علامہ محمد عزیر شمس خاموشی کا قافلہ، تحقیق کا مینارہ
علامہ محمد عزیر شمس خاموشی کا قافلہ، تحقیق کا مینارہ
علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ حیات و خدمات ایک منفرد کتاب کا تعارفی مطالعہ /مصنف : مولانا محمد مصطفی کعبی ازہری
ازقلم : محمد عمیر مقتدیٰ مبارک پوری
کبھی کبھی ایک شخصیت زمانے کے ہجوم میں تنہا کھڑی نظر آتی ہے۔ اس کا چرچا نہ منبروں پر ہوتا ہے، نہ رسالوں کی شہ سرخیاں بنتا ہے، مگر وہ اپنی خاموشی میں ایک ایسا انقلاب رکھتی ہے جو صرف اہلِ دل ہی محسوس کرتے ہیں۔ علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ ایسی ہی ایک شخصیت تھے—علم، تواضع، اخلاص اور تحقیق کے پیکر۔
ان کی حیاتِ مستور کو روشنی دینے والی ایک تازہ تصنیف “علامہ محمد عزیر شمس، بلکٹوا، مدھوبنی (حیات و خدمات)” ہمارے ہاتھ میں آتی ہے۔ مصنف ہیں * مولانا محمد مصطفیٰ کعبی ازہری* ہیں آپ کی شخصیت اُن اہل قلم میں سے ہے جو کم بولتے ہیں مگر جب قلم اٹھاتے ہیں تو لفظ لفظ میں اخلاص بولتا ہے۔
ان کا انداز، علمی دنیا میں کسی شور و غل کے بغیر، دھیمے لہجے میں ایک مؤثر موجودگی رکھتا ہے۔ وہ نہ خطیبانہ گرج کے اسیر ہیں، نہ قلمی دعوے کے خوگر، بلکہ ایک سادہ دل، سنجیدہ فکر اور متحرک دماغ رکھنے والے ایسے عالم ہیں جن کے نزدیک تحقیق، نسبت اور محبت تینوں لازم و ملزوم ہیں۔ ان کی تحریر میں نہ جذباتی بلند آہنگی ہے، نہ اصطلاحات کا انبار، بلکہ ایک ایسا علمی سکوت ہے جو دل پر اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے ہر جملے میں یہ بتاتے ہیں کہ تحقیق بھی محبت سے کی جا سکتی ہے، اور سادگی میں بھی گہرائی چھپی ہوتی ہے۔کمال کی بات یہ ہے کہ آپ بھی علامہ صاحب کے رشتے میں آتے ہیں ۔
محض 80 صفحات پر مشتمل یہ کتاب، کسی ضخیم جلد میں لپٹی ہوئی سوانح نہیں، بلکہ خوشبو میں بسے ہوئے وہ چند اوراق ہیں، جو قاری کو علامہ کی علمی دنیا، خاندانی عظمت، اخلاقی وقار اور فکری استغراق کی سیر کراتے ہیں۔ مصنف نے قاری کو تحقیق کے سنگلاخ پتھروں پر نہیں دوڑایا، بلکہ نرمی سے علامہ کی علمی زندگی کے اہم پہلوؤں سے روشناس کرایا ہے۔
علامہ شمس رحمہ اللہ کا ایک وصف یہ تھا کہ وہ علمی دنیا کی ہنگامہ خیزی سے دور، گوشۂ تنہائی میں، خامشی کے ساتھ، ایسے کارہائے نمایاں انجام دیتے رہے جن کا وزن، شور سے نہیں، معیار سے تولا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ان کی ابتدائی زندگی، خاندانی ورثہ، نیپال و سعودی عرب کی علمی سرگرمیاں، اور پاک آمد جیسے گوشے بہت محبت و بصیرت سے پیش کیے گئے ہیں۔
مصنف نے محض سوانحی خاکہ نہیں کھینچا، بلکہ ایک فکری تعلق کے ساتھ علامہ کے علمی شجر کی جڑوں کو بھی دکھایا ہے: ان کے دادا علامہ رضا اللہ بلکٹویؒ، والد مولانا شمس الحق سلفیؒ، اور نانا مولانا رحیم بیربھومیؒ جیسے علمی ستونوں کا ذکر، کتاب میں شجرۂ نور کی صورت ابھرتا ہے۔
کتاب کی وہ جھلکیاں جو قاری کو چونکا دیتی ہیں:
صفحہ 45 پر علامہ کی پاکستان آمد، وہاں کی علمی دنیا سے ربط، اور اہل علم کو تحقیق و تدوین کی جانب مائل کرنا، ایک ایسے مسافرِ علم کی تصویر ہے جو سرحدوں سے ماورا ہو کر کام کرتا ہے۔
صفحہ 54 کا وہ واقعہ—جسے شیخ جمیل اختر شفیق تیمی نے نقل کیا—قلب پر اثر ڈالنے والا، فکر کو جھنجھوڑنے والا ہے۔ گویا خامشی میں بھی ایک چیخ تھی جو سننے والوں کو ہلا دیتی ہے۔
علامہ شمس رحمہ اللہ: شخص نہیں، ادارہ تھے:
کتاب یہ باور کراتی ہے کہ علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کوئی فرد نہیں تھے، ایک علمی تحریک تھے۔ ان کے اندر بیک وقت محدث، مؤرخ، مصلح، ناقد، لغوی، ادیب، رجالی اور مدرس چھپا ہوا تھا—اور ان سب کو ایک ایسی خامشی نے سمیٹ رکھا تھا جو صرف خدا کے لیے کام کرنے والوں کا وصف ہوتی ہے۔
یہ تصنیف کسی طبع زاد محقق کی فہرستِ کمالات سے کہیں بڑھ کر ایک سادہ لیکن مؤثر بیانیہ ہے، جو نہ خودنمائی ہے، نہ تعلی، نہ مدح سرائی—بلکہ ایک ایسے مردِ علم کے لیے خاموش خراج عقیدت ہے جس کی ساری زندگی خود نمائی سے پاک تھی۔
ایسی کتابیں علمی خزانے کی زینت تو بنتی ہی ہیں، ساتھ ہی فکر و احساس کو بھی تازگی عطا کرتی ہیں۔
دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ علامہ شمسؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے جیسے رجال علم کی کمی کو پورا کرنے والے رجال پیدا فرمائے۔ آمین۔
اللہ اس علمی تحفے کو صدقۂ جاریہ بنائے، مصنف کے علم و اخلاص میں اضافہ فرمائے آمین