اسلام امن و سلامتی کا مذہب دہشت گردی سے اس کا کوئی تعلق نہیں
اسلام امن و سلامتی کا مذہب دہشت گردی سے اس کا کوئی تعلق نہیں
از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم: دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤشریف،باڑمیر (راجستھان)
جب دنیا ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، اور بدامنی کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی، جب مظلوموں کی آہیں فضاؤں میں بکھری ہوئی تھیں اور عدل و رحم کے چراغ بجھ چکے تھے،
ایسے پرآشوب دور میں اللہ رب العزت نے اپنے آخری نبی،حضور تاجدارِ مدینہ، نبی رحمت، محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تاکہ انسانیت کو امن، محبت، عدل، بھائی چارے اور احترامِ انسانیت کا ابدی درس دیا جائے۔
اسلام کا پیغام سراپا سلامتی ہے۔ اور خود لفظ “اسلام” ہی “سلامتی” اور “امن” سے نکلا ہے۔
اللہ رب العالمین کا ایک بابرکت نام “ٱلسَّلَامُ” (سلامتی والا) ہے، اور قرآنِ پاک کی تعلیمات کا مرکزی پیغام بھی امن، عدل اور رحمت ہے۔
اسلام کا پیغامِ امن، قرآنی اور نبوی تعلیمات
اسلام نے اپنی جامع تعلیمات کے ذریعے ہر پہلو سے امن، عدل، انصاف اور احترامِ انسانیت کو فرض قرار دیا ہے جیساکہ
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
مَن قَتَلَ نَفْسًۭا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا ۖ
“جس نے کسی ایک انسان کو بغیر قصاص یا زمین میں فساد کے قتل کیا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا۔”
(سورۃ المائدہ، 5:32)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده.
“(حقیقی) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 10، صحیح مسلم، حدیث: 40)
یعنی ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کے قول و فعل سے کسی انسان کو ادنیٰ سا بھی نقصان نہ پہنچے۔
اس سے واضح ہوا کہ دہشت گردی، ظلم، قتل و غارت گری اور بدامنی، اسلامی تعلیمات کی کھلی مخالفت ہے۔
اسلام کی تعلیمات میں امن و سلامتی کا عملی مظاہرہ:
وضو میں بھی اسراف سے ممانعت
اسلام نے نہ صرف انسانی جان کا تحفظ کیا بلکہ وسائل کی حفاظت کی بھی سخت تاکید کی۔کیونکہ اسلام وہ مذہب مہذب ہے جو وضو میں بلا ضرورت پانی کا ضیاع بھی پسند نہیں کرتا جیساکہ
نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وضو میں زیادہ پانی استعمال کرتے دیکھ کر فرمایا:
ما هذا السرف يا سعد؟
“اے سعد! یہ اسراف(فضول خرچی) کیا ہے؟”
حضرت سعد نے عرض کیا:
“کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟”
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
نعم وإن كنت على نهر جارٍ.
“ہاں، اگرچہ تم جاری نہر کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔”
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 425)
غور کیجئے!
جو دین وضو کے پانی کے ایک قطرے کے ضیاع کو ناپسند کرتا ہے، وہ کسی بے گناہ انسان کے خون بہانے کو کیسے جائز قرار دے سکتا ہے؟
پرندے کے بچوں پر شفقت
ایک سفر کے دوران چند صحابہ نے ایک پرندے کے گھونسلے سے اس کے بچے نکال لیے۔
پرندہ بے قراری سے چکر کاٹنے لگا۔
جب نبی کریم ﷺ نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا:
من فجع هذه بولدها؟ ردوا ولدها إليها!
“کس نے اس پرندے کو اس کے بچوں سے جدا کر دیا؟ اس کے بچوں کو اس کے پاس واپس رکھو!”
(سنن ابی داود، حدیث: 2675)
جس نبی ﷺ کی رحمت ایک ننھے پرندے کے لیے تڑپ اٹھے، وہ کسی بے قصور انسان پر ظلم کو کیسے جائز قرار دے سکتے ہیں؟
اسلام میں جنگ کے آداب:
اسلام نے نہ صرف امن قائم کرنے کا حکم دیا بلکہ حالتِ جنگ میں بھی عدل، رحمت اور احترامِ انسانیت کا درس دیا۔
نبی اکرم ﷺ نے جہاد کے موقع پر فرمایا:
انطلقوا باسم الله، وعلى ملة رسول الله، لا تقتلوا شيخًا فانيًا ولا طفلاً صغيرًا ولا امرأة…
“اللہ کے نام سے نکلو، اللہ کے رسول کے طریقے پر۔ کسی بوڑھے، بچے اور عورت کو قتل نہ کرو…”
(سنن ابی داود، حدیث: 2614)
حتیٰ کہ درختوں کو کاٹنے اور کھیتیوں کو جلانے سے بھی منع فرمایا۔
یہ تعلیمات بتاتی ہیں کہ
اسلام کا مقصد دنیا میں فساد نہیں، بلکہ عدل و انصاف کے ذریعے امن و سکون کا قیام ہے۔
اسلامی تاریخ میں امن کے درخشاں نقوش:
میثاقِ مدینہ:
مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی ریاست کے قیام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر قبائل کے درمیان ’’میثاقِ مدینہ‘‘ طے فرمایا۔
یہ معاہدہ مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور عدل و انصاف کی اولین تحریری دستاویز ہے، جس نے کثیر المذاہب معاشرے میں پرامن بقائے باہمی کی بنیاد رکھی۔
فتح مکہ:
جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو وہ دشمن جو برسوں حضور نبی رحمت ﷺ اور صحابہ کرام پر ظلم و ستم ڈھاتے رہے تھے، بے بس کھڑے تھے۔
مگر نبی رحمت ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا:
اذهبوا فأنتم الطلقاء.
“جاؤ، تم سب آزاد ہو!”
(السیرۃ النبویہ لابن ہشام، ج:2، ص:412)
یہ انسانیت نوازی کی بے مثال اور تابندہ مثال ہے
- حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت:
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں بیت المقدس فتح ہوا تو ذمیوں (غیر مسلم شہریوں) کو مذہبی آزادی، جان و مال کی حفاظت، اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی گئی۔
یہی وہ حقیقی روح ہے جس نے اسلام کو قیامت تک کے لیے امن و سلامتی کا علمبردار بنا دیا۔
قرآنِ مجید کی مزید ہدایات:
اللہ رب العزت فرماتا ہے:
اُنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَـٰنِ وَإِيتَآءِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ.
“بے شک اللہ تعالیٰ عدل، احسان اور قرابت داروں کو (ان کا حق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔”
(سورۃ النحل، 16:90)
یہ وہ سنہرے اصول ہیں جن پر انفرادی زندگی سے لے کر عالمی سطح تک دیرپا اور حقیقی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
آج کی دنیا اور ہماری ذمہ داری:
افسوس! آج چند شرپسند عناصر دہشت گردانہ کارروائیوں کو دانستہ یا نادانستہ اسلام سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اسلام کا دہشت گردی، خونریزی اور ظلم سے کوئی واسطہ نہیں۔
دہشت گردی نہ دین کی شناخت ہے نہ ملت کا نشان،
یہ محض انسانیت دشمنی اور حیوانیت ہے۔
اسلام کا ابدی پیغام یہی ہے:
“رحمت، محبت، عدل، اخوت، اور انسانیت کی خیر خواہی۔”
لہٰذا آج ہماری ذمہ داری ہے کہ:
ہم اپنے کردار و عمل سے اسلامی تعلیمات کا خوبصورت نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں؛
علم،عمل ،حلم، صبر اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے اسلام کے پرامن چہرے کو روشن کریں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرمائے،
اور ہمیں اسلام کے اس روشن اور پرامن چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔