صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخیاں اور ہمارا طرزِ ردعمل

Spread the love

اظفر منصور

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

اسلام کی عظیم الشان تاریخ میں جن ہستیوں نے وحیِ الٰہی کی روشنی کو سینوں میں محفوظ رکھا، دینِ مصطفوی ﷺ کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا، اور اپنے کردار و عمل سے ایمان کی چنگاری کو قلب در قلب پوری دنیا میں پھیلایا وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔

ان کی زندگیاں صرف روایات کا تسلسل نہیں بلکہ خود دین کی عملی تفسیر تھیں۔ ان کا ایک ایک قدم، ایک ایک فیصلہ، اور ایک ایک قربانی دراصل اس دینِ حنیف کا وہ سرمایہ ہے جس پر آج ہم فخر کرتے ہیں۔

ان نفوسِ قدسیہ نے نبی اکرم ﷺ کے ایک اشارے پر لبیک کہا، اپنے گھر بار چھوڑے، مظالم برداشت کیے، تلواروں کے سائے میں اذانیں دیں، بدر و احد میں خون بہایا، اور سب کچھ اس دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے قربان کر دیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔

ان کے متعلق قرآن گواہی دیتا ہے: “مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ” (الفتح: 29)، یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔

دوسری جگہ فرمایا گیا: “وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ” (التوبہ: 100)، یعنی سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور جو ان کے نقش قدم پر چلے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

ایسی مبارک جماعت کے بارے میں زبان درازی کرنا، یا انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا تو دور تصور میں بھی لانا نہ صرف قرآن کی روشنی سے انکار ہے بلکہ خود نبی ﷺ کی معیت اور تربیت پر دانستہ و غیر دانستہ سوال اٹھانا ہے۔

مگر افسوس ہے کہ اس کے باوجود ہمارے برصغیر ہند و پاک کے ساتھ پوری دنیا میں گاہے بگاہے بعض فتنے کبھی علمی استدلال کی شکل میں تو فکری یلغار کے روپ میں تو کبھی فرقہ وارانہ رجحانات کے پیرہن میں تو کبھی واضح و صریح الفاظ کی چادر میں منہ چھپائے پیش آتے رہتے ہیں جنہیں دیکھ کر عقل بیچاری متحیر ہو جاتی ہے کہ کیسے قوم کا کوئی فرد اپنے اوپر اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے احسانات کو بھلا کر صحابہ کرام کی حرمت کو نشانہ بنانے کی جسارت کر سکتا ہے

مگر ایسا ہوا ہے اور ان میں سب سے زیادہ جن شخصیات کو طعن کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی بھی نمایاں ہے۔

حالاں کہ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف قریب سے قریب تر رکھا بلکہبعض مواقع پر منشی کا فریضہ انجام دینے کے لیے منتخب بھی فرمایا۔

حضرت معاویہؓ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کی دعا ہے: “اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ” (ترمذی، رقم: 3842) یعنی اے اللہ! اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا، اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔حضرت عمرؓ نے انہیں شام کا گورنر بنایا، حضرت عثمانؓ نے ان کی خدمات کو باقی رکھا، اور حضرت علیؓ کے دور میں اجتہادی اختلافات کے باوجود کسی صحابی نے انہیں دین سے خارج یا گمراہ نہیں کہا۔

کیوں کہ صحابہ کا باہمی اختلاف اجتہادی تھا، نہ کہ عقیدے یا نفاق کی بنیاد پر بلکہ اس وقت تک تو یہ مسائل محض سیاسی نوعیت کے تھے، (اس بحث کو علامہ سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب”رسالہ اہل سنت والجماعت” بہت اچھے انداز میں واضح فرمایا ہے۔) حضرت امیر معاویہؓ نے چالیس سال تک شام کا نظم و نسق سنبھالا اور بیس سال تک امتِ مسلمہ کی قیادت کی۔

ان کے دور میں اسلامی سلطنت کو استحکام، وحدت اور انتظامی حسن نصیب ہوا۔ ان کی سیاسی بصیرت، تدبر، رواداری، اور نظم و ضبط کے واقعات تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں۔ ان کی دیانت داری پر خود حضرت حسنؓ نے اعتماد کیا، خلافت سے دستبرداری اختیار کی، اور امت کی وحدت کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے: “إذا رأيتَ أحداً يذكر أصحابَ النبي صلى الله عليه وسلم بسوء، فاتهمه على الإسلام” (شرح أصول اعتقاد أهل السنة، للالكائي: ١٢٥)، یعنی اگر تم کسی کو صحابہ کو برا کہتے دیکھو تو اس کے اسلام پر شک کرو۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں جو دوسرا اور منفی پہلو ہے جسے کبار ائمہ نے بھی بیان کیا ہے اس سلسلے میں سوال ہے کہ موجودہ دور میں ان غلطیوں کو ہوا دینے کی ضرورت کیا ہے ؟ امت کا نفع دینی و دنیوی اگر ان مسائل سے وابستہ ہیں تو سواد اعظم کیوں اس مسئلے میں سکوت کا تقاضا کرتا ہے؟

حیرت اور شدید حیرت ہے کہ غزہ میں ہو رہی نسل کشی کو فراموش کر کے لوگ مشاجرات صحابہ پر چراغ پا ہوئے جا رہے ہیں، حالانکہ یہ کسی طور بھی مناسب اور اسلامی روح کے مطابق نہیں ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ آج جو لوگ جب حضرت معاویہؓ یا دیگر کسی صحابی پر زبان درازی کرتے ہیں تو وہ دراصل نبی کریم ﷺ کے انتخاب پر سوال اٹھاتے ہیں، وحی کے راوی پر اعتراض کرتے ہیں

اور دین کے بنیادی ستون کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ ان کا مقصد محض ایک فرد پر تنقید نہیں بلکہ پوری امت کے فکری و دینی تشخص پر ضرب لگانا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان فتنے انگیز زبانوں کے سامنے علم و حکمت، فہم و فراست، اور دلیل و وقار کے ساتھ کھڑے ہوں۔

ہمارا ردعمل جذباتی، بدتمیز یا انتقامی نہیں بلکہ مہذب، متوازن اور مدلل ہونا چاہیے۔ ہم ایک دوسرے کی ذاتیات و ماضی کی غلطیوں کو موضوع سخن نہ بنا کر صرف نفس بحث پر مدلل گفتگو کریں، زبردستی قائل کرنے کا مزاج نہ بنائیں۔

نظریات میں تبدیلی، زبان کی خاموشی، مسجد میں گھیر کر بزور قوت رجوع و معافی کے لیے مجبور کرنے نیز کلائی مروڑنے اور گردن زدنی کے احکامات جاری کرنے کے بجائے ہمیں چاہیے کہ نوجوانوں کو صحابہ کرام کی سیرت، ان کی قربانیاں، ان کی صداقت اور ان کی گہری اسلامی بصیرت سے واقف کرائیں۔ حضرت امیر معاویہؓ کی خدمات، ان کی علمی، سیاسی اور انتظامی بصیرت کو بیان کریں۔

اختلاف کو اس کے مقام پر رکھیں اور امت کو ٹوٹنے کے بجائے جوڑنے کا ذریعہ بنیں۔ کیونکہ جب تک امت کے دلوں میں صحابہ کی محبت زندہ ہے، تب تک دین محفوظ ہے۔

اور جب اس محبت پر حرف آئے گا، دین کا قلعہ کمزور ہوگا۔ اس لئے آج ہمیں نہ صرف ان گستاخیوں کے خلاف آواز اٹھانی ہے بلکہ صحابہ کرام کے ذکر کو عزت، محبت اور فخر کے ساتھ عام کرنا ہے۔ یہی وہ وفا ہے جو نبی کریم ﷺ کے ان جان نثاروں کا حق ہے، اور یہی وہ دین کا دفاع ہے جس پر ہماری دنیا و آخرت کی کام یابی موقوف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *