح بخاری” کی اس تقریب میں بخاری شریف کی پہلی حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ “صحیح بخاری شریف دیگر تمام کتابوں پر اس وجہ سے فائق ہے کہ اس میں امام بخاری نے نہایت محتاط طریقہ پر اعلیٰ درجہ کی صحیح احادیث جمع فرمائی ہیں۔

اور بعد کے محدثین نے ان احادیث کو جانچا تو صحیح پایا۔ امام بخاری نے خوب شہرت و مقبولیت حاصل کی، ان کے ہم عصروں حتی کہ ان کے شیوخ تک نے ان کا اعتراف کیا، ان کے بعد کے علما نے حدیث و علوم حدیث میں ان کی امامت کا لوہا مانا،یہاں تک کہ انھیں امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے یاد کیا گیا۔

صحیح بخاری کا اصل نام «الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ» ہے جو «صحیح البخاری» کے نام سے مشہور ہے، یہ کتب احادیث میں سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے، اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے 16 سال کی مدت میں بڑی جانفشانی,عقیدت واحترام اور عرق ریزی واہتمام کے ساتھ لکھا ہے،اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے۔
محدثین کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور اسے حدیث پاک کی چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے، خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے،اسے قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب کا درجہ حاصل ہے اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے، یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد، احکام، تفسیر، تاریخ، زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو۔

موصوف نے مزید کہا کہ :اس کتاب نے امام بخاری کی زندگی ہی میں بڑی شہرت و مقبولیت حاصل کر لی تھی، بیان کیا جاتا ہے کہ اس کتاب کو تقریباً ستر ہزار سے زائد لوگوں نے اُن سے پڑھا اور سماعت کی، اس کی شہرت اسی زمانہ میں عام ہو گئی تھی۔
چناں چہ بے شمار کتابیں اس کی شرح، مختصر،تعلیق، مستدرک، تخریج اور علومِ حدیث وغیرہ پر بھی لکھی گئیں، یہاں تک کہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام بخاری کے زمانے میں ہی اس کی شروحات کی تعداد بیاسی (82) سے زیادہ ہو گئی تھی۔حضرت امام بخاری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی اور وہ اس سے ظاہر ہے کہ امیرالمومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری نے اپنی پوری زندگی اتباع سنت اور احادیث نبویہ کی تحقیق وتفتیش اور پھر تدریس و اشاعت میں صرف کی-
آپ کاقوت حافظہ نرالا اور غیرمعمولی تھا،آپ کو “جبل الحفظ” کہاجاتا تھا،استاد سے جو حدیث سنتے یا کسی کتاب پر نظر ڈالتے وہ آپ کے حافظہ میں محفوظ ہوجاتی تھی،علم حدیث کے ساتھ آپ دیگر کئی علوم وفنون کے ماہرتھے

.”ساتھ ہی ساتھ آپ نے دارالعلوم انوارمصطفیٰ کی عمدہ کارکردگی اور اس کی تعمیر وترقی پر دارالعلوم کے مہتمم وشیخ الحدیث نورالعلماء شیخ طریقت حضرت علامہ الحاج سید نوراللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی کو مبارک باد پیش کرنے کے ساتھ اپنی دعاؤں اور حوصلہ افزاکلمات سے نوازا-صلوٰة وسلام،اجتماعی فاتحہ خوانی اور نورالعلماء حضرت علامہ الحاج سید نوراللہ شاہ بخاری کی دعا پر یہ مجلس سعید اختتام پزیر ہوئی


بعدہ بعد نماز ظہر شاخہائے دارالعلوم کے مدرسین کرام، ابنائے قدیم وجدید بالخصوص محبان جہانیاں کمیٹی کی عظیم الشان سالانہ مجلس مشاورت کی پہلی نشست منعقد ہوئی جس میں شاخہائے ادارہ کے نگراں حضرت مولانا محمدحسین صاحب قادری انواری نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا جس میں آپ نے سبھی شرکاء کا استقبال کرنے کے ساتھ میٹنگ کے اغراض و مقاصد کو واضح کیا اور ساتھ ہی ساتھ سال گذشتہ اپنی نگرانی کے دوران ادارہ کی شاخوں کے جن خوبیوں و خامیوں کو انہوں نے محسوس کیا اس کی بھی وضاحت کرنے کے ساتھ اچھی کارگردگی پیش کرنے والوں کی تعریف وتحسين کی جب کہ وہ حضرات جن کی طرف سے کچھ کمی رہ گئی تھی انہیں نرمی اور الفت و محبت کے ساتھ اپنی تعلیمی شاخوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی ہدایت و مشورے دیے


الحمدللہ اس مجلس مشاورت میں دارالعلوم و شاخہائے دارالعلوم کی تعمیر و ترقی اور محبان جہانیاں کمیٹی کے بینر تلے دین وسنیت کی بہتر سے بہترخدمات اور معاشرہ میں رائج غلط رسم رواج کے خاتمہ،نیز ان کے علاوہ بہت سارے امور پر تبادلۂ خیالات کیے گیے


پھر دارالعلوم کے ناظم تعلیمات استاذ گرامی ادیب شہیر حضرت علامہ مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے اس عظیم الشان مجلس مشاورت کے اغراض ومقاصدپر مختصر روشنی ڈالنے کے ساتھ شاخہائے ادارہ کے مدرسین کرام نیز محبان جہانیاں کمیٹی کے جملہ ممبران کو اپنی باتیں رکھنے اور مفید تجاویز پیش کرنے کی دعوت دی


اولا محبان جہانیاں کمیٹی کے محاسب حضرت مولانا فخرالدین صاحب انواری نے محبان جہانیاں کمیٹی کی مکمل سالانہ کارکردگی (حساب و کتاب،آمدوخرچ) کمیٹی کے ممبران کے سامنے پیش کرنے کےساتھ سبھی شرکائے مجلس سے آئندہ کمیٹی کون سے مفید دینی و اصلاحی کام کرے اس تعلق سے لوگوں سے مشورے طلب کیا، کمیٹی کے لوگوں نے بہت سارے مفیدوکارآمد مشوروں سے نوازا


اور اسی مجلس میں شاخہائے ادارہ کی کی گذشتہ کارگذاریاں بھی پیش کی گئیں اور جن تعلیمی شاخوں کی کارگردگی بہتر و عمدہ رہی ان کی تعریف و تحسین کے ساتھ دیگر مدرسین کرام کو شاخہائے ادارہ کو بہتر سے بہترین بنانے کی نصیحت کرنے کے ساتھ کچھ عمدہ، قابل عمل ومفید ہدایات بھی دی گئیں اور ساتھ ہی ساتھ اسی مجلس میں شاخوں کے بعض مدرسین کی جائز شکایات و مطالبات کو سننے کے بعد ان کے ازالہ کا بھی وعدہ کیا گیا-

اور جن تعلیمی شاخوں کے مدرسین نے اپنی سابقہ جگہوں سے مستعفی ہو کر نئی جگہوں کے خواہاں ہوئے تو ان کو یا تو مناسب جگہوں پر فوراتبادلہ کیا گیا یا عنقریب ذمہ دان سے مشاورت کے بعد تبادلہ کا وعدہ کیا گیا اور کچھ مدرسین وائمہ کی ازسرنو نئی جگہوں پر تقرری بھی اسی مجلس مشاورت بھی عمل میں آئی اور جن نئی آبادیوں، قصبوں یا گاؤں کے ذمہ داران نے جدید تعلیمی شاخ کےقیام کی ارکان ادارہ کو درخواست پیش کی تھی تو باہمی مشاورت اور درخواست دہندہ آبادیوں کا جائزہ لینے کے بعد نئی تعلیمی شاخ بھی قائم کرنے اور اس کی مکمل تعلیمی دیکھ ریکھ ونگرانی اور جزوی تعاون کی ذمہ داری بھی ارکان ادارہ نے اپنے سرلی-
فی الحال دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤشریف کے ماتحت 86 مدارس ومکاتب چل رہے ہیں- دارالعلوم انوارمصطفیٰ کے ماتحت اس قدر کثیر تعداد میں مدارس ومکاتب کا بحسن وخوبی نونہالان اسلام کی تعلیم وتربیت کرنا یقیناً یہ بہت بڑی خدمت ہے-

اتنے بڑے پیمانہ پر تعلیم وتعلم کے فروغ اور دین وسنیت کی خدمات جہاں امت مسلمہ کے اہل خیر حضرات کے تعاون کا نتیجہ ہے وہیں ادارہ کے موجودہ مہتمم وشیخ الحدیث نورالعلماء شیخ طریقت حضرت علامہ الحاج سید نوراللّٰہ شاہ بخاری مدظلہ العالی کی حکمت عملی ،جد وجہد اور کوشش وکاوش کاثمرہ ہے-

یونیورسٹی جاتے علما! ایک تجزیہ

تعلیم اور علم کی اہمیت اسلامی نقطہ نظر سے

عربوں کے جھرمٹ میں مسلمانوں کی نسل کشی

ان لنکوں پر کلک کرکے خرید داری کریں  اور پیسے بچائیں 

Click here

Click here

Click here

0https://clnk.in/tGlj

اللّٰہ تعالیٰ قبلہ سید صاحب کے علم وعمل اور عمر واقبال میں خوب خوب برکتیں عطافرمائے اور آپ کی دینی وملّی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے-آمین!
بعد نماز عصر مجلس مشاورت کی دوسری نشست کا آغاز حضرت مولانا خیرمحمد صاحب قادری انواری کے زریعہ تلاوت قرآن پاک سے کی گئی –
پھر سرپرست مجلس نورالعلماء پیرطریقت حضرت علامہ الحاج سیدنوراللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی کے سامنے دارالعلوم کے ناظم تعلیمات ادیب شہیر حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے دوسری مجلس کی مکمل رپورٹ کی تلخیص پیش کی اور قبلہ سید صاحب نے اس کی روشنی میں اپنے کلیدی خطاب میں دوسری مجلس میں اتنے سارے امور کے بحسن وخوبی طیے ہونے پر سبھی شرکاء کو مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ اپنی قیمتی، کارآمد اور بہت ہی مفید ناصحانہ خطاب سے نوازنے کے ساتھ اپنے رو بر سبھی شرکاء کو بھی اپنی طرف سے دارالعلوم و شاخہائے دارالعلوم کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنے مفید تاثرات ومشوروں سے بلاجھجھک پیش کرنے کی درخواست کی، بہت سے فارغین نے اپنی قیمتی آرا سے نوازا بعدہ قلت وقت کی وجہ سے مابقیہ حضرات کے تاثرات اور اسے عمل درآمد کے لیے تیسری مجلس کا انتخاب ہوا-
چنانچہ بعد نماز مغرب سبھی حضرات لنگر بخاری سے محظوظ ہوئے اور پھر بعد نماز عشاء تیسری نشست کا بھی آغاز حضرت مولانا حافظ وقاری محمد اسماعیل صاحب انواری کے ذریعہ تلاوت کلام ربانی سے ہوا-
بعدہ حضرت مولانا محمدحسین صاحب قادری انواری و معروف ثنا خوان رسول حضرت مولانا قاری محمد جاوید صاحب سکندری انواری نے مشترکہ طورپر نورالعلماء پیرطریقت حضرت علامہ الحاج سیدنوراللہ شاہ بخاری کا سندھی زبان میں لکھا ہوا ایک نیا اور انتہائی وجدآفریں وشاندار کلام بہت ہی عقیدت و محبت کے ساتھ پڑھا-
قبلہ سید صاحب نے پھر لوگوں کی خواہش پر اپنے ناصحانہ خطاب سے نوزا اور ساتھ ہی ساتھ آپ نے محبان جہانیاں کمیٹی کی خدمات کو وسیع سے وسیع تر کرنے کے تعلق سے کمیٹی کے ذمہ داران و جملہ ممبران سے اپنے مشوروں سے آگاہ کرنے کی گذارش کی- چنانچہ اس آخری مجلس میں پھر وہ اہم حضرات جنہوں نے گزشتہ دونشستوں مین اپنی بات نہیں رکھ سکے تھے انہوں نے انتہائی قیمتی و کارآمد مشوروں سے نوازا-
ان تینوں نشستوں میں مندرجہ ذیل حضرات نے دارالعلوم و شاخہائے دارالعلوم، محبان جہانیاں کمیٹی،تعلیم وتعلم کی نشرواشاعت اور اصلاح معاشرہ کے تعلق سے اپنے وقیع تاثرات و نظریات پیش کیے-
ادیب شہیر استاذگرامی حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی ناظم تعلیمات دارالعلوم ھٰذا،حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب قادری انواری آفس انچارج دارالعلوم ھٰذا، حضرت مولانا عبدالسبحان صاحب انواری صدر محبان جہانیاں کمیٹی، مولانا محمدحسین صاحب قادری انواری نگراں شاخہائے ادارہ،حضرت مولانا فخرالدین صاحب انواری محاسب محبان جہانیاں کمیٹی ، مولانا روشن القادری انواری،مولانا عبد المبین قادری انواری،مولانامحمد انصاف علی انواری، مولانا محمد حمزہ انواری،مولانا محمد روشن انواری،مولانا ریاض احمد سکندری انواری،مولانا علی محمد قادری اشفاقی،مولانا اکرام الدین قادری انواری، مولانارحمت اللہ انواری، مولاناسراج الدین قادری انواری،فقیر راقم الحروف(محمدشمارعلی قادری انواری) وغیرہم-
نورالعلماء حضرت قبلہ سید صاحب کی دعا پر یہ مجلس اختتام پزیر ہوئی-
رپورٹ:محمد شمار علی قادری انواری
میڈیا انچارج:محبان جہانیاں کمیٹی دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤشریف،ضلع باڑمیر (راجستھان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *