آؤ پٹنہ چلیں
گاندھی میدان بھریں – آؤ پٹنہ چلیں
محمد اسعداللہ قاسمی
مینیجر نقیب
امارت شرعیہ پھلواری شریف
پٹنہ، بہارMob: 9576507798
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ،پٹنہ
مفکر ملت امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم نے وقف ایکٹ کے خلاف مہم کو تیز کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تجویز کے مطابق دیگر ملی تنظیموں کو ساتھ لے کر 29جون 2025 کو ”وقف بچاؤ دستور بچاؤ“ کے عنوان پر گاندھی میدان بھرنے کی غرض سے ”آؤ پٹنہ چلیں“ کی آواز لگائی ہے
مختلف اضلاع سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں وقف ایکٹ 2025 کے خلاف جو غم وغصہ ہے اور جس طرح ان میں جوش وخروش پایا جارہا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ 29 جون 2025 کو پٹنہ مسلمان کثیر تعداد میں پہونچیں گے اور اپنے قائد کی آواز پر نہ صرف گاندھی میدان کو بھریں گے
بلکہ اس دن گاندھی میدان کے قرب وجوار اور گلیوں میں بھی مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آئے گا۔اس ایکٹ میں جس طرح آثار قدیمہ کے نام پر اوقاف کو سرکاری ملکیت بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور جس طرح اوقاف کی زمینوں کو متنازع قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے محروم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے
دوسروں کے حقوق متعلق ہونے کا شوشہ چھوڑ کر وقف علی الاولاد کو ختم کیا جارہا ہے، نئے اوقاف کے قیام میں پانچ سال تک عملی مسلمان ثابت کرنے کی بات کہی گئی ہے
ان سب کا خلاصہ یہی تو یہ ہے کہ جو قدیم اوقاف ہیں ان کو اس ایکٹ کے ذریعہ ختم کردیا جائے اور ایسی پابندیاں لگادی جائیں کہ نئے اوقاف قائم نہ ہوسکیں۔
پورا ہندوستان جانتا ہے کہ کسی بھی وقف کی زمین کو آج کے دنوں میں ایک جھنڈا گاڑ کر متنازع بنادیا جارہا ہے، کھدائی میں دو چار کنکر، شنکر کے روپ میں برآمد کرلیے جارہے ہیں اور لوہے کا فوارہ والا پائپ شیولنگ بنا دیا جارہا ہے، گیان واپی مسجد، متھرا کی عیدگاہ، سنبھل کی مسجد کی یہی تو کہانی ہے
پھر جب اوقاف کی زمین متنازع ہوگئی تو اب ڈی ایم کے مرتبہ سے اوپر کا کوئی افسر اس کا فیصلہ کرے گا، فرض کرلیجئے کہ ڈی ایم نے کسی وقف کی زمین پر سرکاری ہونے کا دعویٰ کیا، فیصلہ اس افسر کے پاس جائے گا جو سرکاری ہے
گویا مدعی بھی سرکار اور منصف بھی سرکار، دنیا نے کاہے کو کبھی انصاف کا ایسا نظام دیکھا ہوگا، جس میں مدعی ہی منصف بن گیا ہو، ایسے میں انصاف کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے، پہلے تنازع کا معاملہ وقف ٹریبو نل میں جاتا تھا، فریقین مطمئن نہیں ہوتے تو ہائی کورٹ، سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا ہوتا تھا
اب ٹریبونل کو بے اثر کردیا گیا ہے، حالاں کہ پورے ملک کے مختلف محکموں میں ٹریبونل اب بھی قائم ہیں اور ان کے فیصلے اثر انداز ہوتے ہیں۔جن اوقاف کی جائیداد کو دوسروں کے حقوق متعلق ہونے کی وجہ سے منسوخ کیا جارہا ہے وہ شریعت اسلامیہ سے ناواقفیت کی دلیل ہے، پوری دنیا اس بات کو جانتی ہے کہ اسلام میں مورث کی ملکیت میں کسی کا حصہ نہیں ہوتا
وہ اسے فروخت کرسکتا ہے، دوسروں کو ہبہ کرسکتا ہے، سرکار کہتی ہے وقف نہیں کرسکتا، جب اس کی زندگی میں کسی کا حصہ جائیداد میں ہے ہی نہیں تو وہ جس طرح بیچ سکتا ہے
اسی طرح رفاہی کاموں کے لیے وقف کرسکتا ہے، وقف ایکٹ 2025 میں سرکار کو یہ منظور نہیں، یہ اسلامی شریعت میں کھلی ہوئی مداخلت ہے۔
وقف مسلمانوں کی چیز ہے اور دوسروں کو اس میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے، لیکن اس ایکٹ میں کمیٹی کی تشکیل کا ایسا خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ بعض حالات میں بورڈ اور کونسل میں غیرمسلموں کی اکثریت ہوجائے گی
حالاں کہ یہ بات عقل عام اور کومن سنس کی ہے کہ جب رام مندر ٹرسٹ، گرودوارہ پر بندھک کمیٹی اور ہندونیاس بورڈ میں کوئی مسلم ممبر نہیں ہوسکتا تو سرکار کو کیوں ضد ہے کہ وقف کونسل اور بورڈ میں غیرمسلم ممبر ہوں گے اور چوں کہ ایکس آفیو عہدہ کے اعتبار سے ممبرہونے میں مسلم ہونے کی قید نہیں لگائی گئی ہے
اس لیے غیرمسلم بڑی تعداد میں ممبر ہوسکتے ہیں، سرکار نے اس وقف ایکٹ کے حوالہ سے عوام کو گمراہ کرنے کی جو مہم چلا رکھی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے کمزور طبقات اور خواتین کو فائیدہ پہونچے گا، ایکٹ میں کوئی ایسا طریقہ کار اور میکنزم نہیں بتایا گیا ہے جس سے کمزور طبقات اور خواتین کو اس ایکٹ سے کوئی فائیدہ پہونچے۔
اس کے برعکس اوقاف کی آمدنی کو سرکار ترقیاتی کاموں میں استعمال اور افراد کو خود کفیل بنانے کا دلکش نعرہ لگا رہی ہے
اس نے ڈولپمنٹ اور امپاورمنٹ کو وقف ایکٹ کے نام کا جز بنادیا ہے، ہمیں نہ تو ڈولپمنٹ پر اعتراض ہے اور نہ امپاورمنٹ پر، ہمیں اعتراض اس بات پر ہے کہ جن اوقاف کو واقف نے مسجد مدرسہ، قبرستان، خانقاہ، امام باڑہ، کربلا، مسافرخانہ کے لیے وقف کیا ہے تو اس کی آمدنی مطلقاً ترقیاتی کاموں میں لگانا شرعاً جائز نہیں ہے
اس کا استعمال واقف کی منشاء کے مطابق ہی کیا جاسکے گا اور منشاء واقف کی رعایت دین وشریعت کا حصہ ہے، مسلمان اس سے دست بردار نہیں ہوسکتا۔اس لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارت شرعیہ اور دیگر ملی تنظیموں نے عہد کر رکھا ہے کہ سرکار کو اس قانون کو واپس لینا ہی ہوگا، یہ وقف کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم کوئی انوکھا مطالبہ رکھ رہے ہیں
اس کے قبل سرکار نے کسانوں کے خلاف بنائے گیے قانون کو واپس لیا ہے، اسی طرح کا لیجیم ایکٹ یعنی ججوں کی بحالی کے سلسلے میں سرکار نے جو قانون بنایا تھا اسے ججوں اور وکیلوں کے پُرزور مطالبہ پر واپس لیا گیا۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ہم یہ لڑائی صرف وقف بچانے کی غرض سے نہیں لڑ رہے ہیں، بلکہ ہماری منشاء دستور ہند کی حفاظت کی بھی ہے، دستور ہند میں جو مذہبی آزادی دی گئی ہے اور اقلیتوں کو جو حقوق دیے گیے ہیں
یہ وقف ایکٹ ان دفعات اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے، گویا ہم وقف بچانے کے ساتھ دستور بچانے کی بھی لڑائی لڑ رہے ہیں، اسی لیے گاندھی میدان بھرنے اور آؤ پٹنہ چلیں کا جو عنوان رکھا گیا ہے
وہ وقف بچاؤ اور دستور بچاؤ کانفرنس ہے، ایک اچھے شہری ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے دین کو بھی بچائیں اور اس ملک کی قانون کی حفاظت کے لیے آگے آئیں۔
اس موقع سے یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ چند افراد اس پروگرام کے سلسلے میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، قسم قسم کی افواہیں، وھاٹسپ اور سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں ان لوگوں سے ہوشیار رہیں اور کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہے۔