حضرت علی کو حضرت ابوبکر سے افضل کہنا

Spread the love

حضرت علی کو حضرت ابوبکر سے افضل کہنا

از قلم: محمد صفدر رضا علائی
( مربت پور پیکبان کٹیہار بہار)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل کہنا – ایک تحقیقی و اعتقادی جائزہ

آج ہمارا دور ایسا آ گیا ہے کہ لوگ صحابۂ کرام جیسے مقدس اور منتخب طبقے پر بھی زبان درازی سے باز نہیں آتے۔ افسوس! کہ جنہوں نے قرآن کو ہم تک پہنچایا، دین کی راہوں کو صاف کیا، جن کی تلواروں، آنکھوں کے آنسوؤں اور دلوں کے تقویٰ سے اسلام زندہ ہوا، آج انہی میں افضلیت کے نام پر تفریق کی جا رہی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، شیرِ خدا، دامادِ رسول، بابِ مدینۃ العلم!
اور دوسری طرف
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، افضل البشر بعد الانبیاء، ثانی اثنین اذ هما فی الغار، سب سے پہلے ایمان لانے والے مرد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیقِ خاص، اور آپ کے بعد سب سے پہلے خلیفہ۔

آج کچھ لوگ، نام نہاد علمی بحثوں کے پردے میں یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ:
“حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔”
ان سے پوچھا جائے: یہ بات کس قرآن میں لکھی ہے؟ کس حدیثِ صحیح میں ہے؟ کس صحابی نے یہ بات کہی؟
نہ قرآن گواہی دیتا ہے، نہ حدیث، نہ اجماعِ صحابہ، نہ فہمِ امت!

بلکہ اجماعِ صحابہ، اجماعِ تابعین، اجماعِ ائمہ اہل سنت یہ ہے کہ:
“حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام صحابہ میں سب سے افضل ہیں۔”

امام طحاوی رحمہ اللہ اپنے عقیدے میں لکھتے ہیں:
“وأفضل الناس بعد النبيين أبو بكر، ثم عمر، ثم عثمان، ثم علي، وهم الخلفاء الراشدون المهديون.”

ترجمہ: نبیوں کے بعد سب سے افضل انسان ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی۔

یہی عقیدہ تھا امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا۔
یہی عقیدہ تھا صحابہ کے شاگردوں کا، اور یہی عقیدہ ہے اہلِ سنت کا۔

پھر کون ہیں وہ لوگ جو اس بات کو چھیڑ کر امت میں اختلاف کا بیج بوتے ہیں؟
یہی وہ فتنہ ہے جس سے ہمیں ہوشیار رہنا ہے۔ یہ عقیدے کا معاملہ ہے، اس میں معمولی سی لغزش بھی آدمی کو اہلِ سنت کے دائرے سے نکال سکتی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں:
“أفْضَلُ هذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ” (مسند احمد)
ترجمہ: “اس امت میں نبی کریم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر۔”

جب خود حضرت علی، حضرت ابوبکر کو افضل مانتے ہیں، تو ہمیں کس کی پیروی کرنی ہے؟ حضرت علی کی یا ان بدعقیدہ لوگوں کی؟

یہ سب کچھ سوچ کر دل روتا ہے کہ آج بعض نوجوان، جو جذبات سے بھرا ہوا دل رکھتے ہیں مگر علم سے خالی ہیں، وہ ان گمراہ کن باتوں میں پھنس کر اپنا عقیدہ برباد کر بیٹھتے ہیں۔

آئیے! ہم اس فتنہ کی سرکوبی کریں۔
یہ نہ صرف عقیدے کی اصلاح کا تقاضا ہے، بلکہ صحابہ سے سچی محبت کا بھی یہی تقاضا ہے۔
جو علی کو مانتا ہے، وہ ابوبکر کا گستاخ نہیں ہو سکتا۔
جو اہل بیت سے محبت کرتا ہے، وہ صحابہ کی عظمت کا انکار نہیں کرتا۔

سب سے افضل: ابوبکر
پھر: عمر
پھر: عثمان
پھر: علی
(رضی اللہ عنہم اجمعین)

یہی ہے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ، یہی ہے نجات کی راہ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کے ادب و احترام کی توفیق عطا فرمائے، اور ان فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم


از قلم محمد صفدر رضا علائی
( مربت پور پیکبان کٹیہار بہار )

One thought on “حضرت علی کو حضرت ابوبکر سے افضل کہنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *