زرخیز زمین محروم عوام اور نئی بیداری کی صدا
سیمانچل: زرخیز زمین، محروم عوام اور نئی بیداری کی صدا
شمس آغاز
سیمانچل، بہار کا وہ خطہ ہے جو ریاست کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر منفرد، سماجی لحاظ سے متنوع اور ثقافتی اعتبار سے رنگا رنگ یہ علاقہ اپنی زرخیز زمینوں، لسانی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے باوجود ترقی کے دھارے سے ہمیشہ محروم رہا ہے۔
سیمانچل کے چار بڑے اضلاع کشن گنج، ارریہ، پورنیہ اور کٹیہاراس کے مرکزی ستون سمجھے جاتے ہیں ۔ ان اضلاع میں مسلمانوں کی آبادی بڑی تعداد میں ہے جو اکثر مقامی سطح پر نصف سے زیادہ ہے۔ اسی بنا پر سیمانچل کو بہار ہی نہیں بلکہ پورے شمالی ہندوستان میں مسلم اکثریت کا سب سے مضبوط مرکز مانا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ سیاسی لحاظ سے اس خطے کی آواز کبھی اتنی بلند نہیں ہو سکی جتنی اس کی آبادی اور مسائل کے اعتبار سے ہونی چاہیے تھی۔
سیمانچل کے مسائل بے شمار ہیں، مگر سب سے بنیادی مسئلہ غربت اور پسماندگی ہے۔ اگر بہار کو ہندوستان کی غریب ترین ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے تو سیمانچل بہار کے اندر سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ یہاں تعلیم کا ڈھانچہ نہایت کمزور ہے۔ اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی کمی، عمارتوں کی خستہ حالی اور وسائل کی کمی نے نئی نسل کو ناخواندگی کے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔
کشن گنج، جو سب سے زیادہ مسلم اکثریتی ضلع ہے، وہاں شرحِ خواندگی آج بھی ریاستی اوسط سے کم ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کی حالت مزید ابتر ہے۔ اگرچہ کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے تعلیمی بیداری کی کوششیں کی ہیں، مگر ان کی رسائی نچلے طبقے تک محدود رہی ہے۔
تعلیم کے بعد صحت کا شعبہ بھی نہایت زبوں حالی کا شکار ہے۔ سیمانچل کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں نہ تو ڈاکٹر باقاعدہ تعینات ہیں اور نہ ہی ضروری مشینری یا دوائیں دستیاب۔ ارریہ اور کٹیہار جیسے اضلاع میں اگر کسی کو سنگین بیماری لاحق ہو جائے تو مریض کو پٹنہ یا سلی گوڑی جانا پڑتا ہے، جس میں وقت اور پیسے دونوں کا زبردست نقصان ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت مراکز صرف کاغذوں پر قائم ہیں، جہاں نہ ڈاکٹر ہیں نہ نرسنگ اسٹاف۔
قدرتی آفات نے سیمانچل کے عوام کی مشکلات کو اور بھی گہرا کر دیا ہے۔ کوسی، میچی اور دیگر دریا ہر سال برسات کے موسم میں اپنے کناروں سے باہر آ کر تباہی مچاتے ہیں۔ ان بیقابو دریاؤں کی موجوں نے صدیوں سے کسانوں کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ زمین بیحد زرخیز ہے، مگر فصلیں ہر سال سیلاب کی نذر ہو جاتی ہیں، کھیت ڈوب جاتے ہیں، اور کسان خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ملنے والی امداد محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہے۔ پانی اترنے کے بعد وبائیں پھیلتی ہیں، لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، اور ان کے پاس زندگی دوبارہ شروع کرنے کے نہ وسائل ہوتے ہیں، نہ سہارا۔ یہی مجبوری لاکھوں لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر دہلی، ممبئی، پنجاب اور خلیجی ممالک کی طرف مزدوری کے لیے ہجرت پر مجبور کرتی ہے۔ یہ ہجرت محض روزگار کی تلاش نہیں بلکہ بقا اور زندگی کی نئی جستجو بن چکی ہے۔
سیاسی لحاظ سے سیمانچل ہمیشہ غیر یقینی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک مختلف سیاسی جماعتوں نے یہاں حکومت کی، مگر کسی نے بھی حقیقی معنوں میں اس خطے کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل نہیں کیا۔ کانگریس کے دور میں سیمانچل نظرانداز ہوا، لالو پرساد یادو کے دورِ حکومت میں سماجی انصاف کے نعرے بلند ہوئے، مگر سیمانچل کے مسلمان صرف ووٹ بینک بن کر رہ گئے۔
نتیش کمار کے دور میں سڑکوں اور بجلی میں کچھ بہتری ضرور آئی، لیکن ساختی پسماندگی جوں کی توں برقرار رہی۔ مقامی سطح پر رہنما ابھرے مگر وہ یا تو مرکزی قیادت میں جذب ہو گئے یا اپنے محدود اثر تک ہی محدود رہے۔
سیمانچل کی سیاست ہمیشہ برادری، مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر منقسم رہی ہے۔ یہاں مسلمان، دلت، پسماندہ طبقات اور دیگر اقلیتی برادریاں بڑی تعداد میں آباد ہیں، مگر ان کے درمیان باہمی اتحاد کی کمی نے ہمیشہ ان کی اجتماعی سیاسی طاقت کو کمزور کر دیا۔ اس تقسیم کا سب سے زیادہ فائدہ وہ بڑی سیاسی جماعتیں اٹھاتی رہی ہیں جو ہر انتخاب میں وعدوں کے نئے جال بُنتی ہیں، مگر اقتدار کے بعد سیمانچل کو پھر حاشیے پر چھوڑ دیتی ہیں۔ اس طرح عوام کے ووٹ تو متحد ہو کر پڑتے ہیں، لیکن ان کے مفادات بکھر کر رہ جاتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی آمد نے سیمانچل کی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کیا۔ مجلس نے کشن گنج، ارریہ اور کٹیہار کے کئی علاقوں میں اپنی موجودگی درج کرائی اور یہ تاثر پیدا کیا کہ سیمانچل کے مسلمان اب اپنی سیاسی آواز خود بننے کی جستجو کر رہے ہیں۔ اس سیاسی پیش رفت نے ان حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی جہاں طویل عرصے سے روایت پسند سیاست حاوی تھی۔ البتہ اس تبدیلی کو سب نے یکساں طور پر خوش آمدید نہیں کہا، مخالفین نے اسے فرقہ وارانہ سیاست کا رنگ دینے کی کوشش کی اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا اس خطے کی سیاست شناخت کی بنیاد پر مضبوط ہوگی یا ترقی کے ایجنڈے پر۔
سیمانچل کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر انحصار کرتی ہے، مگر جدید زرعی وسائل کی شدید کمی ہے۔ نہ مناسب آبپاشی کا نظام ہے، نہ سستے قرضوں تک رسائی۔ زمین کی غیر مساوی تقسیم نے چھوٹے کسانوں اور بے زمین مزدوروں کی حالت مزید خراب کر دی ہے۔ صنعتی ترقی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں، اسی لیے وہ ہجرت پر مجبور ہیں۔ یہ ہجرت اس بات کی علامت ہے کہ مقامی معیشت اب تک خود کفالت کی منزل سے کوسوں دور ہے۔
تاہم سیمانچل کی ایک نمایاں خوبی اس کا ثقافتی تنوع ہے۔ یہاں ہندی، اردو، بنگالی اور دیگر مقامی بولیاں بولی جاتی ہیں۔ مختلف زبانوں، مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ امن و محبت سے رہتے آئے ہیں۔ البتہ انتخابی سیاست نے بعض اوقات اس ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، مگر عام طور پر عوام نے فرقہ وارانہ نعروں کے بجائے ترقی و انصاف کے ایجنڈے کو ترجیح دی ہے۔
مستقبل کے امکانات کے لحاظ سے سیمانچل ایک نہایت اہم خطہ ہے۔ نیپال اور بنگلہ دیش کے درمیان واقع ہونے کے باعث یہ بین الاقوامی تجارت کے لیے اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرے تو یہاں زراعت، صنعت، تعلیم اور سیاحت کے میدانوں میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
کشن گنج میں قائم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سینٹر ایک امید کی کرن ہے۔ اگر اسے مزید وسائل اور اختیارات دیے جائیں تو یہ پورے علاقے کے لیے تعلیمی انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح ارریہ اور پورنیہ میں زرعی صنعتوں کو فروغ دے کر روزگار کے نئے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔
سیمانچل کی کہانی صرف ایک خطے کی محرومی کی نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کی اس حقیقت کی عکاسی بھی کرتی ہے جہاں وعدے تو بہت کیے جاتے ہیں مگر عمل شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔ سیمانچل کی ترقی صرف بہار کی ترقی نہیں، بلکہ پورے ہندوستان کی ہمہ گیر پیش رفت سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس خطے میں تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں حقیقی اور دیرپا تبدیلی لائی جائے تو یہ علاقہ ملک کے وفاقی نظام کی ایک کام یاب اور مثالی مثال بن سکتا ہے۔
اب سب سے زیادہ ضرورت بیداری کی ہے،سیاسی بھی اور سماجی بھی۔ سیمانچل کے عوام کو ایسے رہنما چننے ہوں گے جو خدمت کو سیاست پر ترجیح دیں، وعدوں کے بجائے عمل کو شعار بنائیں، اور اپنی سرزمین کے مسائل کو ذاتی عزم کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔
نوجوان نسل کو بھی اپنی طاقت پہچاننی ہوگی، کیونکہ مستقبل کی تعمیر انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر یہ خطہ اپنی آواز خود بننے کا حوصلہ پیدا کر لے، تو وہ دن دور نہیں جب سیمانچل پسماندگی اور محرومی کی علامت نہیں بلکہ خوش حالی، تعلیم اور ترقی کا استعارہ بنے گا۔
شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
9716518126
shamsaghazrs@gmail.com
Pingback: سیمانچل میں سیاسی بیداری اور ایم آئی ایم کی کام یابی ⋆