قربانی کس پر واجب ہے
ہم نے مستفتی کے انداز کو پیش نظر رکھتے ہوئے، جواب کو مقفیٰ اور ادیبانہ طرز میں رقم کرنے کی سعی کی ہے۔ اہل علم سے گزارش ہے کہ براہِ کرم جواب پر نظرِ ثانی فرمائیں۔
خصوصاً اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ کہیں مقفیٰ انداز اپناتے ہوئے شرعی حکم کا کوئی پہلو تشنہ تو نہیں رہ گیا؟ آپ حضرات سے جلد از جلد اپنی قیمتی آراء اور تصحیحات پیش کرنے کی التماس ہے تاکہ یہ جواب بروقت مستفتی تک پہنچایا جا سکے۔
سوال: اے صاحبِ علم و فضلِ عظیم، قربانی کے نصاب کی کیجیے توضیح و فہیم، کتنا ہو مال تو لازم ہے یہ حکمِ کریم، اور کن نفوس پر ہے یہ فریضۂ جسیم، کیا سب پر ہے یہ فریضۂ جلیل، یا خاص ہیں کچھ اس کے اہل اے مردِ خلیل؟ بیاں فرما یہ مسئلہ با قولِ اصیل۔
المستفتی: ناہید رضا اسماعیلی
الجواب بعون الملک العزیز الوہاب
سنو اے دیدۂ بینا، اے قلبِ دانا! ہر بالغ صاحبِ ثروتِ باصفا، جو ہو اس بستی کا مقیمِ باوفا، مردِ مومن ہو کہ حریمِ عصمت کی ہو ضیا، اگر وہ پہنچا نصاب کی اس حدِ جُود و سخا، تو اس پر قربانی ہے ایک قرضِ وفا، جس کی ادائیگی ہے عینِ رضا، نہ کہ کوئی امرِ خفیف و خفا
اور مالکِ نصاب ہونے سے مراد ہے وہ مالِ گراں، جو پہنچے ساڑھے باون تولے چاندی کے نشاں، یا ساڑھے سات تولے سونے کی ہو وہ تاباں، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قیمت کا نقدِ رواں، یا تجارت کا وہ جنسِ گراں، یا حاجتِ اصلیہ سے ماورا کوئی بھی سامانِ جہاں۔ مزید برآں، اس پر نہ ہو قرض کا وہ بارِ گراں، جسے ادا کر کے نہ رہے نصاب کا نشاں
فقہائے عظام، جن پر ہو رحمتوں کا مدام، فرماتے ہیں کہ حاجتِ اصلیہ ہے وہ شے بے بہا، جس کی ہو انسان کو ہر دم چاہ، اور اس کے بغیر گزرے زندگی در رنج و آلام، صبح و شام نہ پائے وہ کبھی بھی راحت کا مقام۔ مثلاً مسکنِ دل نشیں، ملبوسِ تن پوشیں، سواریِ تیز گام، علمِ دین کی کتابیں ہیں انیسِ بام، اور پیشہ و حرفت کے اوزار ہیں ذریعۂ اکرام
جب یہ تعریف ہو پیشِ نظر، تو ہو جائے عیاں ہر خشک و تر، کہ ہمارے گھروں میں ہیں اشیاء بے شمار، جو حدودِ حاجتِ اصلیہ سے ہیں دور و کنار، پس اگر ان کی قیمت پہنچے چاندی یا سونے کے نصاب کے مدار، تو قربانی ہو جائے گی لازمِ کردار
میرے امامِ اہلِ سنن الشاہ امام احمد رضا خاں برکاتِ فراواں، سے ہوا یہ سوالِ بے کراں، کہ اگر زید کے پاس ہو مسکنِ جاں کے سوا دو ایک اور مکاں، تو کیا اس پر قربانی ہو گی یا نہ ہو گی، اے صاحبِ عرفاں؟۔ فرماتے ہیں: ہاں قربانی ہے اس پر واجب و لازم، جب کہ وہ مکاں ہو تنہا یا مالِ دیگر کے ساتھ ملازم، اور قیمت پہنچ جائے اس حدِ قائم، جو ہے ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے کے ہمدم۔ اگرچہ ان مکانوں سے کمائے زرِ درہم، یا وہ پڑے ہوں بے رونق و بے رم، یا ہو وہ محض زمیںِ بے تخم۔
بلکہ اگر مسکنِ ذات ہو اتنا ضخیم، کہ اس کا ایک حصہ ہو سکونت کے لیے بسیم، اور دوسرا حصہ ہو حاجت سے بعید و یتیم، اور اس کی قیمت پہنچے تنہا یا مالِ دیگر کے ضمیم، نصاب کی حدِ کریم، تو قربانی ہو جائے گی اس پر ایک فریضۂ عظیم۔ یہ ہے خلاصۂ فتاویٰ رضویہ کا ایک ورقِ مستقیم، باقی حقیقتِ حال اللہ ہی جانے جو ہے علیم و حکیم۔
کتبہ: عبدالولی محمد سبطین رضا مرتضوی غفرلہ القوی