آب زم زم کے برکات و خصوصیات

Spread the love

*آب زم زم کے برکات و خصوصیات اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی زبانی تحریر: ڈاکٹر محمد کاشف رضا شادؔ مصباحیمدرس: دارالعلوم رضائے مصطفے – خطیب و امام: مسجد پیر محمد بخاری – گل برگہ shaadmisbaahi@gmail.com9902371231https://whatsapp.com/channel/0029VaAYig972WU0Y3SnwW0rزم زم کہنے کو تو ایک پانی ہے لیکن قدم اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام سے لمس نے اسے ایسا قابل قدر اور عظمت والا بنا دیاکہ ڈبوں میں بھرا جانے لگا،ہر گھر رکھا جانے لگا، دنیا کے گوشے گوشے میں بھیجا جانے لگا، دوست و احباب اور رشتہ داروں کو تحفتاً تبرکاً دیا جانے لگا، بیمار بطور دوا استعمال کر کے شفا پانے لگے، اچھے پی کر تندرست ہونے لگے ۔زمزم کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کی سعادت کیا ملی کہ اس کا قطرہ قطرہ موجب فوائد و برکات بن گیا۔ آقائے دو جہاں ،غیب داں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا *”زمزم جس نیت کے ساتھ پیا جائے وہی نیت پوری ہوتی ہے “*۔ ذیل میں ہم زمزم کے ان فوائد وبرکات اورخصوصیات کا تذکرہ کرتے ہیں جو اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری (1272 ہجری تا 1340 ہجری )کے “الملفوظ” میں مختلف جگہوں پر بکھرےہوئے ہیں اور قارئین کے لئے مفید )ہیں۔ *آب زم زم غذا بھی ہے اور دوا بھی:* اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری فرماتے ہیں کہ “جس کے پاس زمزم شریف کافی مقدار میں ہو اسے نہ کسی غذا کی ضرورت ہے نہ دواکی اور پھر اپنی اس بات کی تائید میں نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ ارشاد نقل فرمایا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا *کہ”زم زم کھانے کی جگہ کھانا ہے اور دوا کی جگہ دوا”* پھر حضرت رضا بریلوی علیہ الرحمہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان کی واقعیت پر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ پیش کرتے ہیں کہ آب زمزم میں کیسی غذائیت ہے *”ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ جب ضعیف اسلام تھا صحابہ چالیس تک نہ پہنچے تھے اس زمانہ میں مکہ معظمہ آئے نہ کسی سے شناسائی نہ کسی سے ملاقات ایک مہینہ کامل وہی زم زم شریف پیا حالت یہ ہوئی کی پیٹ کی بلٹیں الٹ پڑیں( اس قددر توانائی آگئی)* (الملفوظ حصہ چہارم صفحہ 4)حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی حنفی قادری کے مذکورہ بالا عبارت میں جو لطافت و پختگی (دعوی اس پر حدیث پھر واقعیت پر واقعہ )ہے وہ اہل ذوق پر مخفی نہیں۔ *آب زم زم کا مزہ بدلتا رہتا ہے:* اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری فرماتے ہیں کہ *”زمزم شریف کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ ہر وقت مزہ بدلتا رہتا ہے کسی وقت کچھ کھارا پن کسی وقت نہایت شیریں اور رات کے دو بجے اگر پیا جائے تو تازہ دوہا ہوا گائے کا خالص دودھ معلوم ہوتا ہے* “( الملفوظ حصہ چہارم صفحہ 4)یہاں پر یہ بات اب مخفی نہیں رہتی کہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی نے زم زم کی خصوصیت کو معلوم کرنے اور زم زم کی اس حقیقت و خصوصیت کو اجاگر کرنے کے لیے شب و روز کے مختلف اوقات میں اسے استعمال کر کے دیکھا ہے۔ *ابتہال جاتا رہا :* اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ گائے کا گوشت کھانے سے مجھے معاً ضررہوتا ہے ایک صاحب نے میرے یہاں نیاز کا کھانا بھیجا اور ساتھ ہی ایک رقعہ میں لکھ دیا کہ اس میں سے تھوڑا سا چکھ لیں، شوربے میں مرچ زیادہ تھی اور میں مرچ کھانے کا عادی نہیں میں نے ایک بوٹی صاف کر کے کھائی بہت اچھا پکا ہوا تھا میں نے ایک بوٹی اور مانگی اس وقت معلوم ہوا کہ گائے کا گوشت ہے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوئی سید محمود علی صاحب کا خدا بھلا کرے زم زم شریف بہت سا انہوں نے بھیج دیا ہے میں نے جس وقت ابتہال (پیٹ میں تکلیف) محسوس کیا فوراً زم زم شریف پیا صبح تک برابر پیتا رہا کچھ بھی نہ ہوا۔( الملفوظ حصہ چہارم صفحہ نمبر 4) *آب زمزم سے خلش جاتی رہی:* آب زم زم کے فوائد کو بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری اپنا ایک اور ذاتی واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں پہلی بار زیارت حرمین طیبین کے لئے حاضری میں میری 22 برس کی عمر تھی میں نے دونوں وقت کی روٹی چھوڑ دی صرف گوشت پر اکتفا کرتا اور گوشت بھی دنبے کا جوسنا چرے( دست آور پتی) ہوتے ہیں کچھ روز بعد پیٹ میں خلش معلوم ہوئی حرم شریف میں جا کر قدح (پیالہ)بھرکر زم زم شریف پیا فوراً خلش جاتی رہی۔(ایضاً) *آب زم زم کا اعجاز:* اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری بیان فرماتے ہیں کہ زمزم شریف میں یہ معجزہ ہے کہ دو مہینے کا زمزم تھا اس سے نفع حاصل ہوا حالانکہ باسی پانی سے فوراً مجھے نقصان ہوتا ہے (ایضاً) *آب زم مومن و منافق کی جانچ کا ذریعہ ہے:* آب زمزم کی ایک اور خصوصیت بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری فرماتے ہیں کہ یہ جانچ ہے منافق اور مومن کی ،منافقت کبھی پیٹ بھر کر نہیں پی سکتا اور میں تو بحمدہٖ تعالیٰ اس قدر دودھ نہیں پی سکتا ہوں جس قدر زم زم شریف پی لیتا ہوں ایک بادیہ( ایک قسم کا برتن) جس میں دو سے پانی آتا تھا کبھی نصف اور کبھی اس سے زیادہ پی لیتا تھا اور جو بستہ منہ اور سر پر ڈال لیتا۔(الملفوظ حصہ چہارم صفحہ 4) *امام اہلسنت کی مرغوب چیز:* امام احمد رضا خان حنفی قادری علیہ الرحمہ کھانے پینے کی اشیاء میں اپنی پسندیدہ اشیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ کھانے پینے کی چیزوں میں مجھے زم زم شریف سے زیادہ کوئی چیز مرغوب نہیں یہاں کیا ذریعہ وہاں( مکہ معظمہ) صبح دوپہر شام ہروقت پیتا صبح آنکھ کھلی تو پہلا کام یہ کہ زم زم شریف پیتا،پانچوں نماز کے بعد پہلا کام یہی ہوتا تھا(ایضاً) *سال بھر کھانے پینے کی حاجت نہیں پڑتی:* اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری بیان فرماتے ہیں کہ چار انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام ہیں جن پر ابھی ایک آن کے لیے بھی موت طاری نہیں ہوئی دو آسمان پر سیدنا ادریس اور سیدنا عیسی علیہما الصلوۃ والسلام اور دو زمین پر سیدنا الیاس اور سیدنا خضر علیہما الصلاۃ والسلام ہر سال حج میں یہ دونوں حضرات جمع ہوتے ہیں حج کرتے ہیں ختم حج پر زم زم شریف کا پانی پیتے ہیں کہ وہ پانی ان کو کفایت کرتا ہے سال بھر کے ط عام و شراب سے( الملفوظ حصہ چہارم صفحہ نمبر 56 )قارئین !الشاہ امام احمد رضا خان حنفی قادری علیہ الرحمہ کے مذکورہ بالا اقوال و تجربات سے آب زم زم کے فوائد بالکل عیاں ہیں استعمال کر کے شفا پا سکتے ہیں ، مقاصد حاصل کر سکتے ہیں آب زم زم کی فضیلت و خصوصیت حدیث میں مسلم ہے جن پر پختہ اعتقادی کے ساتھ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی میں تجربہ کر کے فائدہ اٹھایا آپ بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *