قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت

Spread the love

قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت

از؛ محمد اشفاق عالم الأمجدی العلیمیٓبچباری آبادپور کٹیــــــــــــــہار (بہار)

قربانی کا معنی قربانی کا لفظ “قرب” سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی ہیں: “نزدیکی” یا “قریب ہونا”۔

عربی زبان میں “قُرْب” اس حالت کو کہتے ہیں جس میں انسان کسی کے قریب ہو جائے۔ چوں کہ قربانی کے ذریعے بندہ اللّہ تعالیٰ کا قرب اور رضا حاصل کرنا چاہتا ہے، اسی لیے اس عبادت کو “قربانی” کہا جاتا ہے۔شریعت کی اصطلاح میں قربانی ایک عظیم مالی عبادت ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مخصوص ایام میں مخصوص جانور کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور تقرب کی نیت سے ذبح کیا جائے۔ یہ عبادت نہ صرف اطاعت و فرمانبرداری کا مظہر ہے بلکہ اس کے ذریعے بندہ اپنی جان و مال کے نذرانے پیش کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرتا ہے

قربانی کیا ہے؟

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ! “مَا هَذِهِ الْأَضَاحِي قَالَ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَالُوا فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ قَالُوا فَالصُّوفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِّنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ” یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت ہے ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارے لیے اس میں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر بال کے برابر نیکی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا بھیڑ کے بال؟ آپ نے فرمایا: بھیڑ کے بال کے ہر سوت کے برابر نیکی ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)

قربانی کی حقیقت

شمس الائمہ امام سرخسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:مالی عبادت دو قسم کی ہیں، ایک بہ طریق تملیک ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی کو کوئی چیز دے دینا) جیسے صدقات وزکوۃ وغیرہ اور ایک بطریق اتلاف ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی چیز کو ہلاک کر دینا ) جیسے غلام آزاد کرنا ۔

قربانی میں یہ دونوں قسمیں جمع ہو جاتی ہیں، اس میں جانور کا خون بہا کر اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے، یہ اتلاف ہے اور اس کے گوشت کو صدقہ کیا جاتا ہے، یہ تملیک ہے

قربانی کب سے شروع ہوئی

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے ” وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَكًا لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۡۢ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ” اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر (کنز الایمان)پتہ چلا کہ اللّہ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے کا رواج بہت پہلے سے چلا آ رہا ہے

مگر قبل از اسلام اس کی صورت دوسری تھی ، وہ اس طور پر کہ جو قربانی اللہ عز وجل کی بارگاہ میں مقبول ہو جاتی تھی تو ایک سفید رنگ کی بغیر دھوئیں والی آگ شراٹے مارتی ہوئی آسمان سے اترتی تھی اور مقبول قربانی کو جلا کر خاک کر جاتی تھی ، جسے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے

حتی کہ لوگ جھگڑے کی صورت میں اپنی حقانیت بھی اسی طرح ثابت کرتے تھے کہ جو سچا ہوتا تھا اس کی قربانی کو آگ جلا جاتی تھی، جھوٹے کی قربانی یوں ہی پڑی رہتی تھی، چنانچہ جب ہابیل و قابیل عقلیمہ نامی ایک عورت کے بارے میں جھگڑے کہ وہ کس کے لیے حلال ہے تو ان دونوں نے قربانیاں پیش کیں جسے انہوں نے پہاڑ پر رکھ دیا، ہابیل کی قربانی قبول ہوئی کہ اسے غیبی آگ جلا گئی ، قابیل کی قربانی رد کر دی گئی کہ اسی طرح رہی ۔ مگر اُمتِ محمدیہ کو یہ بھی ایک خصوصیت حاصل ہے کہ وہ اپنی قربانی کے گوشت کو خود کھا سکتے ہیں

حضرت ابراہیم کاخواب

اللّہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانی کے واقعہ کو قرآن مقدس میں اس طرح بیان فرمایا: فَبَشِّرُنَهُ بِغُلٰمٍ حَلِيمٍ ، فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يُبْنَى إِنِّي أرى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَاذَا تَری” تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقلمند لڑکے کی پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا اے میرے بیٹے! میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں ، اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے؟ (کنز الایمان)مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آٹھویں ذوالحجہ کی رات کو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کیجئے ۔

جب صبح کو اٹھے تو سارا دن اسی شش و پنج میں گزرا کہ نا معلوم یہ حکم واقعی من جانب اللہ ہے یا وسوسہ ہے۔ اسی لیے اس دن کا نام ” يَوْمِ تَرويہ” ( سوچ کا دن ) ہے۔ پھر نویں ذی الحجہ کو خواب میں اسی طرح کا حکم سنا تو صبح کو اُٹھے تو یقین کیا کہ واقعی یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے

۔ اسی لیے اس دن کا نام یومِ عَرَفَه ( پہچاننے کا دن ) ہے۔ پھر یہی خواب دسویں ذی الحجہ کی شب کو دیکھا تو صبح اُٹھ کر عزم کیا کہ صاحبزادے کو ضرور ذبح کروں گا۔ اس لیے اس دن کا نام ” يَومُ النَّحْرُ ( قربانی کا دن ) رکھا گیا۔ (روح البیان ، تفسیر مظہری)

انبیائے کرام کے خواب

اس بات پر اہل سنت و جماعت کا اتفاق ہے کہ انبیائےکرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے خواب بھی وحی الہی ہوا کرتے ہیں ۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث نقل فرمائی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا؛ “اَوَّلُ ما بُدِي بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي الْمَنَامِ” سب سے پہلے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی وہ بذریعہ خواب تھی۔

اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بھی بذریعہ خواب وحی نازل کی گئی کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو ذبح کریں۔انبیائے کرام کی آنکھیں سوتی ہیں مگر دل بیدار رہتے ہیں جیسا کہ بخاری شریف میں ایک مقام پر روایت ہے ” الأَنْبِيَاءُ تَنَامُ أَعْيُنُهُمْ وَ لَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ” یعنی انبیائے کرام کی آنکھیں سوتی ہیں مگر دل بیدار ہوتے ہیں

حضرت اسماعیل کی رضامندی

جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ السلام کو خواب کے ذریعہ اللہ کی جانب سے یہ حکم ہو گیا کہ وہ اپنے لخت جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں تو آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس خواب اور حکم خداوندی سے آگاہ فرمایا، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حکم خداوندی پر رضا مندی کے حوالے سے قرآن پاک ارشاد فرماتا ہے ” قَالَ يَابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّبِرِینَ“ کہا اے میرے باپ کیجئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہا تو قریب ہے آپ مجھے صابر پائیں گے

حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ السلام جانتے تھے کہ ایک نہ ایک دن موت کا آنا یقینی ہے تو کیوں نہ اس جان کو اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے قربان کر دیا جائے ۔ اسی لیے حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی جان کی قربانی پیش کرنے پر راضی ہو گئے

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھیسکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی جانب سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آزمائش اور وہ بھی اتنی عظیم آزمائش کہ ان سے انہیں کی جان کو قربان کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور وہ اپنی جان کو قربان کرنے کے لیے راضی ہیں محض اس لیے کہ یہ اللہ عز وجل کا حکم ہے اور حکم خدا کی پابندی بندوں کا فریضہ ہوتا ہے۔

ہمیں بھی اللہ عز وجل آزماتا ہے، ہمارا بھی اس دنیا میں امتحان ہوتا ہے، کبھی ہمیں فقر وفاقہ میں مبتلا کر دیا جاتا ہے، کبھی ہماری نظروں کے سامنے ہمار الختِ جگر ، نور نظر دم توڑ دیتا ہے، کبھی ہمیں بیماریوں سے دوچار کر دیا جاتا ہے

کبھی مصائب و آلام میں گرفتار کر دیا جاتا ہے اور اس وقت اگر ہم صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں تو ہمیں کیا انعام ملے گا اس کے حوالے سے فرمانِ خداوندی ہے ” وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ “اور خوش خبری سنا ان صبر والوں کو کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی طرف پھرنا۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درودیں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں

لہذا اگر ہم ان فضائل کو پانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم آنے والی مصیبتوں پر صبر کا مظاہرہ کریں اور اُسوہ خلیل و اسماعیل علیہما السلام کو اپنانے کی کوشش کریں

شیطان کا فریب

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب احبار کا قول اور محمد بن اسحاق نے اپنے راویوں کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت ابراہیم کے گھر والوں کو نہ بہکا سکا تو پھر کبھی ان کی اولاد میں سے کسی کو نہ بہکا سکوں گا۔ یہ ارادہ کر کے وہ مرد کی شکل میں لڑکے کی ماں حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس پہنچا اور کہنے لگا کیا تم کو معلوم ہے کہ ابراہیم تمہارے بیٹے کو کہاں لے گئے ہیں؟ ماں نے کہا دونوں اس گھاٹی سے لکڑیاں لینے گئے ہیں۔

شیطان نے کہا نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے بلکہ ابراہیم اسماعیل کو ذبح کرنے لے گئے ہیں۔ ماں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا ، وہ تو بیٹے سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کے دل میں بیٹے کی بہت محبت ہے۔ شیطان نے کہا وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ ماں نے کہا کہ اگر ان کے رب نے یہ حکم دیا ہے تو حکم رب کی اطاعت کرنی ہی بہتر ہے

شیطان یہاں سے مایوس ہو کر بیٹے کے پاس پہنچا، بیٹا اس وقت باپ کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ شیطان نے ان سے کہا لڑکے! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے باپ تم کو کہاں لے جارہے ہیں؟ لڑکے نے کہا ہم اس گھاٹی سے گھر کے لیے ایندھن کی لکڑیاں لینے جا رہے ہیں۔

شیطان نے کہا نہیں ، خدا کی قسم ! اس کا مقصد یہ نہیں بلکہ وہ تم کو ذبح کرنا چاہتا ہے ۔ لڑکے نے کہا کیوں؟ شیطان نے کہا اس کا خیال ہے کہ اس کے رب نے اس بات کا حکم دیا ہے۔

لڑکے نے کہا ایسا ہے تو اس کو اپنے رب کے حکم کی اطاعت بسر و چشم کرنی ضروری ہے ( میں بھی اس پر راضی ہوں ) جب لڑکے نے شیطان کا مشورہ نہ مانا تو شیطان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور کہنے لگا شیخ کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا میں ایک کام سے اس گھاٹی میں جانا چاہتا ہوں۔

شیطان بولا خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ شیطان نے خواب میں آکر تم کو اپنے لڑکے کے ذبح کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہچان لیا کہ یہ شیطان ہے، بولے دشمن خدا! میرے پاس سے ہٹ جا، میں ضرور ضرور اپنے رب کے حکم پر عمل کروں گا۔ شیطان غضبناک ہو کر لوٹ گیا اور ابراہیم اور ان کے گھر والوں کے معاملہ میں کچھ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔

اللہ نے ان سب کو شیطان سے محفوظ رکھا ۔ (تفسیر مظہری)شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے، قرآن مقدس اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ اس سے بچنے کی تاکید فرمائی گئی ہے کیوں کہ شیطان اہل ایمان کو ہر نیک کام سے روکنے کی کوشش کرتا ہے، انہیں صراط مستقیم سے بہکا کر غلط راستوں پر ڈال دیتا ہے، انسان کو عیش پرست، حکم عدول اور گناہوں کا عادی بنا دیتا ہے

اس نے اللہ کے عظیم پیغمبر کو بھی بہکانے کی کوشش کی تھی مگر جب کوئی شخص مخلص ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اللہ تبارک وتعالی کی تائید ہوتی ہے، حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکم الٰہی کے آگے اپنا سر تسلیم خم کر دیا تھا اور بے چون و چرا اللہ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے ، لہذا اس عزم و استقلال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ عز وجل نے انہیں شیطان کے شر سے محفوظ فرمادیا اور وہ حضرات امتحان میں کامیاب ہو گئے ۔ہم بھی اگر شیطان کے شر سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم تمام کارہائے خیر میں عزم واستقلال اور خلوص کا مظاہرہ کریں

قربانی کے لیے تیار

اب باپ اور بیٹے کے درمیان کیا معاملہ ہوا اس کو قرآن مقدس بیان فرماتا ہے ” فَلَمَّا أَسْلَمَا وَ تَلَّهُ لْجَبِين” تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ۔مذکورہ بالا آیت کے تحت صاحب تفسیر مظہری تحریر فرماتے ہیں:یہ واقعہ منی میں صخرہ کے پاس ہوا

جب ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لٹا دیا تو) حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا : اے ابا ! میرے بندھن کس کر باندھنا تا کہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے میری طرف سے سمیٹے رکھنا تا کہ میرا خون اُچھل کر آپ کے کپڑے پر نہ پڑ جائے اور میرے اجر میں کمی آجائے اور اس خون کو دیکھ کر میری ماں رنجیدہ ہو جائے اور چھری کو تیز کر لینا اور میرے حلق پر تیزی سے چلا دینا تاکہ میرے لیے دشواری نہ ہو کیوں کہ موت سخت چیز ہے اور آپ جب میری ماں کے پاس جائیں تو ان کو میر اسلام کہنا اور اگر آپ میرا کرتا میری ماں کے پاس واپس لے جانا چاہتے ہیں تو لے جائیں اس سے ان کو بڑی تسلی ہوگی ۔

حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا: میرے پیارے بیٹے ! اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے تو میرا بہت اچھا مددگار ہے۔ پھر بیٹے نے جو کچھ کہا تھا باپ نے ویسا ہی کیا ، اول بیٹے کو پیار کیا پھر باندھ دیا اور رونے لگے، پھر اسماعیل علیہ السلام کے حلق پر چھری رکھ دی لیکن چھری سے حلق پر نشان بھی نہ پڑا۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ حلق پر چھری تیز چلانے لگے لیکن چھری کچھ کاٹ نہ سکی۔ اس کے بعد کیا ہوا، قرآن کریم فرماتا ہے ” وَنَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَاۚ-اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ” اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم، بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو ۔۔۔ایک باپ اپنے بیٹے سے کتنی محبت کرتا ہے، اس کا اندازہ ہر باپ کو ہوتا ہے۔

ایک باپ اپنے بچوں کی اچھی پرورش کے لیے طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کرتا ہے، اپنے عزیز شہر یا وطن کو چھوڑ کر دوسرے شہر یا ملک کا سفر کرتا ہے تا کہ رزق حلال کما کر اپنے بچوں کے لیے دنیاوی آسائش کے سامان مہیا کر سکے

مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کریں۔ اندازہ لگائیے کہ کتنا دردناک منظر ہوگا اور کیسی دل کو ہلا دینے والی کیفیت ہو گی ۔

مگر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے فرزند ارجمند نے صبر و ضبط کیا اور مرضی خدا کا لحاظ کیا تو آئی ہوئی مصیبت کو اللہ نے دور فرمادیا اور باپ بیٹے کو وہ توفیق عنایت کی جو کسی اور کو نہیں ملی ۔ سارے جہاں پر ان کو برتری عطا فرمائی اور ثواب آخرت جو اُن کے لیے مقرر فرمایا اس کا اظہار ہی نہیں ہو سکتا۔ ان تمام نعمتوں پر ان دونوں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا

جب یہ واقعہ در پیش ہوا اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 9 سال کی تھی ، 9 سال کا بچہ اتنے شعور و فہم کا مالک ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے آرام اور تکلیف دہ چیزوں کے درمیان تمیز کر سکے مگر حضرت اسماعیل علیہ السلام بغیر کسی چون و چرا کے رضامندی کا اظہار کر رہے ہیں اور گلے پر چھری رکھی ہوئی ہے

مگر زبان پر حرف شکوہ بھی نہیں لاتے ، آخر ایسا کیوں ہے؟ غور کرنے پر ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بچپن میں ہی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایسی ذہنی تربیت فرمائی تھی کہ آپ کے ذہن و دماغ میں حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا جذبہ موجزن تھ یہی وجہ تھی کہ آپ نے اللہ کی راہ میں پیاری جان کا نذرانہ پیش کرنے میں دریغ نہ کیا

قربانی کا مقصد

اللّہ عزوجل نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا “إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ” بے شک یہ روشن جانچ تھی۔ یعنی اس کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص کی جانچ ہوتی ہے کہ “إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ” کا دعویٰ محض دعویٰ ہے یا اس کے ساتھ اس کی کوئی دلیل بھی ہے۔ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں یہ صلہ دیا کہ ہر سال صاحب استطاعت مسلمان پر قربانی کو واجب قرار دے کر ان دونوں حضرات کی یاد منانے کا ذریعہ بنا دیا اور ان شاء اللہ صبح قیامت تک آنے والے مسلمان ہر سال ان حضرات کو یاد کرتے رہیں گے۔

حضرت اسماعیل کا فدیہ

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری پھیرنا شروع کیا تو اللہ عزوجل نے انہیں کس طرح بچالیا، اس کا ذکر کرتے ہوئے رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے ” وَ فَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ “ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا۔ایک روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک آواز سنی تو نظر اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ، او پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نظر آئے جن کے ساتھ سینگوں والا مینڈھا تھا

حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کے بیٹے کا فدیہ ہے، اس کی قربانی کر دیجئے۔ اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام نے تکبیر کہی اور مینڈھے نے بھی تکبیر کہی اور ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے نے بھی تکبیر کہی پھر منی کے قربان گاہ میں جا کر مینڈھے کو ذبح کر دیا ــ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *