وقف ترمیمی بل آئینی و دینی آزادی پر شب خون، ملت ہندیہ کے وقار کو للکار

Spread the love

وقف ترمیمی بل: آئینی و دینی آزادی پر شب خون، ملت ہندیہ کے وقار کو للکار : علامہ سید نوراللہ شاہ بخاری

سہلاؤ شریف،راجستھان (پریس ریلیز)

پارلیمنٹ میں حال ہی میں منظور ہونے والے وقف ترمیمی بل کو ملت اسلامیہ ہند کے مذہبی، وقفی اور آئینی حقوق پر ایک سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے پیر طریقت، نور العلماء، حضرت علامہ الحاج سید نور اللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی (سجادہ نشین خانقاہِ عالیہ بخاریہ و شیخ الحدیث دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر،راجستھان) اور معروف عالم دین ادیب شہیر حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی (ناظم تعلیمات دارالعلوم انوار مصطفیٰ) نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

اس بیان میں دونوں حضرات نے کہا کہ وقف ایک خالص اسلامی، دینی، شرعی اور فلاحی ادارہ ہے جو صدیوں سے ملت اسلامیہ کے روحانی، تعلیمی، رفاہی اور اجتماعی مفادات کا امین رہا ہے۔ اس میں حکومتی مداخلت اور اختیارات کی جبری منتقلی، محض قانونی کارروائی نہیں بلکہ اقلیتوں کی خودمختاری پر کاری ضرب اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔

حضرت علامہ سید نور اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ :یہ بل دراصل اقلیتوں کے مذہبی تشخص کو مٹانے، ان کی خودمختار شناخت کو ختم کرنے، اور دینی اداروں کو بیوروکریٹک جکڑ میں لانے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔”انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ جو سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو سیکولر، انصاف پسند اور آئینی اصولوں کی علمبردار بتاتی ہیں، وہ یا تو اس بل کی حمایت میں شامل ہو گئیں یا مکمل خاموش رہ کر اپنی حقیقت واضح کر گئیں۔

انہوں نے مزید فرمایا:”آج ضرورت ہے کہ ملت اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرے اور ان چہروں کو پہچانے جو بظاہر دوستی کا دعویٰ کرتے ہیں مگر عملًا دشمنی کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔

مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی نے کہا کہ:”وقف کی زمینیں محض جائیداد نہیں بلکہ قوم کی روحانی و سماجی زندگی کا ستون ہیں۔ اگر انہیں سرکاری شکنجے میں کسا گیا تو ہماری مساجد، مدارس،خانقاہیں، یتیم خانے اور دینی خدمات کا نظام شدید متاثر ہوگا

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ قوم محض احتجاجی بیانات سے آگے بڑھ کر آئینی، پرامن، منظم اور دور رس حکمت عملی اختیار کرے، تاکہ حکومت کو اس غیر منصفانہ اور متعصبانہ قانون کو واپس لینے پر مجبور کیا جا سکے۔

بیان کے آخر میں حضرت علامہ سید نوراللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی نے شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال کے اس روح پرور شعر کے ذریعے ملت کو حوصلہ، عزم اور بیداری کا پیغام دیا:نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقییہ مشترکہ بیان خانقاہِ عالیہ بخاریہ اور دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں تمام دینی و ملی اداروں، مسلم قیادت اور باشعور عوام سے اپیل کی گئی کہ اس بل کے خلاف ملک گیر آئینی و جمہوری جدوجہد کا آغاز کریں اور اس کو ایک ملی تحریک کی شکل دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *