دارالہدی بنگال کیمپس کے زیر اہتمام حفظ القرآن اکیڈمی کا افتتاح
دارالہدی بنگال کیمپس کے زیر اہتمام حفظ القرآن اکیڈمی کا افتتاح ، نئی کلاسز کا باضابطہ آغاز
بھیم پور پیکار (پریس ریلیز)
ملک ہند کے معروف علمی و روحانی مرکز دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، بھیمپور کے زیر انتظام حفظ القرآن اکیڈمی اور CPET کے افتتاحی پروگرام کا انعقاد آج نہایت تزک و احتشام کے ساتھ عمل میں آیا۔
اس پرنور تقریب میں علاقے کے جید علما، معزز شخصیات، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت فرما کر پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا۔تقریب کا آغاز جامعہ کے خوش الحان طالب علم اویس قرنی کی ولولہ انگیز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، پھر دارالہدیٰ بنگال کیمپس کے پرنسپل صدیق الاکبر ہدوی صاحب نے تمہیدی کلمات پیش کر مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔
اس کے بعد دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کے موقر وائس چانسلر اہل سنت کے رہنما علامہ ڈاکٹر بہاؤ الدین محمد فیضی صاحب نے رسمِ بسم اللہ ادا کی اور اپنے بصیرت افروز خطاب میں قرآن کریم کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ:قرآن کریم نہ صرف ہدایت کا سرچشمہ ہے بلکہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کی کامیابی کا ضامن بھی ہے۔ دینی تعلیمات کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب اپنانا آج کی ایک اہم ضرورت ہے، اور دارالہدی اسی مشن کے ساتھ سرگرم عمل ہے
۔”انہوں نے مزید کہا کہ دارالہدی اسلامک یونیورسٹی نہ صرف روایتی دینی تعلیم فراہم کر رہی ہے بلکہ جدید تعلیمی ضروریات کو بھی خوش اسلوبی سے پورا کر رہی ہے۔ یہاں حفظ القرآن، درس نظامی، عصری تعلیم، عربی و انگریزی زبانوں کی ترویج، اور تحقیقی میدان میں نمایاں خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔
پروگرام کے مہمانِ خصوصی مفتی نور الہدی صاحب نے بھی اپنے خطاب میں حفظ القرآن کی اہمیت اور قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ رونقِ اسٹیج بنے دیگر معزز اساتذہ کرام جیسے حضرت مولانا حافظ و قاری عبدالقادر ہدوی اتر پردیش ،مفتی توقیر ثقافی صاحب جھارکھنڈ، ڈاکٹر مشرف حسین MLA اور ابراہیم حاجی صاحبان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تقریب میں صدارتی کلمات دارالہدی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یو شافعی حاجی صاحب نے فرمائی۔
انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام معاونین، سرپرستوں، مخیر حضرات اور والدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حفظ القرآن اکیڈمی کے قیام کو علاقے میں دینی علوم کے فروغ کی سمت ایک سنگِ میل قرار دیا۔انہوں نے کہا:حفظِ قرآن کا سفر محض فرد کی روحانی ترقی نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کا عظیم ذریعہ ہے
۔”آخر میں سالانہ امتحان میں اول نمبر لانے والے طلباء کو انعام سے نوازا گیا۔
پھر اجتماعی دعا ہوئی جس میں ملک و ملت کی سلامتی، امت مسلمہ کی فلاح، اور دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کی مزید ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں
علاقے کے دینی اور سماجی حلقوں نے دارالہدی کے اس عظیم اقدام کو دل کھول کر سراہا اور اس ادارے کو ایک قیمتی علمی و روحانی سرمایہ قرار دیا۔ خبر مرسل خالد رضا تابش ۔