وقف املاک کے تحفظ اور آئینی حقوق کی بازیابی کے لیے چلیں پٹنہ
وقف املاک کے تحفظ اور آئینی حقوق کی بازیابی کے لیے 29 جون کو چلیں پٹنہ. نزہت جہاں
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں وقف بچاؤ دستور بچاؤ احتجاجی کانفرنس میں ملک کے نامور شخصیات ہوں گے شریک۔نزہت جہاں مظفر پور (نمائندہ )ملک ہندوستان میں جاری وقف بچاؤ. آئین بچاؤ تحریک ایک مؤثر عوامی آواز میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امارت شرعیہ پٹنہ جھارکھنڈ اڈیشہ۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ۔ علماء کرام۔ ملی کونسل۔ سماجی اور فلاحی تنظیموں کے اشتراک سے منعقدہ پٹنہ کے تاریخی مقامات گاندھی میدان میں 29 جون 2025 کو وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف زبردست احتجاجی اجلاس امارت شرعیہ پٹنہ کے زیر اہتمام منعقد کیا جارہا ہے۔
ریاستی سابق نائب صدر تعلیمی مرکز نزہت جہاں نے کہا کہ اس تاریخی احتجاج کو امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی قیادت نے اس تحریک کو ایک نئی قوت اور روح عطا کی ہے
۔ 29 جون کی تاریخی احتجاجی جلسے میں عوام کا جم غفیر دیکھنے کو ملے گا مختلف اضلاع کے ساتھ ساتھ بہار کے علاوہ یوپی بنگال جھارکھنڈ ۔ اڈیشہ سے بھی سے بڑی تعداد میں نوجوان، علما، معززین اور خواتین اس وقف بچاؤ دستور بچاؤ تاریخی احتجاجی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔
اس تحریک کی قیادت امیر شریعت مولانا فیصل رحمانی امارت شرعیہ پٹنہ کر رہے ہیں۔ نزہت جہاں نے کہا کہ اس تحریک کا مقصد نہ صرف وقف ترمیمی بل 2025 کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، بلکہ عوام کو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار کرنا۔
اپنے آباو اجداد کے دیئے ہوئے زمین کی حفاظت کرنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نیند کی غفلت اس قوم کو تباہ ہو برباد نہ کر دے۔ کیا ہم اور آپ چاہنگے اپنے گھر رشتہ داروں کے موت پر حکومت سے زمین خرید کر تدفین کریں۔ مسجدوں میں نماز پڑھنے کے لیے حکومت کو پیسے دیں۔ اس قوم کے معصوم بچے اور بچیاں کی تعلیم و تربیت ختم ہو جائے کیا آپ چاہیں گے آپ کے آنکھوں کے سامنے آپ کے مسجدوں کو۔
بزرگان دین کے مزارات کو ۔ خانقاہوں کو شہید کر دیا جائے ہمارے قبرستانوں میں بڑی بڑی عمارتیں بنیں ہمارے مرحومین کے سینے پر بلڈوز چلے ہمارے مدارس کے بلڈنگ کو بلڈوز کیا جائے ۔
کیا آپ ان سب کو دیکھنا اور سننا پسند کریں گے نہیں بلکل ہی نہیں تو آئیے اور دستورِ ہند کی روح کے مطابق ملک میں انصاف کی بحالی کو یقینی بنانا کے لیے اپنی تمام تر مصروفیات کو نظر انداز کرتے ہوئے پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں 29 جون 2025 کے احتجاجی کانفرنس کو کامیاب بنائیں۔
اقلیتی امور کی وزارت کے مطابق ہندوستان میں وقف املاک کا ڈبلیو اے ایم ایس آئی پورٹل پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 30 ریاستوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور 32 بورڈ کے اطلاع کے مطابق 8.72 لاکھ جائیدادیں ہیں
جن کا رقبہ 38 لاکھ ایکڑ سے زیادہ ہے۔ 8.72 لاکھ جائیدادوں میں سے 4.02 لاکھ جائیدادیں صارف کے ذریعہ وقف ہیں۔ اس کے بعد صرف 1083 وقف ڈیڈز ہی اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔ نزہت جہاں نے کہا کہ بہار کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج جس میں ہم اور آپ 29 جون کو شامل ہو کر اس تاریخی احتجاج کا گواہ ہوں گے
جب لوگ وقف ترمیمی قانون کے خلاف گاندھی میدان، پٹنہ میں جمع ہوں گے تو ہر گلی ہر محلے کی سڑکوں سے اک ہی صدائیں بلند ہوگی “نہیں چاہئے کالا قانون” ۔
کیا آپ اس تاریخ کا حصہ نہیں بنیں گے؟ خود بھی نکلیں اور اپنے ساتھ کم از کم پانچ سے دس دوستوں کو لائیں۔