حافظ صاحب کا نذرانہ لاؤڈاسپیکر سے کیا درست

Spread the love

از قلم : مفتی نورمحمد قادری حسنی :: حافظ صاحب کا نذرانہ لاؤڈاسپیکر سے کیا درست ؟

حافظ صاحب کا نذرانہ لاؤڈاسپیکر سے کیا درست

ماہ رمضان المبارک اب ہم سے رخصت ہو رہا ہے اورکوچ کا ارادہ کئے ہوئے ہے،یہ الله رب العزت کی بارگاہ میں تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف ان اعمال کی گواہی دے گا جو تم نے کئے یا چھوڑ دئے،اگر اس مہینے سے تمہارے دل آباد ہوگئے اور گناہوں کے اثرات ختم ہوگئے تو یہ تمہارا کتنا اچھا مہمان ہے؟

تو کیا تم نے اس کا حق ضائع کردیا یا اس کی ایسی عزت کی جو تم پر واجب تھی؟ شاید! توبہ کرنے والوں کو یہ سال دوبارہ نہ ملے اور اگر موت نے غافل کو مہلت نہ دی تو وہ اس وقت نادم ہوگا جب ندامت کوئی فائدہ نہ دے گی،اور جب قیامت کے دن اس کے قدم ڈگمگائے جائیں گے تو اپنے گناہوں پر افسوس کرے گا

یقیناَ مقدر کا سکندر ہے وہ شخص جس نے باقی زندگی کو غنیمت جان کر نیکیوں میں جلدی کی اور بدبخت ہے وہ شخص جس نے اپنی زندگی غفلت میں گزار دی،اس شخص کو بھلائی کیونکر نہ ملے جو لیلتہ القدر میں قیام کرتاہے؟

جب ماہ رمضان المبارک آتا ہے تو جنت کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سجایا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی پہلی رات آتی ہے تو عرش کے نیچے مشیرہ نامی تیز ہوا چلتی ہے تو جنتی درختوں کے پتے پھڑ پھڑاتے ہوئے جنت کے دروازوں پر لگتے ہیں تو ان کی ایسی آواز سنائی دیتی ہے کہ کسی سننے والے نے اس سے زیادہ دلکش آواز نہ سنی ہوگی

معزز قارئین! ماہ رمضان المبارک تو ایسے گذر گیا جیسے وہ آیا ہی نہیں تھا، وہ کوتاہوں کی کوتاہیوں اور نیکوں کاروں کی نیکیوں پر گواہ بن چکا ہے جس کے حصے میں نفع یا نقصان آیا وہ اسے حاصل ہوگا- ہائے گنہگار کی حسرت اس نے وقت ضائع کردیا

اختیار رکھنے والے کی محرومی! ایسا لگتا ہے گویا اس نے موت سے امان لے رکھی ہے یا شاید تقدیر اسے دوسرے رمضان المبارک تک مہلت دے دی گی

یہ مبارک ماہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے کہ جس نے ہمارے آنسوں ختم کردئے ہیں اور خود بڑی تیزی سے ہم سے رخصت ہو رہا ہے

اب جدا ہونے والے کے لیے رونا کہاں ہے؟ بھلائی کرنے والے اور اس کی طرف رہنمائی کرنے والے کی پیروی کہاں ہورہی ہے؟

الله رب العزت کی قسم! ماہ رمضان المبارک کے روزوں اور شب بیداری کا زمانہ کتنا اچھا ہے اس ماہ مبارک کے اوقات میل کچیل کی آفات سے کتنے صاف و شفاف ہیں

اس ماہ مبارک میں تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول ہونے کی کتنی لذت ہے

جب ماہ رمضان المبارک کا آخری دن آتا ہے تو اس دن مہینے کے شروع سے آخر تک آزاد کئے ہوؤں کی تعداد کی برابر جہنم سے آزاد فرماتا ہے

اس ماہ مبارک کی جتنی تعریف و توصیف بیان کی جائے وہ کم ہے ماہ مبارک کی سحری کا لطف افطار کی پرکیف بہاریں یہ وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے اس ماہ مبارک کا احترام کیا روزے رکھے تراویح کی نماز ادا کی

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اس وقت قوم مسلم سنگین حالات سے دوچار ہے میرے علاقے کی کئ مساجد کے لاؤڈ اسپیکر حکومت کی جاری کردہ فرمان کے مطابق اتار دئے گئے یا جس مسجد میں چار لاؤڈ اسپیکر لگے تھے

ان میں دو کو اتار دیا اور دو کو یہ کہ کر چھوڑ دیا کہ آپ کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز محلے تک ہی رہے باہر نہ جائے جب کہ اس ماہ مبارک میں سحری و افطار کے وقت اس کی بہت ضرورت ہوتی ہے

ایسا نہیں ہے کہ ہمارے علاقے کے آئمہ مساجد نے اس آگاہ نہ کیا ہو کہ اپنی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو بیجا استعمال نہ کرے اصل میں قصوروار ہم خود ہیں کہ صاحب سحری کے وقت موئذن صاحب دو بجے بیدار ہوتے ہیں

اور ٹائم بول کسی نعت خواں کی کیسٹ لگا دیتے ہیں ایسا نہیں کہ اس بستی میں سارے مسلمان ہی ہوں کوئی غیر مسلم نہ ہو مذہب اسلام امن و سلامتی کا مذہب یہ کسی کو پریشان کرنے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دیتا- شہر کے با اثر آئمہ مساجد بالخصوص مفتی نور محمد قادری حسنی یکم رمضان المبارک سے آگاہ کرتے چلے آرہے تھے کہ بھائی ماحول سازگار نہیں ہے اس کے وقت پر ہی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جائے۔

جب آخر عشرے میں تکمیل قرآن مجید کا وقت آتا ہے تو حافظ صاحب کے نذرانے کے لیے بعض مساجد میں تو پورا پورا دن چندہ ہوتا ہے وہ دس روپئے پچاس روپے سو روپے کرکے میں پوچھنا چاہتا ہوں

کہ کیا یہ آواز غیر مسلموں کے کانوں تک نہیں جاتی ہوگی اس سے کیا اثرات پڑے کے مسلمانوں پر اور بعض مساجد کا حال یہ ہے کہ قرآن مجید ہوا ہے محلے کی مسجد میں اور نظرانہ وصول کیا جارہا صاحب مارکیٹ میں لوگوں کے گھروں میں جاجاکر یہ کہاں کا طریقہ ہے صاحب!

اگر قرآن مجید بستی میں سنایا گیا ہے تو یہ بستی والوں پر ضروری ہے کہ وہ اس کے اخراجات کو پورا کریں نہ کے مارکیٹ والے

میرے علاقے کی مدینہ مسجد میں یہ رائج ہے کہ وہاں پر نذرانہ لاؤڈ اسپیکر سے نہیں مانگا جاتا بلکہ محلے کے لوگ بخشوشی یہ خود کرتے ہیں خود امام صاحب کے پاس جاکر اپنا نذرانہ پیش کرتے ہیں

بعض مساجد میں خوب جم کے چندہ کیا جاتاہے امام صاحب لوگوں کے دروازے پر جا جاکر چندہ کرتے گلیوں میں گھومتے ہیں تب کہیں جاکر ایک لاکھ کے قریب نذرانہ وصول کرپاتے ہیں، مگر

میرے قصبہ کی مدینہ مسجد میں نہ کوئی اعلان نہ کسی کے دروازے پر جانے کی ضرورت مگر پھر بھی الحمدللہ ایک لاکھ سے زائد حافظ صاحب کا نذرانہ جمع ہوجاتا ہے

یہ سب اثر ہے شروع رمضان سے نمازیوں کی تربیت کا ہمیں چاہیں کہ ہم حافظ صاحب کا نذرانہ اس طرح سے کرے کہ عزت و وقار مجروح نہ ہو

از قلم : مفتی نورمحمد قادری حسنی

دارالافتاء جامعہ خدیجہ پورن پور پیلی بھیت

One thought on “حافظ صاحب کا نذرانہ لاؤڈاسپیکر سے کیا درست

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *