اردو اسکول میں ہندی ہیڈ ٹیچر کو نہیں جوائن کرانے سے کشیدگی

Spread the love

اردو اسکول میں ہندی ہیڈ ٹیچر کو نہیں جوائن کرانے سے کشیدگی، اسکول کے اساتذہ دباؤ میں مکتوب 1934 کا اسکول انتظامیہ اور بچوں کی تعلیم پر منفی اثر، مکتوب کو رد کیا جائے : محمد رفیع

پٹنہ

پرائمری ایجوکیشن بہار کی ڈائریکٹر ساحلہ کے مکتوب 1934/ 14.07.2025 نے پورے بہار کے اردو آبادی کو مایوس کیا ہے۔ 90 فیصدی اردو پرائمری اسکولوں میں ہندی ہیڈ ٹیچر کو بحال کر دیا ہے۔ موصول ہو رہی خبروں کے مطابق بہت سارے اسکولوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور اساتذہ کافی دباؤ میں ہیں وہیں اس سب کا بہت برا اثر بچوں کی تعلیم پر پڑا ہے۔ یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہا ہے۔ جناب رفیع نے بتایا کہ ویشالی ضلع قومی اساتذہ تنظیم کے کنوینر محمد شاہ نواز عطا، اردو ٹیچرس ایسوسیشن ویشالی کے صدر محمد عظیم الدین انصاری و بدو پور کے جناب حسن صاحب سے یہ خبر موصول ہو رہی ہے کہ بہت جگہ اردو اسکولوں میں ہندی ہیڈ ٹیچر کو جوائن نہیں کرانے سے عوام دو گروپ میں بنٹ کر احتجاج کرنے کی حالت میں ہیں وہیں کلیجہ پر پتھر رکھ کر اردو اساتذہ انہیں جوائن کرا رہے ہیں۔ ادھر مظفر پور میں اردو پرائمری اسکول مادھو پور میں عوام نے ہندی ہیڈ ٹیچر کو جوائن نہیں کرنے دیا اور بوال کاٹا۔ اسکول میں جوائن کرنے پہنچے ہیڈ ٹیچر رتنیش کمار سے لوگوں نے کہا کہ ہمیں آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے، ہمارا احتجاج اور غصہ تو انتظامیہ کے خلاف ہے۔ اسکول کے موجودہ پرنسپل انچارج جناب زرغام اور نو معمور ہیڈ ٹیچر رتنیش کمار نے بلاک تعلیمی افسر منٹو کماری سے اس سلسلے میں راہنمائی کے لئے رابطہ کیا ہے۔ اس بیچ مقامی لوگ کیمپ کر رہے ہیں اور محکمۂ تعلیم کے افسران اسکول پر دباؤ بنا رہے ہیں کہ وہ رتنیش کمار کو جوائن کرنے دیں۔ اس بیچ سبھی اساتذہ کافی دباؤ میں ہیں، اردو پرائمری اسکول مادھو پور کے استاد غلام سرور نے قومی اساتذہ تنظیم بہار کے صدر جناب تاج العارفین کو فون کر بتایا کہ ہم لوگ کافی دباؤ میں ہیں اور کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جناب زرغام نے بتایا کہ ہمارے سامنے عجیب و غریب حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ رتنیش کمار کو جوائن کرائیں تو عوام کے غصہ کو جھیلنا ہوگا اور نہیں کرایا تو افسران کے غصہ کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی طرف سے یہ خبر موصول ہو رہی ہے کہ مجھے معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس درمیان محمد رفیع نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر پرائمری ایجوکیشن بہار نے تعلیمی اداروں میں ہیڈ ٹیچر کی پوسٹنگ کر جو غیر اطمینانی کا ماحول قائم کیا ہے اس کا بہت برا اثر تعلیمی نظام پر ہوگا۔ جناب رفیع نے کہا کہ بچہ اپنے ماحول میں اور اپنی زبان میں ہی بہتر طریقے سے سیکھ سکتا ہے، استاتذہ بھی اپنے ماحول ہی میں بہتری رزلٹ دے سکتا ہے اور ہیڈ ٹیچر کی پوسٹنگ اس میں رکاوٹ بن گئی ہے۔ محترمہ ساحلہ کو اس بات کی نوٹس لینی چاہئے اور مکتوب نمبر 1934/14.87.2025 کو رد کر اردو اسکولوں کی الگ لسٹ بنا کر اس میں صرف اردو زبان جاننے والے کو ہی ہیڈ ٹیچر کی شکل میں بحال کرنا چاہئے۔ جناب رفیع نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے ان سے میں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ اگر آپ نے ہندی ہیڈ ٹیچر کو مجبوراً جوائن کرایا تو ان سے صاف صاف کہہ دیں کہ یہ اردو اسکول ہے، یہاں تعلیم کا میڈیم اردو زبان ہے اور تمام ریکارڈس اردو رسم الخط میں ہیں جس میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ ہم لوگ برداشت نہیں کریں گے، ہاں آپ کو اردو نہیں آتی ہے تو آپ محبت سے ہماری حمایت حاصل کر سکتے ہیں نہیں تو آپ اردو جاننے والا اسسٹنٹ لے کر آئیں۔ جناب رفیع نے یہ بھی کہا کہ قومی اساتذہ تنظیم بہار اردو اسکولوں کی حفاظت کے لئے کمربستہ ہے اور لیگل قدم بھی اٹھائی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *