یومِ عاشورا اور یقین کا موجزن لمحہ

Spread the love

یومِ عاشورا اور یقین کا موجزن لمحہ

یقین کی انتہا کو اگر ایک لمحے میں سمیٹنا ہو،تو یومِ عاشورا کا وہ لمحہ کافی ہےجہاں فضا میں ایک گھبراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔بنی اسرائیل کا قافلہ تیز قدموں سے بھاگ رہا تھا،مگر نہ منزل کا سراغ تھا، نہ بچاؤ کی صورت۔سامنے نیل کا بے کنار سمندر، پیچھے فرعون کا خون آشام لشکراور درمیان میں بنی اسرائیل کا لرزتا ہوا قافلہ…آسمان خاموش، زمین خاموش،دریا بےنیاز، اور انسان، بےبس۔پہاڑ جیسے خوف نے زبانیں بند کر دی تھیں،ایسے میں بنی اسرائیل کے لبوں سے صرف ایک صداے اضطراب ہی نکل سکی:”إِنَّا لَمُدْرَكُونَ!”ہم تو پکڑے گئے، ہم تو فنا ہو گئے، ہماری کہانی ختم ہوئی!یہ جملہ شکست خوردہ سوچ کا اعلان تھا،یہ وہ مقام تھا جہاں حالات کا شور یقین کو دبانا چاہتا تھا،مگر نبی کا دل وہ چراغ ہے جو طوفانوں میں بھی جلتا ہے۔یہی وہ لمحہ تھا جب نبوت کے یقین نے اپنا رنگ دکھایا۔حضرت موسیٰ نے پلٹ کر نہ نیل کو دیکھا، نہ فرعون کوان کی نظر اللہ پر تھی،اور ان کے دل سے نکلا وہ جملہ جو قیامت تک اہلِ یقین کے لیے چراغ ہے:”كَلَّا! إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ”ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔یہ صرف جملہ نہیں تھا،یہ وہ یقینِ کامل تھا جس پر سمندر چپ ہو جاتے ہیں،وقت جھک جاتا ہے،اور قدرت راستہ بناتی ہے۔اور پھر کیا ہوا؟ایک معجزہ، ایک موجزہ، ایک تجلیجسے عقل آج بھی حیرت سے دیکھتی ہے۔اللہ نے موسی کو حکم دیا:”فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ…”ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنی لاٹھی سے دریا پر ضرب لگاؤ۔تو وہی نیل جسے عبور کرنا ناممکن لگتا تھا، راستہ بن گیا۔”فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَٱلطَّوْدِ ٱلْعَظِيمِ”تو دریا پھٹ گیا اور ہر طرف پانی بڑے پہاڑ کی مانند کھڑا ہو گیا!نہ توپ، نہ کشتی، نہ لشکر، صرف ایک نبی، ایک لاٹھی، اور رب کا حکم۔سوچیے، وہی پانی جو ابھی ابھی موت کے خوف کا باعث تھا،اب وہی پانی حفاظت کی دیوار بن کر حضرت موسیٰ کے گرد کھڑا ہے۔یہ کیسا عقیدے کا معجزہ ہے کہجس راستے میں پانی تھا، وہاں زمیں نکل آئی،اور جس دل میں یقین تھا، وہ نجات پا گیا۔یہی تو ہے یقین کا راستہ،کہ جہاں اسباب ختم ہو جائیں، وہاں اللہ آغاز کرتا ہے۔موسیٰ اور ان کی قوم خشک راہ سے گزر گئے،فرعون نے پیچھا کیا، اور اپنی فوج سمیت اسی راستے پر دوڑ پڑا۔پھرکیا تھا؟ وہی دریا جو نبی کے لیے سراپا رحم بنا ہوا تھا،ظالم کے لیے قہرمجسم اور عدل کا کوڑا بن گیا،”فَغَشِيَهُم مِّنَ ٱلْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ”اور دریا نے انہیں اس طرح ڈھانپ لیا کہ کچھ بھی باقی نہ رہا۔یہ قصہ نہیں، سبق ہے:کبھی زندگی بھی نیل کی طرح راستہ روک لیتی ہے،پیچھے حالات فرعون بن جاتے ہیں،اور اپنے بھی “إِنَّا لَمُدْرَكُونَ” کہنے لگتے ہیں…تب وہی ایک صدا دل سے نکالو:”كَلَّا! إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ”پھر دیکھو، تمہارے لیے بھی دریا چیرے جائیں گے،زمین ہموار ہوگی، راستے پیدا ہوں گے،اور دشمن خود اپنے غرور میں غرق ہو جائے گا۔یومِ عاشورا کی اصل روح اسی یقین، توکل اور نصرتِ الٰہی کی صداقت میں چھپی ہے۔حضرت موسیٰ نے ثابت کیا کہ اللہ کا ساتھ ہو تو دریا رستہ بن جاتا ہے،اور اس کا فضل نہ ہو تو زمین بھی دلدل بن جاتی ہے۔تو آج، عاشورا کے دن، ہم بھی یہ صدا اپنے دلوں میں زندہ کر لیں:”كَلَّا! إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ!”ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا!آج اگر ہمارے اردگرد بھی نیل کی طرح مسائل ہوں،اور ظلم و جور کا فرعون تعاقب میں ہو، تو یاد رکھو:کامیابی طاقت میں نہیں، یقین میں ہے۔یقین وہ شعلہ ہے جو سمندر کو بھی چیر سکتا ہے،اور ظلم کے ایوانوں کو بھی ڈھا سکتا ہے۔یقین، صبر، قربانی، اور توقیرِ الٰہی، یہ سب حضرت موسیٰ کی سنت ہے،اور یہی حضرت امام حسین کی بھی میراث ہے۔

کفش بردارِ اہل بیت: محمد افروز قادری چریاکوٹی، یوم عاشورا 1447

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *