اردو اسکولوں میں ہندی ہیڈ ٹیچرس کی پوسٹنگ
90 فیصد سے زیادہ اردو اسکولوں میں ہندی ہیڈ ٹیچرس کی پوسٹنگ سے لوگوں میں اضطراب، وزیر اعلی کو مکتوب کیا ارسال
اردو زبان کو ختم کرنے کی سمت میں حکومت کی یہ آخری کیل ثابت ہوگی، کسی حد تک جانا ہماری مجبوری : محمد رفیع
مظفر پور (وجاہت، بشارت رفیع)
ابھی ہیڈ معلم کی پوسٹنگ ہوئی ہے۔ 90 فیصد سے زیادہ اسکولوں میں غیر اردو داں ہیڈ معلم کی پوسٹنگ کر دی گئی ہے
جس کے نتیجے میں اردو اسکولوں کی مخصوص شناخت ختم ہوجائے گی اور اردو اسکولوں کے تشخص پر قدغن لگ جائے گا۔
معتبر ذرائع سے ملی خبر کے مطابق ہیڈ معلم کی پوسٹنگ کی آڑ میں اردو اسکولوں کے مکمل خاتمے کی سازش کی جارہی ہے جس پر وقت رہتے اگر دھیان نہیں دیا گیا تو بعد میں کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
اسی سلسلے میں ایک نشست عام ضلع اسکول مظفر پور کے میدان میں آج 15/جولائی بروز منگل ساڑھے چار بجے شام سے رکھی گئی تاکہ مضبوط اور فیصلہ کن لڑائی لڑنے کے لیے حکمت عملی طے کی جا سکے۔ اردو کے تحفظ و بقا کی کوششوں کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے اس نشست میں لوگوں نے شرکت کی۔
آج کی اس نشست میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ پہلے ہم محکمۂ تعلیم کے اعلی افسران اور وزیر اعلی بہار سے درخواست کریں گے کہ اردو اسکولوں کا وجود بچا لیں، جب اسکول ہی نہیں ہوگا تو ہمارے بچے اپنی مادری زبان میں کہاں تعلیم حاصل کریں گے۔
محکمۂ تعلیم اور حکومت بہار اگر مان گئے تو ٹھیک نہیں تو پھر ہم قانون کی مدد لینے کو مجبور ہوں گے اور کوٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔
یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو اسکولوں میں ہندی ہیڈ ٹیچر کی پوسٹنگ اردو زبان کو ختم کرنے کی سمت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔
جناب رفیع نے کہا کہ اردو زبان کی لازمیت کا معاملہ آج بھی زیر التوا ہے، تمام اردو اسکولوں میں پہلے ہی ہندی ٹیچرس بھر دئے گئے ہیں اور اب ہیڈ ٹیچر! اب اردو اسکولوں سے اردو کا نام ونشاں ختم ہو جائے گا۔
جناب محمد رفیع نے یہ بھی بتایا کہ آج انہوں نے وزیر اعلی بہار جناب نتیش کمار، ڈائریکٹر پرائمری ایجوکیشن محترمہ ساحلہ اور چیئرمین اقلیتی کمیشن بہار جناب مولانا غلام رسول بلیاوی کو مکتوب ارسال کر یہ مانگ کی ہے کہ اردو اسکولوں میں اردو زبان کے جانکار ہیڈ ٹیچر کی ہی پوسٹنگ کی جائے۔
قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی سیکرٹری جناب محمد تاج الدین نے اس موقع پر قانونی چارہ جوئی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم پہلے ہی سے اس کا خدشہ ظاہر کر رہی تھی
اور محکمہ تعلیم کے اعلی افسران کو مکتوب لکھ کر آگاہ کیا گیا تھا کہ اساتذہ اور ہیڈ معلم کی پوسٹنگ میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اردو اسکولوں میں اردو زبان کے جانکار اساتذہ یا ہیڈ معلم کی پوسٹنگ ہو
لیکن محکمہ تعلیم کے افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور انہوں نے اردو اسکولوں کو ختم کرنے کی سازش کے تحت 80 سے 90 فیصد اردو اسکولوں میں غیر اردو دان اساتذہ اور ہیڈ معلم کی پوسٹنگ کر دی ہے۔
اس موقع پر بسوٹا کے جنرل سیکریٹری جناب محمد امیر اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم سیاسی رہنماؤں اور دوسرے با اثر لوگوں کے ذریعے سے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جائے۔
آج کی نشست کی صدارت جناب محمد رفیع، ریاستی کنوینر قومی اساتذہ تنظیم بہار نے کی اور ضلع صدر مظفر پور جناب شمشاد احمد ساحل نے اظہار تشکر پیش کیا۔
نشست میں قومی اساتذہ تنظیم کے رکن ریاستی مجلس عاملہ جناب نسیم اختر، جنرل سیکریٹری اورائی بلاک اکبر علی، منیاری ہائی اسکول کے ٹیچر محمد عارف، نصرت جہاں روبی، عشرت ہارون، نیاز احمد صدر قومی اساتذہ تنظیم سکرا، محمد حیدر علی وغیرہ شامل تھے۔