خراجِ عقیدت بمناسبت یومِ ولادت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

Spread the love

خراجِ عقیدت بمناسبت یومِ ولادت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

یومِ ولادتِ باسعادت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے موقع پر یہ بندۂ خاکسار عالمِ اسلام کی اس نابغۂ روزگار، عبقری شخصیت کی بارگاہِ اقدس میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے

جن کے فضل و کمال، علوم و معارف، فہم و فراست، فقہ و فتاویٰ اور عشقِ رسالت نے چودہویں صدی کو ضیابار کر دیا۔ آپ کو آپ کے ہی زمانے میں عرب و عجم کے علما و فقہا نے مجددِ دین و ملت تسلیم کرلیا تھا۔عشقِ رضا کا رنگ یہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر کے عشاقِ اہلِ سنت اپنی بساط کے مطابق آپ کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت و محبت پیش کرتے ہیں۔

یہ محبت و وفا کا ایک ایسا سمندر ہے جس میں ہر سچا سنی اپنے ظرف کے مطابق ڈوبنا باعثِ افتخار سمجھتا ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو؟ اہلِ محبت کا یہی شعار ہے کہ جس سے محبت ہو، اُس کا ذکر کیا جائے، اس کی نسبت پر فخر کیا جائے، اور اس کے نقشِ قدم پر چلا جائے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنی عظیم المرتبت ہستی کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرنا اس عاجز کے لیے ایک نہایت ہی مشکل اور نازک کام ہے۔ میرے پاس نہ علم کا سرمایہ ہے، نہ عمل کا ذخیرہ۔

ہاں! ایک دولت ضرور ہے جس پر میرا فخرکرنا بجا ہے، اور وہ ہے راسخُ الاعتقادی۔ یہ دولت مجھے اعلیٰ حضرت کے در دولت سے ملی ہے، اور یہی میرا سرمایۂ ایمان ہے

الحمدللہ!اسی نسبت پر مجھے یاد آ رہا ہے کہ میرے ابتدائی استاد، الحاج مولوی محمد اسماعیل صاحب علیہ الرحمہ، جنہوں نے چرہ محمد پور کی جامع مسجد کو تبلیغ و اصلاح کا مرکز بنایا

سچے عاشقِ اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ نہ صرف امامِ جمعہ و عیدین تھے، بلکہ علما و مشائخ اہلِ سنت، بطور خاص سیدالصوفیاء پیرطریقت حضرت سید شاہ ظل حسن اشرفی الجیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے قلبی تعلق رکھتے، اور ان کے چرہ محمد پور تشریف لانے پر خود ان کی بارگاہ میں حاضر خدمت ہوتے۔

پیرطریقت حضرت شاہ سید ظل حسن اشرفی علیہ الرحمہ کا چرہ محمد پور میں آمد و قیام صرف قیام کی حدتک ہی نہیں تھا بلکہ چرہ محمدپور آپ کا دینی و تبلیغی مرکز بھی ہوتا۔ مکہ مسجد کی تعمیر بھی انہی کے ارشاد سے عمل میں آئی تاکہ حضرت آسانی سے نمازِ پنجگانہ ادا فرما سکیں۔

یہ سب فیضانِ طریقت و روحانیت کا وہ چشمہ ہے جس سے آج بھی چرہ محمد پور کی زمین سیراب ہو رہی ہے، اور یہ فیضان ان کے صاحبزادہ و جانشین پیرطریقت حضرت مولانا سید حسنین اشرف اشرفی مدظلہ العالی کے ذریعے جاری و ساری ہے۔

اب واپس آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ ہمارے محترم استاد مرحوم کی شخصیت کی کئی خوبیاں تھیں، لیکن ایک خوبی جو مجھے ہمیشہ یاد رہے گی، وہ یہ کہ انہوں نے گاؤں میں میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی روایت قائم کی، جو آج بھی زندہ ہے۔

جب وہ اعلیٰ حضرت کا یہ مشہور زمانہ کلام ترنم سے پڑھتے:صبحِ طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑہ نور کاصدقہ لینے نور کا آیا ہے تارہ نور کاتو سامعین کی آنکھیں نم ہو جاتیں اور دل جھوم اٹھتے۔

استاذ محترم فرمایا کرتے کہ:> “چاہے مولوی چین کا ہو یا جاپان کا، امریکہ کا ہو یا افریقہ کا، دلیل صرف ایک ہے: اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ۔”اور یہ بات بچوں کے لیے اس بات کی علامت ہوتی کہ محفل میلاد اختتام کو پہنچ رہی ہے۔

چرہ محمد پور کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اسے مشرق سے حضرت مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ اور مغرب سے حضرت مخدوم احمد عبدالحق ردولوی علیہ الرحمہ کی روحانی برکات حاصل ہیں۔ اسی نسبت سے چرہ محمد پور میں قائم “دارالعلوم نورالحق” آج علم و دین کی روشنی پھیلا رہا ہے۔

یہی وہ ادارہ ہے جہاں امام علم وفن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی علیہ الرحمہ نے ۲۲ سال تک تدریس و تحقیق کی خدمات انجام دیں۔ حضرت مفتی اعظم ہند کے خلیفہ اور وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت کی صورت میں چرہ محمد پور کو وہ علمی و روحانی سرمایہ ملا جو تاریخ کا روشن باب ہے۔

ان کی خدمات اور یادیں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔اس ادارے کی ترقی و استحکام میں حضور مفکر ملت مولانا محمد حنیف قادری علیہ الرحمہ اور حاجی عزیزالرحمٰن صاحب مرحوم کا کردار مثالی رہا ہے، جن کی قربانیوں کو جتنا بھی سراہا جائے، کم ہے۔

الحمدللہ! اس گاؤں پر اعلیٰ حضرت اور ان کے خانوادہ کا فیضان بھی ساون بھادوں کی طرح برس رہا ہے۔

تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضا خان ازہری رحمۃ اللہ علیہ کی بارہا آمد اور بعد میں ان کے فرزند ارجمند حضرت قاضی القضاۃ فی الہند مفتی محمد عسجد رضا خان مدظلہ النورانی کی مسلسل سرپرستی، چرہ محمد پور کو بریلی شریف سے جوڑتی ہے۔

عزیزانِ گرامی! اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات، بابِ عقائد ہو یا بابِ اعمال، توحید ہو یا رسالت، ہر میدان میں مینارۂ نور ہے۔

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں

پس اگر ہم خود کو “اعلیٰ” بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کا مطالعہ کریں، ان کی تعلیمات کو اپنائیں اور اپنی عملی زندگی میں ان کی جھلک پیدا کریں۔

آخر میں آپ سب سے اجازت لیتے ہوئے ایک مصرعہ نذر کرتا ہوں:پھر سے ملیں گے آپ سے فصلِ بہار میں

دعاؤں کا طالب: (قاری) رئیس احمد خان

خادم:دارالعلوم نورالحق، چرہ محمد پور، فیض آباد، ایودھیا، یوپی، بھارت..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *