نوجوان نسل کو شعور دینا کیوں ضروری ہے

Spread the love

نوجوان نسل کو شعور دینا کیوں ضروری ہے؟

از قلم: محمد صفدر رضا علائی

مربت پور پیکبان، کٹیہار (بہار)

تمہید : زندگی کے اس طویل سفر میں جہاں وقت لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہا ہے، وہیں انسان کی سمتیں بھی دھندلا رہی ہیں۔ معاشرہ ترقی کر رہا ہے، لیکن اخلاق پیچھے چھوٹتے جا رہے ہیں۔ علم کے ذخیرے بڑھ رہے ہیں، مگر شعور کم ہوتا جا رہا ہے۔

ایسی کیفیت میں دل بےچین ہوتا ہے، اور قلم خودبخود ان موضوعات کی طرف مائل ہو جاتا ہے جو دل کے سب سے قریب ہوں، اور جن پر خاموشی مزید اندھیرے کو جنم دیتی ہے۔ انہی احساسات کے تحت میرے دل نے تقاضا کیا کہ آج اس نازک اور اہم عنوان پر کچھ عرض کیا جائے:نوجوان نسل کو شعور دینا کیوں ضروری ہے؟ نوجوان کسی بھی قوم کا دل ہوتے ہیں۔ اگر دل زندہ ہو تو جسم سلامت، اگر دل مردہ ہو جائے تو جسم بس ایک لاش ہوتا ہے۔

آج ہمارے نوجوان ظاہری اعتبار سے تو بظاہر زندہ ہیں، لیکن فکری، روحانی، اور اخلاقی سطح پر کئی ایک بے خبریوں کا شکار ہیں۔ انہیں شعور کی، رہنمائی کی، اور سچ کے چراغ کی ضرورت ہے۔تعلیم آج عام ہو چکی ہے، لیکن تربیت نایاب ہے۔

ہاتھوں میں موبائل ہے، مگر نگاہوں میں مقصد کا نور نہیں۔ زبانوں پر نعرے ہیں، مگر عمل میں کھوکھلا پن ہے۔ اگر ہم نے انہیں وقت پر شعور نہ دیا، تو کل یہی نعرے نفرت میں بدل جائیں گے، اور یہی ہاتھ گمراہی کا دروازہ کھول دیں گے۔شعور کا مطلب کیا ہے؟

شعور محض یہ جان لینا نہیں کہ ہم کون ہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ ہمیں کیا بننا ہے۔یہ جاننا ہے کہ:جھوٹ کیسی لعنت ہے،وقت کس نعمت کا نام ہے،دین صرف نماز کا نام نہیں، ایک مکمل طرزِ زندگی ہے،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی کا اصل مقصد صرف جینا نہیں، کچھ بننا اور کچھ کر جانا ہے۔

آج کے نوجوان کے چیلنجز آج کا نوجوان میڈیا کے طوفان میں ہے۔ ہر طرف نظریات کا شور ہے، سچ و جھوٹ کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔

فیشن، شہرت، نفرت، آزادی – یہ سب مل کر اس کے دل و دماغ کو الجھا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی چیز اسے بچا سکتی ہے تو وہ ہے شعور۔ وہ شعور جو اسے یہ سکھائے کہ:> ’’نفع اور نقصان کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، اور کامیابی علم، عمل، اخلاص اور استقامت کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘ہماری ذمہ داریہم والدین، اساتذہ، علما، اور دانش ور اگر صرف نصیحتیں کرتے رہیں اور نمونہ نہ بنیں، تو ہماری باتیں اثر نہیں کریں گی۔

ہمیں خود بدلنا ہوگا، تبھی ہم بدلنے کا حق رکھتے ہیں۔ بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ “اچھے بنو”، بلکہ خود اچھا بن کر دکھائیں۔

آخری بات یاد رکھیں ! شعور ایک روشنی ہے، جو اگر وقت پر کسی دل میں اتار دی جائے تو وہ دل نہ صرف خود روشن ہوتا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی راستہ دکھاتا ہے۔ ہمیں صرف تعلیم یافتہ نوجوان نہیں، باشعور نوجوان چاہیے۔

جو دین سے جڑے ہوں، قوم سے مخلص ہوں، وقت کی قدر جانتے ہوں، اور حق کی پہچان رکھتے ہوں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی شعور عطا فرمائے اور ہمارے نوجوانوں کو وہ بصیرت دے جو انہیں دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب بنا دے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *