عورت کی خوب صورتی حیا میں اورتحفظ حجاب میں ہے
از قلم : محمد مجیب احمد فیضی عورت کی خوب صورتی حیا میں اورتحفظ حجاب میں ہے
عورت کی خوب صورتی حیا میں اورتحفظ حجاب میں ہے
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور نظام عدل ہے ،جو احترام انسانیت سکھاتا ہے، بھایئ چارگی ،اخوت ومحبت کا یکساں درس دیتا ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے جو افراط وتفریط کے درمیان ہے۔
امن واماں اور سلامتی کا خوبصورت پاٹھ پڑھاتا ہے۔ اور زندگی کے کسی شعبے میں بھی انسانیت کی تحقیر وتوہین بالکل پسند نہیں کرتا ،بلکہ ان تمام رجحانات وخیالات کا سختی کے ساتھ قلع قمع کرتا ہے ، جن سے انسانیت کی توہین وتحقیر ہوتی ہے۔
اللہ رب العزت نے عورتوں کو پردہ فرمانے کا حکم دیا تاکہ اس کی انسانی قدروں کا احترام ممکن ہو سکے۔ عورتوں کے لئے پردہ انعام خداوندی ہے۔ اس کے لیے رب کی طرف سے ملنے والا ایک بہت بڑا انعام ہے۔
اسی پردہ میں عورت کی عزت ہے ،یہی اس کی عفت وعصمت اور حیا کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔ جو عورت پردہ کرتی اللہ رب العزت اس کو دنیا وآخرت کی بہت سی نعمتیں عطا کرتا ہے ،ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اب ایک مسلمان عورت کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوش بختی ہو سکتی ہے کہ اس سے اس کا پروردگار خوش ہوجاتا ہے، خود وہ راضی ہو جاتا ہے جس نے اس کو اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔اس سے پردہ کی اہمیت کا اندازہ لگائیے کہ ایک مسلمہ خاتون کے لیے پردہ کتنے اہمیت وخصوصیت کا حامل ہے۔
اور ایک موقع پر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
“عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانکتا ہے” (ترمذی شریف)
یعنی شیطان لعین کی یہ اپنی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو اس پر برانگیختہ کرے ،اور لوگ اس طرح کے گناہ کے شکار ہوں جو رب سے ناراضگی کا خاص سبب بنے۔
چناں چہ ،اللہ رب العزت
قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
نبی !! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مسلمان مردوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنے شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے” (النور)
اور باالکل یہی حکم مسلمان عورتوں کے لیے بھی وارد ہے: چناں چہ باری تعالی ارشاد فرماتا ہے:
“انبی!! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مسلمان عورتوں سےفرما دیجئے کہ وہ سب اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے عصمتوں کی حفاظت کریں” (النور)
اللہ جل مجدہ الکریم کا اس طرح حکم فرمانا ، اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ نظروں کی بے احتیاطی کا عفتوں کی پامالی سے چولی دامن کا رشتہ ہے۔ اسی لیے حکیم مطلق نے غض بصر کے ساتھ اس کا مفاد بھی بیان فرمادیا کہ اس سے عصمتوں کی حفاظت ہوتی ہے، کیوں کہ مردوں کی نظر بے باک اور کافی حوس ناک وخطرناک ہوتی ہے، اسی لیے اس سے منع کیا گیا کہ عورتوں کو گھور گھور کر نہ دیکھے۔
اور اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:
ترجمہ: نبی کی بیویوں (امہات المؤمنین) سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھو سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ (احزاب)
سنہ پانچ ہجری میں اس کا نزول ہوا ،اس آیت کو آیت حجاب کہا جاتا ہے ۔ علماے کرام نے لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد امہات المؤمنین نے اپنے اپنے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا دیئے ۔پھر ان ہی کی دیکھا دیکھی دوسرے مسلمانوں کے گھروں میں بھی یہی طریقہ رائج ہو گیا کہ باہر کے لوگ اندر کے لوگوں کو نہیں دیکھ سکتے اور اندر کے لوگ باہر کے لوگوں کو بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔
حضرت انس اس کے نزول سے پہلے امہات المؤمنین کے حجروں میں بے فکر ہوکر آتے جاتے تھے لیکن اس کے بعد وہ اچانک جانے سے رک گئے۔ اسلامی معاشرہ کی پاکیزگی اور سکون کے لیے اسی طرح کے احکام دھیرے دھیرے نازل ہوتے رہے۔ اچانک پڑ جانے والی نظر کے متعلق رحمۃ اللعالمین نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ کو مخاطب کرکے فرمایا:
اے علی !! “نظر پر نظر نہ ڈالو کیوں کہ پہلی نظر تو تمہارے معاف اور دوسری تم پر گناہ ہے” عورتوں کے نگاہ کے متعلق سے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “نگاہیں زنا کرتی ہیں ارو ان کا زنا دیکھنا یے ، دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتا ہے۔”
جس کا مفہوم یہ ہے کہ نگاہوں کے واسطے سے دل تک جو خوبصورت تصویرں اترتی ہیں، دل اس پر خوب مچلنے لگتا ہے ،دماغ اس کے لئے پلان اور شارزشیں کرنے لگتا ہے،آخر میں شرم گاہ کی باری آتی ہے اگر وہ اس کو کر ڈالے تو جو زنا ابھی تک مجاز کی حد میں تھا اب وہ زنائے حقیقی کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔
اور ایسے ہی ایک مقام پر رب تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اے نبی !!صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی بیویوں (امہات المؤمنین) بیٹیوں اور مسلمان خواتین سے فر مادیجیے کہ وہ اپنے چہرے پر اپنے آں چل ڈال لیا کریں،اس سے قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور انہیں تکلیف نہیں پہونچائی جائے گی اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔” (الاحزاب)
اور متعدد احادیث مقدسہ بھی اس بات خوب دلالت کرتی ہیں کہ عورت اپنے چہرے کا پردہ کرے:
ملت کی ماں طیبہ طاہرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک کی ایک لمبی روایت میں فرماتی ہیں: “جب میں نے ان کے (صفوان بن معطل سلمی )”انا للہ وانا الیہ رجعون” پڑھنے کی آواز سنی تو اپنے چہرے کو اپنے دوپٹے سے ڈھانپ لیا” اور ایسے ہی حجۃ الوداع کے ضمن میں آپ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں:
“سواروں کے قافلے ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں تھے ، جب وہ ہمارے قریب آتے تو ہم اپنے آنچلوں کو اپنے سر سے لے کر چہروں پر لٹکا لیا کرتے اور جس وقت وہ ہم سے گزر جاتے تو ہم لوگ اپنے چہروں کو کھول لیتے”
ان مذکورہ بالا احادیث کریمہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مسلم خواتین کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلےتو ضرور چہرے کا پردہ کرے ،کیوں چہرہ ہی خوبصورتی یا بد صورتی کا
صحیح عنوان ہے۔ ستر عورت کے حدود کے سلسلے میں خلیفۂ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: کہ “عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم اس قدر چست ہوں کہ جسم ساخت وہیئت نمایاں ہو” (حدیث)
ان نصوص کے تناظر میں آج کے اس دور پرفتن وحوشربا اور عریانیت کے ماحول میں ذرا مسلمان خواتین کاجائزہ لیا جائے تو بہت ہی کم تعداد ایسی ملے گی جو شریعت مطہرہ کے فرمان کے مطابق کما حقہ پردے کا اہتمام کرتی ہوں۔
آج کل لباس کا ایسا چلن ہے کہ اللہ کی پناہ!! ایسے ایسے باریک اور کم لباس جس سے ستر کی مکمل طور پر حد بندی نہیں ہوتی،باریک سے باریک تر دوپٹہ اونچی شلوار جسے دیکھنے کے بعد نہ جانے دل میں کیسے کیسے تصورات پیدا ہوتے ہیں۔ اور افسوس کہ ایسے شارٹ کٹ اور کم لباس مسلمان خواتین خوب پسند کرتیں ہیں،بڑے ہی شوق کے ساتھ ان کی خریداری کرکے انہیں زیب تن کئے جانے پر فخر محسوس کیا جاتاہے ۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ اپنے لڑکوں کو غیر محرم عورتوں پر نظر ڈالنے سے روکیں اور لڑکیوں کو نامحرم مردوں سے پردہ کرنے کا حکم کریں اور حکم کی بجاآوری نہ کرنے پر سختی سے پیش آئیں۔ انہیں خوشبو لگا کر چلنے ، لوچ دار شیریں بات اور لکش اداؤں ،اور پاؤں کی جھنکار سے روکیں ، شرعی حجاب کی خوبیاں ان کے سامنے بیان کریں ۔ کیوں کہ فطری طور پر عورتوں میں مردوں کے لئے اور مردوں میں عورتوں کے لیے رغبت وضع کی گئی ہے۔
بے حیا بے مروت مرد جب کھلے عام بے پردہ عورت کو دکھتا ہے تو اپنی رمممکغبت کی تکمیل کے اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کو اپنی حوس حرص کا نشانہ بناتا ہے آئے دن یہ واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں جس اخبارات گواہ ہیں کہ لوگ کس طرح بے راہ روی کے ہوتے چلے جا رہے ہیں، اور اس کا واحد حل پردہ ہے ۔
غیر محرم مرد وعورت کی مکمل علی حدگی اور ان کے باہمی اختلاط پر پابندی لگائی گئی ہے اگر بوقت ضروت عورت کو گھر سے نکلنا اور غیر محرم مردوں کے سامنے گزرنا پڑے تو اس کے لیے شریعت مطہرہ شریف نے پردے کا حکم نافذ فرمایا۔
ابھی حال ہی میں کرناٹک کے اڈوپی میں جس طرح سیکنڑون زعفرانی پوشوں نے ایک اکیلی مسلم باحجاب خاتون کو لے کر شوشل میڈیا پر جو ہورڈنگ مچایا ہے اس سے دوسرے ممالک میں مادر وطن ہندوستان کی شبیہ داغ دار کی گئی ہے۔ ایسی ویڈیو دیکھ کر مجھے اس معصوم بچی “مسکان خان” پر فخر ہے جو ان ظالم جانوروں کے خلاف جنگ میں اکیلی ہونے کے باوجود نڈر اور بے باکی سے صدائے توحید بلند کرکے ڈٹی رہی۔
ملک کے کونے کونے سے اس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔رب کی بارگاہ میں دعا گو کہ الہ العالمین مسلم خواتین کی عزت وعصمت سلامت رکھے اور انہیں باحجاب رہ کر صراط مستوی کی ہدایت بخشے۔
از قلم : محمد مجیب احمد فیضی
استاذ/دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور
Pingback: مسکان کی جرآت و ہمت کو سلام ⋆ اردو دنیا ⋆ از : محمد ہاشم اعظمی مصباحی
Pingback: شمالی ہند وجنوبی ہند کے علماے کرام اوراصول وطریقۂ کار اردو دنیا ⋆ از:محمد مجیب احمد فیضی