سیرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے چند انقلابی و اصلاحی پہلو
سیرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے چند انقلابی و اصلاحی پہلو
تحریر: محمد تفسیر القادری احمدی پیلی بھیتی
افسوس! کربلا جیسی عظیم قربانی کو محض نوحہ و ماتم، تعزیہ داری، اور رسمِ ذوالجناح تک محدود کر دیا گیا۔
گویا ایک عظیم تحریک کو چند رسوم میں دفن کر کے روحِ حسینیت سے آنکھیں چُرا لی گئیں۔حالانکہ کربلا کوئی محض واقعہ نہیں، ایک پیغام ہے ایک زندہ نظریہ، ایک ہمہ گیر انقلاب، ایک جُرات آموز درسِ صداقت ہے۔
یہ پیامِ عزیمت ہے اُس پیکرِ حق پرستی کا جس نے ظلم کے ایوانوں کو للکارا، اور باطل کے طوق کو گلے سے اتار کر راہِ حق میں سر کٹا دیا۔
یہ سیرت ہے اُس نورِ نظرِ مصطفیٰ ﷺ کی، جو نواسۂ رسول ہو کر، شہزادۂ بتول ہو کر، دینِ محمدی ﷺ کے تحفظ میں اپنے کنبے سمیت قربان ہو گیا مگر ظالم کے آگے کلمۂ حق کہنا نہ چھوڑا۔
تعارفِ امام حسین رضی اللہ عنہ
حضرت امام حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما، نبی کریم ﷺ کے چھوٹے نواسے، لختِ جگرِ سیدہ فاطمۃ الزہراء، اور شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں۔
حضور ﷺ نے اپنے دونوں نواسوں کو جنتی جوانوں کا سردار فرمایا:
“الحسن والحسین سیدا شبابِ اہلِ الجنۃ”
(جامع ترمذی، حدیث: 3768)
عبادتِ الٰہی سے گہرا شغف
امام حسین رضی اللہ عنہ کی حیاتِ طیبہ میں عبادت، خشیت، اور نماز کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ کربلا میں بھی جب دشمن تیروں کی بوچھاڑ کر رہا تھا، آپ نے وقتِ نماز مانگا اور باجماعت نماز ادا کی۔
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
“حسین رضی اللہ عنہ عبادت میں نہایت محو ہو جاتے، آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے، اور دل سراپا خشوع بن جاتا۔”
(الخصائص الکبریٰ، جلد 2)
اگر امام حسین سے محبت ہے تو صرف جلوس میں چلنے کے بجائے نماز کی صف میں کھڑے ہونا سیکھو۔
دین کی بقا کے لیے قربانی
کربلا کوئی اتفاقی سانحہ نہ تھا، بلکہ ایک عظیم الشان دینی تحریک کا نقطۂ عروج تھا، جس کا مقصد دینِ نبوی کی اصل روح کو تحریف و طغیان سے بچانا تھا۔
امام قرطبی رحمہ اللہ اس قربانی کا نکتہ بیان کرتے ہیں:
“امام حسین رضی اللہ عنہ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو مجسم کر دیا۔”
(تفسیر قرطبی، سورۃ آل عمران، 110)
آپ نے فرمایا:
“إني لم أخرج أشراً ولا بطراً ولا ظالماً، وإنما خرجت لطلب الإصلاح في أمة جدي”
(سیر اعلام النبلاء، امام ذہبی، جلد 3)
یعنی میں فتنہ، فساد، یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ امتِ محمدیہ ﷺ کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔
باطل کے سامنے انکارِ بیعت
یزید فاسق، فاجر، شرابی، اور ناحق کا علمبردار تھا۔ اس کی بیعت دین کو ضمیر بیچنے کے مترادف تھی۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا:
“مثلی لا یبایع لمثله”
(الاصابہ، ابن حجر، جلد 2)
“میرے جیسا شخص، یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔”
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“یزید کی بیعت سے انکار کرنا عینِ تقویٰ تھا، بلکہ یہی بقاۓ دین کا وسیلہ تھا۔”
(فتاویٰ رضویہ، جلد 3، ص 106)
یہی حسینیت ہے کہ باطل سے مفاہمت نہیں، بلکہ مقابلہ ہو۔
حلم، بردباری، اور اخلاقِ کریمانہ
کربلا کے میدان میں حسینیت کا مزاج لعنت، طعن، اور بددعا نہیں بلکہ بردباری، مروّت اور خلوص تھا۔
پیاسے دشمن کو پانی پلانا، رات کی مہلت دینا، اور شہادت کے وقت بھی زبان پر رحمت کی دعائیں رکھنا یہ سب آپ کے اخلاق کی بلندی کو ظاہر کرتے ہیں۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں:
“سخت ترین مصیبت میں بھی امام حسین رضی اللہ عنہ نے کبھی بددعا نہ کی۔”
(تهذيب التهذيب، جلد 2)
امام طبرانی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:
“آپ نے قاتلوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا کی، نہ کہ انتقام کی۔”
(المعجم الکبیر، حدیث: 288)
یہی ہے حسینیت غصے میں بھی حلم، اور غم میں بھی اخلاق۔
صبر و رضا کا پیکر
وہ وقت کیسا ہوگا کہ ایک باپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ذبح ہوتے دیکھے مگر زبان سے شکایت کے بجائے تسلیم و رضا کے نغمے سنائے۔
آپ نے فرمایا:
“رضاً بقضائک، تسلیماً لأمرک، یا غیاث المستغیثین”
(الکامل فی التاریخ، ابن اثیر)
امام سیوطی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
“امام حسین کی شہادت صبر و رضا، توکل و تسلیم کی معراج تھی، جو صرف خاصانِ خدا کے نصیب میں آتی ہے۔”
(تاریخ الخلفاء، ص 207)
اہلِ سنت والجماعت کا امام حسین سے محبت و عقیدت کا رشتہ ہے لیکن غلو و بدعت سے پاک، اتباع و سنت سے آراستہ ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمہ اللہ واضح کرتے ہیں:
“محرم حسین کا مہینہ ہے، تو نماز پڑھو، روزے رکھو، صدقہ دو، اور دین کو سمجھو۔ تعزیے اٹھا کر حسین پر ظلم نہ کرو۔”
(فتاویٰ رضویہ، جلد 9)
کربلا صرف گریہ کا نہیں، اپنے نفس کا ماتم کرنے کا مہینہ ہے۔
آج بھی اگر ہم حق گوئی، صداقت، نماز، دین داری، قربانی، تقویٰ ،حلم، صبر، اور اخلاق کو اپنائیں تو ہم حسینی کہلانے کے حق دار بن سکتے ہیں، ورنہ صرف جلوس و رسم کافی نہیں۔
مستند ماخذ و مصادر
القرآن الکریم
صحیح بخاری و مسلم
جامع ترمذی
الخصائص الکبریٰ – امام جلال الدین سیوطی
تاریخ الخلفاء – امام سیوطی
تفسیر قرطبی – امام قرطبی
تهذيب التهذيب – ابن حجر عسقلانی
الاصابہ – ابن حجر عسقلانی
الکامل فی التاریخ – ابن اثیر
سیر اعلام النبلاء – امام ذہبی
المعجم الکبیر – امام طبرانی
فتاویٰ رضویہ – امام احمد رضا خان بریلوی