پھانسی سے بچانے کی کوشش
پھانسی سے بچانے کی کوشش … ودود ساجد
(روز نامہ انقلاب میں شائع ہفتہ وار کالم رد عمل)
کیرالہ کی 36 سالہ ہندو نرس ’نمشا پریا‘ اس وقت ملک یمن کی سینٹرل جیل میں ہے۔ اس کے اوپر اپنے کاروباری شریک ’طلال عبدہ مہدی‘ کے قتل کا الزام ہے۔
حوثیوں کی شرعی عدالت بہت پہلے پریا کو پھانسی کی سزا سنا چکی ہے جس کی توثیق وہاں کی سپریم کونسل بھی کرچکی ہے۔ سپریم کونسل پریا کی حتمی اپیل کو بھی ٹھکرا چکی ہے۔
پریا کی ماں یمن کے دارالسلطنت ’صنعاء‘ میں اپنی بیٹی کی سزا معاف کرانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔ ہندوستان میں بھی غیر سرکاری سطح پر اس کی رہائی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
سپریم کورٹ میں بھی اس کی رہائی کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس کے جواب میں حکومت ہند نے کہا ہے کہ ’وہ بھی امکانی حد تک کوششیں کر رہی ہے۔‘ تاہم بہت زیادہ اس کے ہاتھ میں کچھ ہے نہیں‘ کیونکہ یمن کی حوثی حکومت سے ہندوستان کے سفارتی رشتے نہیں ہیں۔
اب پریا کو پھانسی کے پھندہ سے بحفاظت ہندوستان لانے کا واحد راستہ مقتول کے اہل خانہ کا اسے معاف کردینا ہے۔ یمن میں کہا جاتا ہے کہ شرعی قوانین نافذ ہیں جن میں قصاص (قتل کے بدلے قتل) اور دیت (رقم لے کر معاف کرنے) کے ضابطے بھی شامل ہیں۔
پریا کو رہا کرانے کی کوششیں شریعت اسلامیہ کے وضع کردہ انہی اصولوں کے سہارے کی جارہی ہیں۔ ہندوستان ٹائمز نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ’صرف اسلامی قانون ہی پریا کی زندگی بچاسکتا ہے‘۔
اس ضمن میں کیرالہ کی ایک علمی شخصیت شیخ ابوبکر مسلیار اور ’لولو گروپ آف کمپنیز‘ کے یوسف علی بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ شیخ مسلیار کا دعوی ہے کہ انہوں نے یمن کے مفتی اعظم سے اپنے مراسم کی بنیاد پر رابطہ کیا ہے اور اسی کے سبب پریا کی پھانسی فی الحال ٹل گئی ہے۔
ان کی کوشش ہے کہ مقتول کے اہل خانہ پریا کو معاف کردیں۔ یوسف علی نے بھی کہا ہے کہ اگر مقتول کے اہل خانہ مان جائیں تو وہ ’دیت‘ کی رقم ادا کرنے کیلئے تیار ہیں
۔۔۔ 2012 میں سوڈان کے ایک بچے کو کیرالہ کے ایک ڈرائیور کرشن نے ابوظہبی میں کار سے کچل کر ماردیا تھا‘ مقتول کے اہل خانہ نے ڈرائیور کو معاف کرنے سے انکار کردیا تھا
لیکن یوسف علی کی کوششوں سے سوڈان کا غریب خاندان دیت کی رقم لینے پر آمادہ ہوگیا اوراس نے کرشن کو معاف کردیا تھا۔ اس مہم پر یوسف علی نے کئی کروڑ روپیہ خرچ کئے تھے۔
پریا کو 16 جولائی کو پھانسی دی جانی تھی۔ پھانسی گھر کے افسر نے یک سطری بیان جاری کرکے کہا ہے کہ پریا کی پھانسی فی الحال ملتوی کی جارہی ہے۔
خبروں کے مطابق یہ اعلان اس لئے کرنا پڑا کہ مقتول کے اہل خانہ سمیت بہت سے یمنی شہریوں کے پھانسی گھر کے پاس جمع ہونے کا امکان تھا اور پھانسی واقع نہ ہونے کی صورت میں نظم و نسق کے بگڑنے کا اندیشہ تھا۔
شیخ مسلیار نے راقم السطور کو فون پر بتایا کہ کیرالہ کے ایک سیاستداں نے ان سے مدد کی درخواست کی اور انہوں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق پریا کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی۔
انہیں امید ہے کہ پریا کی مستقل جاں بخشی ہوجائے گی۔ کیرالہ کے پلکڈ ضلع کی مذکورہ نرس 2008 میں روزگار کیلئے اس وقت یمن گئی تھی جب وہ 19 برس کی تھی۔
دس سال کے بعد اس نے کیرالہ کے ہی ایک ڈرائیور سے شادی کرلی۔ اس کے یہاں ایک بچی کی ولادت بھی ہوگئی۔ ہسپتال کی تنخواہ میں اب ان تینوں کے اخراجات پورے ہونے میں دشواری ہونے لگی۔
لہٰذا پریا نے وہاں اپنا پرائیویٹ کلنک کھولنے کا ارادہ کیا۔ متعدد عرب ملکوں کی طرح یمن میں بھی اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے مقامی شریک کار کا ہونا ضروری ہے۔
لہٰذا پریا نے ایک مقامی تاجر ’طلال عبدہ مہدی‘ کو کلنک میں شریک کار بنالیا۔ @بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریق کے درمیان خوشگوار کاروباری رشتے قائم ہوگئے۔
یہاں تک کہ یہ یمنی نوجوان پریا کی بچی کی تقریب کے سلسلہ میں اس کے ساتھ کیرالہ بھی آیا تھا۔ پریا کے اہل خانہ یمنی نوجوان کے حسن سلوک سے بہت متاثر ہوئے تھے۔
کچھ دنوں کے بعد تین افراد کے اس چھوٹے سے گھر کیلئے بھی یمن میں اخراجات نکالنے مشکل ہوگئے ۔
لہٰذا اس کا شوہر اپنی بچی کے ساتھ کیرالہ واپس آگیا اور پریا وہیں مقیم رہی۔یہاں سے حالات نے ایک اور پلٹا کھایا اور پریا کے اہل خانہ کے مطابق اس کا مقامی شریک کار اس کا جسمانی استحصال کرنے لگا۔ اس نے پریا کے سفری دستاویزات بھی اپنے قبضہ میں لے لئے۔ پریا یمنی نوجوان کے رویہ سے تنگ آگئی تھی اور اس کے قبضہ سے سفری دستاویزات حاصل کرنا چاہتی تھی۔
تاہم اس نے اپنے جسمانی استحصال اور سفری دستاویزات پریمنی شریک کار کے قبضہ کی شکایت پولیس سے نہیں کی۔ بی بی سی کے مطابق ا س نے 2017 میں طلال عبدہ مہدی کو کچھ فرحت بخش یا نیم مدہوش کرنے والی شئے پلادی تاکہ اس کے قبضہ سے اپنے سفری دستاویزات حاصل کرسکے۔
لیکن مسکن شئے کی مقدار زیادہ ہوگئی اور اس سے طلال کی موت ہوگئی۔ بی بی سی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پولیس کی تفتیش اور مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق ’پریا نے لاش کو ٹھکانے لگانے کیلئے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے چھت پر پانی کے ٹینک میں ڈال دیا۔
پھر اس نے یمن سے بھاگنے کی کوشش کی اور گرفتار کرلی گئی۔ حیرت ہے کہ ہندوستان کا میڈیا پریا کے ذریعہ طلال کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پانی کے ٹینک میں پھینک دینے کا کوئی ذکر نہیں کر رہا ہے۔
جب کہ اسی طرح کے ایک واقعہ میں یہاں آفتاب کے ذریعہ اپنی معشوقہ کے قتل کا سہارا لے کر اس نے ہندوستانی مسلمانوں کو وحشی اور دہشت گرد ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
طلال کے اہل خانہ اور خاص طور پر اس کا بھائی قصاص لینے پر بضد ہے اور معاف کرنے یا دیت کی رقم لے کر قضیہ کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
عبدالفتاح المہدی نے فیس بک پوسٹ میں عربی زبان میں لکھا ہے کہ ’’چاروں طرف سے ہر طرح کے دبائو کے باوجود ہم اپنے مطالبہ پر اٹل ہیں اور ہمیں پھانسی سے کم کچھ نہیں چاہیے۔
ثالثی کی کوششوں سے جو کچھ حاصل ہوا وہ کوئی نئی بات نہیں ہے‘ ہمیں اس پر کوئی حیرت بھی نہیں ہے‘ ان تمام برسوں میں ڈھکی چھپی کوششیں ہوتی رہی ہیں‘ یہ ایک معمول کی اور متوقع بات ہے‘ لیکن دبائو نے ہمارے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے‘ ہمارا مطالبہ انتقام ہے اور اس سے کم کچھ نہیں۔
پھانسی میں تاخیر انتہائی غیر متوقع ہے لیکن جن لوگوں نے پھانسی کو رکوانےکی کوششیں کی ہیں انہیں یہ ضرور جان لینا چاہئے کہ مہدی خاندان مصالحت کی ایسی تمام کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔
پھانسی میں تاخیر اورغیر معمولی دبائو ہمیں ٹس سے مس نہیں کرپائے گا‘ کیونکہ خون خریدا نہیں جاسکتا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے‘ پھانسی رک نہیں پائے گی
۔‘‘یمن کے ضابطہ کے مطابق ملزمہ کے اہل خانہ براہ راست متاثر کے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے ثالث کی ضرورت ہوتی ہے۔ چوں کہ حکومت ہند نے حوثیوں کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس کا سفارتی تعلق عدن میں موجود حوثی مخالف فریق سے ہے اس لیے حکومتی سطح پر رابطہ کرنے میں دشواری ہے۔ یمن میں مقیم ہندوستانی شہری ایک ایکشن گروپ بناکر رہائی کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے 34 لاکھ روپیہ سے زیادہ کی رقم جمع کرلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیت کی رقم کی بات ثانوی ہے‘ پہلے یہ ضروری ہے کہ مقتول کے اہل خانہ معاف کرنے پر رضامند ہوجائیں۔
طلال ایک نوجوان تاجر تھا اس لیے اس کا امکان کم ہے کہ اس کے اہل خانہ کو دیت کی رقم سے ’رام‘ کیا جاسکتا ہے۔ وہ اس کے قتل کے علاوہ اس کی لاش کے ساتھ کئے جانے والے وحشیانہ سلوک سے بھی صدمہ میں ہیں اور اب قصاص چاہتے ہیں۔
مذکورہ ایکشن گروپ نے یہاں سپریم کورٹ سے کہا کہ ایک سہ رکنی عوامی وفد کو یمن جانے کی اجازت دی جائے۔ لیکن حکومت نے عدالت میں جو جواب دیا ہے وہ ثالثی کی کوششیں کرنے والوں کے لیے زبردست جھٹکا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ یمن میں مقتول کے اہل خانہ سے صرف متاثرہ کے اہل خانہ کو ملنا چاہیے باقی کسی کو نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ثالثی کی کوششوں سے کوئی خاص فرق پڑنے والا نہیں ہے بلکہ اس سے بات بگڑ سکتی ہے۔ یعنی حکومت ہند پھانسی کو ملتوی یا موخر کرانے کی کوشش کرنے والوں کی ممنون احسان تک نہیں ہے اور جن کی وجہ سے پھانسی ٹلی ہے ان کے ثالثی کرنے سے بات کے خراب ہوجانے کا اندیشہ ظاہر کررہی ہے۔
یمن میں 2011 میں سیاسی حالات خراب ہوگئے تھے اور کیرالہ کی دو درجن نرسیں ہندوستان واپس آگئی تھیں۔ لیکن پریا ان حالات میں بھی واپس نہیں آئی۔ اس کے ساتھ کئی درجن نرسیں اور تھیں جنہوں نے کسب معاش کی خاطر وہیں رہنا پسند کیا۔ سینئر کانگریس سیاستداں کے سی جوزف نے بتایا تھا کہ یمن سے چند ہی نرسیں واپس آنا چاہتی ہیں۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ ہندوستان میں روزگار کے حالات اتنے خراب ہیں کہ یمن میں خراب سیاسی حالات کے باوجود نرسوں نے وہیں رہنا پسند کیا۔
مختلف رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک میں کیرالہ کی 60 ہزار نرسیں کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے اکثر نرسیں عرب ملکوں میں تنہا رہتی ہیں۔ وہاں کفیلوں یا شرکاء کار کے منفی رویہ کی شکایتیں آتی رہتی ہیں۔ پریا کو بچانے کی کوششوں پر کئی سوال ایسے ہیں جو کئے جانے چاہئیں۔
اگر پریا نے یہ قتل یمن میں کسی ہندوستانی کا کیا ہوتا تو کیا اس وقت بھی اسے بچانے کی ایسی ہی کوشش کی جاتی؟ آخر دوسرے ملک میں کسی سزایافتہ ہندوستانی مجرم کو بچانے کی کوششیں کیوں کی جاتی ہیں؟ اس واقعہ کا تعلق ثابت شدہ جرم سے ہے تو مجرم کو بچانے سے ہندوستان کے معاشرہ کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟
اگر یہ کوشش یہاں ’تالیف قلب‘ کی خاطر ہے تو یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اب تک کئے جانے والے تالیف قلب کے ہزاروں لاکھوں واقعات سے کیا ملا؟ہندوستان میں 2024 کے آخر تک ایسے 24 ہزار لوگ تھے جنہیں عدالتوں سے ضمانت مل گئی تھی لیکن وہ زر ضمانت جمع نہ کرا پانے کی وجہ سے جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔
متعدد رپورٹس کے مطابق ہندوستان کی جیلوں میں سب سے زیادہ مسلمان ہی ہیں۔ انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کی رپورٹ ہے کہ اس وقت ہندوستان کی جیلوں میں 30 فیصد سے زیادہ قیدی مسلمان ہیں۔ ان کی آبادی 14.6 فیصد ہے لیکن 16.6فیصد سزا یافتہ ہیں۔ 18.7 فیصد زیر سماعت قیدی ہیں اور 35.8 فیصد زیر حراست ہیں۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کوششیں ان کے لیے نہیں کی جاسکتیں؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا یمنی شہری انسان نہیں تھا؟ کیا اس کا قتل نہیں ہوا؟ اور کیا اس کا قتل پریا نے نہیں کیا؟
ظاہر ہے کہ یہ کوششیں شریعت اسلامیہ میں دی گئی رعایت کے سبب ہی کی جارہی ہیں۔ حیرت ہے کہ ہندوستان کا یہی میڈیا اور شرپسند گروپ شریعت اسلامیہ کی سزائوں کو وحشیانہ قرار دے کر اسلام کو لعن طعن کرتے رہے ہیں۔
آج شریعت اسلامیہ میں دی گئی سہولت کا فائدہ اٹھانے کی انہیں اتنی عجلت ہے کہ مقتول کے بھائی کی زبان میں ان پر غیر معمولی دبائو ڈالا جارہا ہے۔ اس منافقت کا کیا کوئی نام ہے؟