معاملہ ایک ہے اور فیصلے دو طرح کے

Spread the love

پس پرد ہے معاملہ ایک ہے اور فیصلے دو طرح کے ؟ ہندوستان میں این آر سی پر ضد اور ساؤتھ امریکہ ہجرت کرنے والوں کو شہریت کی پیشکش ڈاکٹر غلام زرقانی چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن ، امریکہ ابھی حال میں ۷؍جولائی ۲۰۲۵ء؁ کو برکس ممالک کی کانفرنس برازیل میں ہوئی۔ خیال رہے کہ۲۰۰۱ء؁ میں جب یہ تنظیم بنی تھی، تواس کے پانچ ممبران تھے، برازیل، روس، انڈیا، چین اور ساؤتھ افریقہ۔ اس طرح متذکرہ ممالک کے ناموں کے پہلے حروف جمع کیے جائیں توBRICS بنتاہے۔تاہم بعد میں مصر، اتھوپیا، ایران، سعودی عرب، انڈونیشیا اور عرب امارات کی بھی شمولیت ہوگئی ۔لہذا اب ممبرممالک کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے ۔اور دھیرے دھیرے مزید ممالک بھی جڑتے جارہے ہیں ۔ متذکرہ کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی نے بھی شرکت کی اوروہاں سے وہ ترینداد اینڈٹوباکو کے دورے پر گئے ۔خیال رہے کہ کیریبین ممالک خصوصی طور پر ترینداد اینڈ ٹباکو ، سورینام اور گویانا وغیرہ میں بڑی تعداد میں اترپردیش اور بہار کے لوگ آباد ہیں ۔ ہوایوں کہ جب ہندوستان برطانوی سامراجیت کے زیر نگیں تھا، اس وقت کیربین ممالک بھی برطانیہ کے تسلط میں تھے۔ بتایا جاتاہے کہ برطانوی ذمہ داروں نے اترپردیش اور بہار سے بہت بڑی تعد اد میں مزدور جمع کیے اور وہاں سے انھیں بادبانی کشتیوں میں سوار کرکے کیریبین ممالک لے آئے ۔ ان میں سے کچھ افراد اپنے وطن سے دور نئی جگہ سے اکتاگئے اور واپسی کی راہ لی ، تاہم بہت بڑی تعداد میں لوگ یہیں آباد ہوگئے ۔ اسی گروہ کے کچھ لوگ ماریشش، جمائیکا، گرینیڈااور دوسرے جزائر میں منتقل ہوگئے ۔ یہی وجہ ہے کہ متذکرہ ممالک میں اب بھی لوگ بھوجپوری کسی حدتک سمجھ بھی لیتے ہیں اور بول بھی لیتے ہیں۔ ان میں خصوصیت کے ساتھ سورینام کے مسلمانوں کی عام زبان آج بھی بھوجپوری سے ملتی جلتی ہے ۔ اب آئیے مرکزی بیانیے کی طرف۔ وزیر اعظم مودی نے ترینداد اینڈ ٹوباکو میں اعلی انتظامیہ سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہونے والوں کے لیے اوسی آئی کارڈ کی سہولت دینے کی تیاری کررہے ہیں ۔ خیال رہے کہOCI کا مطلب ہےOverseas Citezen of India ۔یعنی بیرون ممالک رہنے والے ہندوستانی۔ تاریخی اعتبار سے یہ سہولت کانگریس دورحکومت کی یادگار ہے ۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے کناڈا، امریکہ اور یورپی ممالک کی شہریت لینے والے ہندوستانیوں کے لیے اوسی آئی کارڈ کی سہولت دی گئی تاکہ وہ بغیر کسی ویزہ کے جب چاہیں اپنے آباءواجداد سے ملاقات کرلیں۔یعنی اب یہی سہولت کیربین ممالک میں آباد اُن لوگوں کو بھی دی جائے گی ، جن کے آباء واجداد ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سہولت کو سمجھنے کے لیے ترینداد اینڈ ٹوباکو کی مثال سامنے رکھیے۔ ایک محدود اندازے کے مطابق یہاں کی کل آبادی چودہ لاکھ ہے ، جس میں تقریباپانچ لاکھ ایسے افراد ہیں ، جن کے آباء واجداد ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح تقریبا ایسے ڈیڑھ لاکھ افراد سورینام میں اور تین لاکھ گیانامیں ہیں ، جن کے آباء واجداد ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔اس طرح صرف متذکرہ تین کیربین ممالک پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالیے تودس لاکھ افراد ایسے نکل آئیں گے، جنھیں ممکنہ طورپر اوسی آئی کارڈ دیا جائے گا۔اورقرین قیاس یہی ہے کہ اگر یہ دروازہ کھلے گا، توپھر اسے دراز ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، اس لیے کہ جب برطانوی دورغلامی میں ہندوستان سے ہجرت کرنے والے افراد تک اس سہولت سے فیضیاب ہوں گے ، توپھر ایسے افراد کی فہرست دن بدن لمبی ہوتی جائے گی۔ میرے علم کے مطابق افریقی ممالک میں بھی بہت بڑی تعداد میں ایسے افراد ہیں ، جن کے آباء واجداد ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔اندازہ لگائیے کہ یہ تعداد کس قدر بڑھ جائے گی؟ بہر کیف ،اب دوسری طرف نگاہ ڈالیے ۔ملک میں بنام ’’دراندازی‘‘ برسراقتدار افراد نے آسمان سرپہ اٹھا رکھا ہے اور ایسا تأثر دے رہے ہیں کہ جیسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے ۔ دراندازوں کی وجہ سے آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہورہاہے ، جس سے بےروزگاری پھیل رہی ہے اور جرائم میں اضافہ ہورہاہے ۔ اور اب تو الیکشن کمیشن نے بھی شہری اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دے رکھی ہے کہ وہ انتخاب میں ووٹ ڈالنے والوں کی شہریت کی جانچ کریں ۔ یعنی ہر چہار جوانب سے کوشش ہورہی ہےکہ این آرسی کے نفاذ کے بعد ملک سے ایسے تمام افراد کو دربدر کردیا جائے ، جو اپنی شہریت کے اثبات کے لیے انتظامیہ کے مطلوبہ کاغذات نہیں رکھتے ۔اور چونکہ ملک کے دیہاتوں میں رہنے والے لوگ بڑے سیدھے سادھے ہوتے ہیں اور قرطاس وقلم سے بھی قربت نہیں رکھتے ، اس لیے سب سے بڑی مصیبت وآزمائش میں تووہ پڑے دکھائی دیتے ہیں ۔ غورکرنے والی بات یہ ہے کہ اگر کل تک آبادی میں اضافہ ہمارے سارے مسائل کی جڑ رہی ہے ، تواب مزید دس بیس لاکھ لوگوں کواو سی آئی کارڈ دے کر شہریت سے نوازدینا آخر کون سی دانشمندی ہے ؟سچی بات یہ ہے کہ یہ دوطرح کے فیصلے مسلمانوں کی تشویش کی تائید و توثیق کرتے ہیں ۔ یاد کیجیے کہ ہم نے این آر سی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبادی میں اضافہ یادراندازی پر گرفت کرنے کے دعوے صرف زبانی ہیں ، حقیقت میں یہ ایک مخصوص طبقہ کو پریشان کرنے کی منظم کوشش ہے ۔ یہ بھی پیش نگاہ رہے کہ کیریبین ممالک عام طورپر اقتصادی اعتبارسے خوش حال نہیں سمجھے جاتے ۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ وہ شہریت حاصل کرنے کے بعد ملک میں آکر بہت بڑی سرمایہ کاری کریں گے ، جس کی وجہ سے ہمارے یہاں غیر ملکی زرمبادلہ میں اضافہ ہوجائے گا، بلکہ یہ سب متوسط درجے کے سمجھے جاتے ہیں ، بلکہ یہ کہہ لیں کہ بہ استثنائے چند، وہ عام طور پر یاتو ہندوستانی شہریوں جیسی حیثیت رکھتے ہیں یا پھر اُس سے بھی کچھ کم ۔اور یہ بات کوئی سنی سنائی نہیں ہے ، بلکہ میں نے چند کیریبین ممالک کے دوروں کے درمیان اپنے ماتھے کی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ صاحبو! سمع خراشی کے لیے معذرت ، تاہم میری گفتگو سے یہ نہ سمجھ لیجیے گاکہ میں کیریبین ممالک میں آباد ہندوستانی نسل کو او سی آئی کارڈ کی سہولت دیے جانے کے خلاف ہوں، اس لیے کہ ہمارے نزدیک توہر شخص اپنے حصے کا رزق لے کر پیدا ہوتاہے ۔ اب اگر کوئی وہاں ہے ، تواُس کا رزق وہیں اترتاہے اور اگر وہ یہاں آجائے تویقین کامل ہے کہ اُس کا رزق بھی اسی کے ساتھ ساتھ منتقل ہوجائے گا۔بہر کیف، مدعائے سخن صرف اس قدر ہے کہ اگر ملک سے باہر رہنے والوں کو شہری حقوق دیے جانے کے لیے پہل کی جارہی ہے ، تووہ لوگ جو ملک کے اندر رہتے ہیں ، انھیں باربار نشانے پہ کیوں لایا جارہاہے ؟ اگر یہاں رہنے والے تجارت ،حرفت اور درس وتدریس کے ذریعہ ملک کی معیشت مستحکم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، توبجائے انھیں ستانے اور پریشان کرنے کے ، ہمیں چاہیے کہ اُن کے لیے آسانیاں پیدا کریں ، تاکہ وہ ملک وملت کے لیے کارآمد ثابت ہوسکیں۔ویسے بھی دیانت دار، امن پسند اور قانون کی بالادستی قبول کرنے والے شہری ملک کے لیے ہمیشہ مفید ہوتے ہیں ، نقصان دہ نہیں ۔؁ ۱۱؍جولائی ۲۰۲۵ء؁ ghulamzarquani@yahoo.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *