ووٹ کی شفافیت اور عوامی اعتماد کی بحالی
ووٹ کی شفافیت اور عوامی اعتماد کی بحالی
بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ یہ فخر صرف آبادی کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس بنیاد پر بھی کیا جاتا ہے کہ یہاں ہر شہری کو اپنی رائے کے اظہار اور اپنے نمائندوں کے انتخاب کا مساوی حق حاصل ہے۔
ووٹ کا حق محض انتخابی عمل کا حصہ نہیں بلکہ عوامی اختیار اور اجتماعی خودمختاری کی علامت ہے۔ لیکن جب ووٹ ہی محفوظ نہ رہے، جب اس کی ساکھ اور شفافیت پر سوال اٹھنے لگیں، تو پوری جمہوری عمارت کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔حالیہ دنوں میں راہل گاندھی نے اپنے سلسلہ وار انکشافات میں اسی خطرے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے عوام کے سامنے ایسے ٹھوس اعداد و شمار اور تصویری شواہد پیش کیے ہیں جنہوں نے ہندوستانی جمہوریت کے انتخابی ڈھانچے پر ایک سنگین سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اپوزیشن راہل گاندھی نے ایک ڈیجیٹل پریزنٹیشن میں بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں میں ووٹر لسٹوں میں جعل سازی، فرضی نام، دہری شناختیں اور جعلی تصاویر کی بھرمار ہے۔ ان کے مطابق صرف ہریانہ میں پانچ لاکھ اکیس ہزار سے زائدڈپلیکیٹ یا فرضی ووٹر درج ہیں۔
بعض اسمبلی حلقوں میں ایک ہی تصویر کے ساتھ سو سے زائد ووٹر آئی ڈیز پائی گئیں۔ یہ محض انتظامی لاپرواہی نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا اشارہ ہے جو جمہوری عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی جگہوں پر ایک ہی شخص کے نام پر مختلف بوتھوں پر ووٹ درج کیے گئے ہیں، کہیں تصویر بدلی گئی ہے اور کہیں نام میں معمولی تبدیلی کے ذریعے نیا ووٹر بنایا گیا ہے۔
پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد ووٹرز ایسے ہیں جن کی تصویریں جعلی یا مشکوک ہیں۔ ایک ہی تصویر کئی ناموں کے ساتھ دہرائی گئی ہے۔
مثلاً ایک ہی خاتون کی تصویر کہیں‘‘سیما’’کے نام سے درج ہے، تو کہیں‘‘سویٹی’’یا‘‘سرسوتی’’کے نام سے، جب کہ حیرت انگیز طور پر ایک برازیلی ماڈل کی تصویر بھی بار بار استعمال کی گئی ہے۔ ایسے سینکڑوں معاملات سامنے آئے ہیں جن میں چہرہ ایک ہے مگر شناخت مختلف ظاہر کی گئی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف انتخابی نظام میں موجود خامیوں کو عیاں کرتا ہے بلکہ اس کے پسِ پردہ کارفرما بدنیتی کو بھی بے نقاب کرتا ہے
راہل گاندھی نے اپنی تحقیق میں یہ بھی بتایا کہ ہزاروں ووٹرز کے پتوں میں‘‘House No. 0’’درج ہے۔ بظاہر یہ معمولی غلطی معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ووٹر کی شناخت چھپانے کا ایک منظم طریقہ ہے۔ جب کسی ووٹر کا پتہ ہی غیر حقیقی ہو تو اس کے ووٹ کی تصدیق کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ یہ تفصیلات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ووٹر لسٹوں کی تیاری میں شفافیت اور احتیاط بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ایک اور حیرت انگیز پہلو وہ مثالیں ہیں جہاں ایک ہی تصویر دو مختلف بوتھوں پر دو سو سے زائد مرتبہ استعمال کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی شخص بظاہر دو سو سے زیادہ بار ووٹر کے طور پر درج ہوا۔
اگر یہ شواہد درست ہیں تو یہ انتخابی دیانت پر کاری ضرب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ حلقوں میں الیکشن کمیشن نے سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کر دی تاکہ شواہد عوام کے سامنے نہ آسکیں۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ صرف انتظامی بدعنوانی نہیں بلکہ آئینی اعتماد کے ساتھ دھوکہ ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق اتر پردیش اور ہریانہ میں بڑی تعداد میں ایسے ووٹر موجود ہیں جو دونوں ریاستوں کی ووٹر لسٹوں میں درج ہیں۔ بعض مثالوں میں یہ افرادایک سیاسی پارٹی سے وابستہ مقامی عہدیداروں کے اہلِ خانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق کئی علاقوں میں مخصوص طبقات کے ووٹرز کے نام منظم طور پر فہرستوں سے حذف کیے گئے تاکہ سیاسی توازن ایک خاص جماعت کے حق میں رہے۔
یہ الزامات جتنے سنگین ہیں، اتنے ہی خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر کسی انتخاب میں فرضی ووٹ، دہری شناخت یا جعلی ووٹرز شامل ہوں تو عوامی نمائندگی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ایک شخص کے دس ووٹ اور دوسرے کا ایک بھی نہیں۔ یہ عدم توازن جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ عوامی رائے کی اصل عکاسی ختم ہو جاتی ہے اور حکومت کی قانونی حیثیت مشکوک بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت میں ووٹ کی شفافیت کو مقدس مانا جاتا ہے۔
راہل گاندھی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد حقیقی ووٹرز کے نام فہرست سے حذف کر دیے گئے۔ ان میں زیادہ تر مزدور، خواتین، اقلیتیں اور پسماندہ طبقات کے لوگ شامل تھے۔ ان کے مطابق یہ ایک سیاسی حکمتِ عملی تھی تاکہ ان طبقات کے ووٹ کم ہو جائیں جو حکومت کے خلاف رائے رکھتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ جمہوری اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ جمہوریت کا بنیادی تصور یہی ہے کہ ہر شہری کو مساوی ووٹ کا حق حاصل ہو۔
جمہوریت میں شفافیت صرف ووٹ ڈالنے کے دن سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس پورے نظام سے جڑی ہوتی ہے جو ووٹر لسٹوں، بوتھوں، نگرانی اور نتیجہ سازی پر مشتمل ہے۔ اگر کسی ایک حصے میں بدعنوانی یا جعل سازی ہو جائے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں انتخابی عمل کروڑوں افراد پر مشتمل ہوتا ہے، وہاں معمولی غلطی بھی بڑے پیمانے پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے الیکشن کمیشن کو زیادہ ذمہ داری اور حساسیت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
راہل گاندھی کے یہ انکشافات محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک عوامی تنبیہ ہیں۔ ان کا مقصد جمہوریت کے وقار کی حفاظت ہے، چاہے ان کے دعوے پر سیاسی اختلاف کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ چوری کا یہ سلسلہ جاری رہا تو عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا اور ملک کی جمہوری روح مردہ ہو جائے گی۔ جمہوریت کی اصل طاقت عوام کے اعتماد میں ہے، اور جب یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو ادارے خواہ کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، وہ اپنا جواز کھو دیتے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے۔ ووٹر لسٹوں کی بایومیٹرک تصدیق لازمی بنائی جائے اور ہر ووٹر کارڈ کو آدھار یا دیگر معتبر قومی شناختی دستاویز کے ساتھ منسلک کیا جائے، تاکہ شناختی تضادات اور جعلی اندراجات کا امکان کم ہو۔ ووٹرز کی تصاویر، پتے اور شناختی معلومات کی تصدیق خودکار ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جانی چاہیے تا کہ شواہد کی درستگی اور تفتیش میں شفافیت بڑھے۔ ساتھ ہی ووٹر لسٹوں کی عوامی نگرانی کا ایک فعال میکانزم قائم کیا جائے تاکہ شہری خود اس عمل کا حصہ بن کر انتخابی شفافیت کی ضامن بن سکیں۔
راہل گاندھی کے پیش کردہ اعداد و شمار نے ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ کیا ہم واقعی اس جمہوریت پر فخر کر سکتے ہیں جس میں ووٹ محفوظ نہیں؟ کیا ہم ایسے انتخابی نظام کو برداشت کر سکتے ہیں جو عوامی رائے کو مسخ کرے؟ اگر نہیں، تو ضروری ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم اپنی جمہوری ذمہ داری کو سمجھیں اور اس نظام کی اصلاح کے لیے متحد ہوں۔
جمہوریت کا اصل حسن اس کی خود احتسابی میں پوشیدہ ہے۔ اگر راہل گاندھی کے انکشافات کے بعد عوام، میڈیا، عدلیہ اور انتظامیہ خاموش رہیں تو یہ خاموشی آنے والی نسلوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ووٹ کی چوری صرف انتخابی بددیانتی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی چوری ہے۔ جب ووٹ کا تقدس پامال ہوتا ہے تو جمہوریت کی روح کمزور پڑ جاتی ہے، اور جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو نظام کی مضبوط ترین دیواریں بھی بکھرنے لگتی ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی ادارے اپنی غیرجانبداری ثابت کریں، تمام سیاسی جماعتیں شفافیت کی حمایت میں متحد ہوں، اور عوام اپنی بیداری کو مضبوط بنائیں۔ جمہوریت کو بچانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ کیونکہ اگر ووٹ پر چوری کا سایہ پڑ گیا تو جمہوریت کی روشنی ماند پڑ جائے گی۔ راہل گاندھی کے انکشافات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جمہوریت صرف انتخاب کا نام نہیں بلکہ اعتماد، مساوات، شفافیت اور انصاف کا مجموعہ ہے اور اس اعتماد کو بحال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
(ڈسکلیمر: اس مضمون میں بیان کردہ تمام معلومات عوامی سطح پر موجود ذرائع اور سیاسی بیانات پر مبنی ہیں۔ مضمون نگار کا مقصد کسی فرد یا ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ انتخابی شفافیت پر عوامی بحث کو فروغ دینا ہے۔)
شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
9716518126
shamsaghazrs@gmail.com