حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے خوابوں کی تعبیر
حافظ ملت علیہ الرحمہ کے خوابوں کی تعبیر: الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور
از: قاری رئیس احمد خان
دارالعلوم نورالحق، چرہ محمد پور، فیض آباد (ایودھیا)، یوپی، انڈیا
جماعتِ اہلِ سنت کے تحت قائم تمام مکاتب، مدارس، دارالعلوم اور جامعات کے قیام کے بے شمار اغراض و مقاصد ہیں، مگر ان میں دو بنیادی مقاصد نہایت اہمیت کے حامل ہیں:۔
قوم کے نونہالوں کو مروّجہ علوم و فنون سے آراستہ کرنا، تاکہ ان کا مستقبل روشن و تابناک ہو۔
مسلمانوں کے اسلامی عقائد و ایمان کا تحفظ اور انہیں مزید مستحکم کرنا، تاکہ کوئی باطل مذہب یا فرقہ مسلمانوں کے عقائد پر شب خون نہ مار سکے۔
انہی مقاصدِ عالیہ کے تحت جماعتِ اہلِ سنت کے یہ تعلیمی ادارے پورے ملک میں قائم ہیں۔ اب ان اداروں کو مضبوط بنانا، انہیں فروغ دینا، اور ہر ممکن تعاون کرنا ہم سب کی اجتماعی وافرادی ذمہ داری ہے تاکہ یہی ادارے ہمارے بچوں کو اعلیٰ تعلیم و تربیت دے کر اسلام و سنیت کے وفادار سپاہی بنائیں اور یہ بچے آگے چل کر قوم و ملت کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی و خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کریں۔
احبابِ گرامی!
اگر ہم جماعتِ اہلِ سنت کے قائم کردہ مکاتب و مدارس اور دارالعلوم و جامعات پر نظر ڈالیں تو الحمد للہ ایسی درجنوں عظیم درسگاہیں نظر آتی ہیں جو فکرِ رضا کی روشنی میں مثالی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان اداروں کی کارکردگی نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے قابلِ تقلید بھی ہے۔
اس روشن فہرست میں جو ادارہ سب سے نمایاں اور سرِ فہرست نظر آتا ہے وہ ہے:
“الجامعۃ الاشرفیہ، مبارکپور، اعظم گڑھ”
الجامعۃ الاشرفیہ اپنی نوعیت، انفرادیت، عظمت، کام یابی، اور علمی خدمات کے لحاظ سے ایک ایسا مثالی تعلیمی ادارہ ہے جس میں اہلِ مبارک پور کی مخلصانہ محنتیں، اکابرِ اہلِ سنت کی دعائیں، اور مشاہیرِ علمائے اہل سنت کی خصوصی توجہ شامل ہے۔ اسی اخلاص اور برکت کے سبب یہ ادارہ عوامِ اہلِ سنت میں ہمیشہ سے محبوب اور قابلِ اعتماد رہا ہے، اور لوگ ہر موقع پر اس کا دل کھول کر تعاون کرتے رہتے ہیں۔
لیکن سب سے اہم اور روشن حقیقت یہ ہے کہ:
اس ادارے کے فروغ و استحکام میں حضور حافظِ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔
حافظِ ملت علیہ الرحمہ کی وہ تڑپ، وہ محنت، وہ اخلاص اور وہ مسلسل جدوجہد آج بھی اس گلشنِ علم کی فضاؤں میں محسوس ہوتی ہے۔ آنے والی نسلیں بھی ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتیں۔
اس کے ساتھ ساتھ شہزادۂ حافظ ملت،عزیزِ ملت حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب عزیزی سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ کی مسلسل جدو جہد، ان کی روشن قیادت، اور ان کی فعال انتظامیہ کی کارفرمائیاں بھی الجامعۃ الاشرفیہ کی ترقی کا اہم ترین ستون ہیں۔
ان کے زیرِ سایہ یہ ادارہ ہر دن نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ دیکھنے والے حیران ہیں کہ حضور حافظِ ملت کے لگائے ہوئے اس گلشن باغِ فردوس: الجامعۃ الاشرفیہ میں ہر روز ایک نیا خوش رنگ پھول کھلتا ہے، اور ہر سال عرسِ حافظِ ملت کے موقع پر اس علمی باغ میں لاتعداد نئی بہاریں نمودار ہوتی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محبوبِ کریم ﷺ کے صدقے عزیزِ ملت کو صحت و عافیت کے ساتھ عمرِ خضر عطا فرمائے۔ آمین۔
انھی روشن وجوہات کے باعث الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور، ملک بھر کے تمام دینی اداروں میں آج بھی سرفہرست نظر آتا ہے۔
اسی حقیقت کے اظہار اور بارگاہِ حضور حافظِ ملت میں عرس کی مناسبت سے خراجِ عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہوئے خاکسار یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ:
“الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے خوابوں کی حقیقی تعبیر ہے”
جس طرح کل اس کے میناروں سے فکرِ رضا کی روشنی پھیل رہی تھی، آج بھی پھیل رہی ہے، اور ان شاءاللہ العزیز قیامت تک پھیلتی رہے گی۔
مبارک ہو! مبارک ہو! مبارک ہو!
خاکسار آخر میں تمام اہلِ محبت و عقیدت سے دعا کی درخواست کرتا ہے۔
زمیں پر کام کرنے والی اور زیرِ زمین آرام کرنے والی شخصیات میں عہدِ حافظِ ملت کی جو بھی ہستیاں تھیں، ان میں حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا مقام بہت ہی نمایاں و منفرد ہے۔ آپ جہاں مردم شناس تھے، وہیں مردم ساز بھی تھے۔ جو بھی آپ کی خدمت میں رہتا، وہ لباسِ فضیلت سے مزین ہوکر کامل و اکمل بن جاتا۔
آپ بہت ساری خوبیوں کے جامع تھے۔ یہاں فقط ایک خوبی پیش کرتا ہوں:
حافظِ ملت علیہ الرحمہ دنیا میں ضرور رہے، مگر دنیا کبھی ان میں نہیں رہی۔
جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:
کافر کی یہ پہچان ہے کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان ہے کہ گم اس میں ہے آفاق
احبابِ گرامی!
آئیے سب مل کر دعا کریں کہ حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے لگائے ہوئے اس علمی گلشن “باغِ فردوس:الجامعۃ الاشرفیہ”سے ہمیشہ روحانی و علمی ہوائیں چلتی رہیں۔ یہاں سے پھوٹنے والی نورانی شعاعیں ہمیشہ طالبانِ علومِ نبویہ ﷺ کی آبیاری کرتی رہیں۔ اساتذۂ جامعہ کے علم و فن سے اسلام، سنیت اور انسانیت فروغ پاتی رہے۔
اور ہم سب ہمیشہ فیضانِ حافظِ ملت سے فیضیاب ہوتے رہیں۔
آمین بجاہِ حبیبہ سید المرسلین ﷺ
اس کو بھی پڑھیں: حافظ ملت کا عزم و ایقان ہمارے لیے درس عرفان