علومِ جدیدہ کی ایجاد و تدوین میں مسلمانوں کا کردار اور غیروں کی سازش
علومِ جدیدہ کی ایجاد و تدوین میں مسلمانوں کا کردار اور غیروں کی سازش
پوری دنیا میں مختلف مذاہب و ادیان اور ان کے پیروکار ہیں اور روز بروز نت نئے مذاہب و مسالک جنم لے رہے ہیں۔ پھر ہر مذہب میں الگ الگ افکار و نظریات کے لوگ پائے جاتے ہیں، لیکن ان سب میں مہذب مذہب، دینِ اسلام اور بانیٔ اسلام ﷺ کی تعلیمات اور کردار اتنا روشن و تابناک ہے جس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی ملنا ممکن ہے، اسلام نے جس قدر علم اور اہلِ علم کی اہمیت اور قدر و منزلت کا احساس لوگوں کے دلوں میں موجزن کیا اور تعلیم کی طرف رغبت دلائی اور اس کی تلقین کی، کسی بھی دھرم یا کسی بھی فکر کے لوگوں میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں پایا جاتا اور دور دور تک اس کا عکس خفیف بھی نظر نہیں آتا۔ابتدائے اسلام سے ہی کفارو مشرکین اور تمام فرقہائے باطلہ کے ماننے والوں کی یہ عادتِ فاسدہ رہی ہے کہ جب وہ ہر طرح سے اسلام کی نشر و اشاعت سے عاجز آکر نبیِ رحمت ﷺ کی نگاہِ بندہ نواز پر دل و جان فدا کرنے والے وارفتگان عشق حقیقی کے بلند حوصلوں کو پست نہ کر سے ، تو وہ دینِ حنیف پر باطل طریقے سے انگشت نمائی کا عمل جاری کیا ۔ اسلام کو محدود کرنے میں نے اپنی پوری استطاعت صرف کر دی۔ لیکن اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے جتنا ہی دباؤگے اتنا ہی یہ ابھرے گا۔ ہوا بھی ایسا ہی کہ آج خطۂ عالم میں ضیاء اسلام کی معطر شعاعیں پہنچ چکی ہیں۔لیکن اس کے باوجود، عہدِ رسالت کے مشرکین کی روحانی اولاد آج بھی اپنے آباؤ اجداد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قسم قسم کے باطل تنقیدات کے ذریعے اسلام کو نشانہ بناتے ہیں ۔ ان تنقیدات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام اور تعلیم کا کوئی تعلق نہیں، یہ پروپیگنڈہ کرکے دینِ اسلام کو علم کا مخالف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔ حالانکہ قرآنِ مقدس میں متعدد مقامات پر علم کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اورخود رسولِ ہاشمی ﷺ نے جابجااپنے اصحاب و امت کو حصولِ علم کی تلقین فرمائی، جس کا اثر آج بھی نمایاں ہے کہ عالم اسلام کے اکثر قریات و قصبات میں متعدد تعلیم گاہیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں اصحابِ علوم و فنون تشنگان وراثت انبیاء کو سیراب کر رہ ہیں۔۔۔ ساتھ ہی زمانۂ قدیممیں اسلام کے دامنِ پرانوار میں کتنے ہی لعل و گہر نے جنم لیا، جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیت اور عقل و فہم کو بروئے کار لا کر ایسے ایسے عدیمالمثال فنون کو وجود بخشا جس نے پوری عالم انسانیت کوانگشت بدنداں کردیا۔ اور حقائق عالم کو اس قدر منکشف کردیاکہ کما حقہ جس کے افہام و تفہیم سے عقل انسانی قاصر ہے۔اور نہ جانے کتنے ہی علوم ایسے ہیں جن کا ادراک انسان کے لیے ایک مشکل امر ثابت ہو چکا ہے ۔ جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام اور تعلیم کا تعلق بڑا ہی مضبوط رہا ہے جس کا انکار کوئی سرکش ہی کرے گا۔لیکن ساتھ ہی ایک دردناک المیہ یہ بھی ہے کہ ان علوم اور ان کے موجدوں کے ناموں کو اس طرح بدل دیا گیا ہے کہ تاریخ سے غافل شخص یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ان علوم کو مسلمانوں نے ایجاد کیا تھا۔ساتھ ہی مسلمانوں نے بھی ان علوم سے اس قدر عدمالتفات کیا کہ آج ان علوم عقلیہ کو مسلمانوں کی طرف منسوب کرنا تو در کنار، لوگوں نے یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ ان علوم سے مسلمانوں کا نہ تو کوئی تعلق تھا اور نہ اب کوئی ربط ہے ۔ ایسےعلوم جنہیں مسلمانوں نے ایجاد کیا لیکن اب ان علوم اور موجدین علوم کو بدل کر دیگر قوموں نے اپنی وراثت بنالی ان سے پردہ اٹھانا ضروری ہے ۔آنے والی سطریں پڑھیے اور حقیقت کے رخ سے پردہ اٹھا کر خود آپ اسلامی موجدین اور ان کے ایجاد کردہ علوم کو دیکھیے ۔۔۱۔ علم الجبرا مغربی نام۔ Algebraعددی و حرفی مساواتوں کو حل کرنے کا علم موجد: محمد بن موسیٰ الخوارزمی( 850 ۔ 780ء) مغربی نام: Algoritmi – (الگورِتھم،. الگودم)۲۔ علم فلکیات۔ مغربی نام۔ Astronomy (فلکیات)آسمانی اجسام ،سورج،چاند اور ستارے کا مطالعہ موجد: البتانی۔ (929 – 858ء) مغربی نام: Albatenius – (الباطینیوس) ۳۔ علم طب Medicine (میڈیسن)انسانی جسم ،بیماریوں اور علاج کا علمموجد: ابن سینا (1037-980ء) مغربی نام: Avicenna – (اویِ سینا) ۴۔ علم کیمیا Chemistry – (کیمسٹری)مادے کی ساخت،خواص اور تبدیلیوں کا علم۔موجد: جابر بن حیان۔ (815–721ء) مغربی نام: Geber – (جیبیر) ۵/ ۶۔ علم بصریات و طبیعیات (Optics& physics – (آپٹکس و فیزیکس)روشنی ، عکس حرکت اور طبیعی قوانین کا ادراک موجد: ابن الہیثم (1040-965ء) مغربی نام: Alhazen – الہیٰزن۷۔ علم جغرافیہ (Geography ۔زمین ، مقامات،موسم اور نقشہ جات کا علم۔موجد: محمد الادریسی۔ (1165-1100ء) مغربی نام: Al-Idrisi – الادریسی۸۔ علم ریاضی Mathematics – (میتھمیٹکس)اعداد،اشکال،مقدار اور تناسب کا علم۔موجد: محمد بن موسیٰ الخوارزمی۔ (780-850ء) مغربی نام: Algoritmi – الگورِتْمی ۹۔ علم عمرانیات (Sociology (سوشیالوجی)انسانی معاشروں اور ان کے ارتقاء و تعلقات کا علم ۔موجد: ابن خلدون۔ (1332-1406ء) مغربی نام: Ibn Khaldun – ابن خلدون ۱۰۔ علم: موسیقیات ۔ Musicology ( میوزکالوجی)آواز دھن اور آلات موسیقی کے اصول ۔موجد: ابن سِجاح۔ (1095-1138ء) مغربی نام : Ibne sajjah۱۱۔ علم: ادویات Pharmacology – (فارماکولوجی)دواؤں جڑیں بوٹیوں اور انکے اثرات کا علم ۔موجد: ابن سینا ۔ (980-1037-ء) مغربی نام: Avicenna – اویِسینا یہ تو ان عقلاے مسلمین کا ذکر تھا جنہوں نے ماضی بعید میں اپنے عقلی جواہر کا مظاہرہ کیا ان کے علاوہ ان گنت ایسے ماہرین علوم عقلیہ کو اسلام نے پیدا کیا جن کی آج تک کوئ مثال نہیں ملتی ۔ماضیِ قریب میں مسلمانوں کے بہت ہی عظیم امام و مقتدی جن کو دنیاے اسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی کے نام سے جانتی ہے آپ نے اپنی ساری زندگی خدمتِ دین میں صرف کر دی۔ فقہ و حدیث کے ساتھ ساتھ منطق، فلسفہ، ریاضی، فلکیات اور سائنس جیسے عقلی علوم میں بھی آپ یکتائے روزگار تھے۔آپ نے زمین کی حرکت ، سورج کی مرکزیت، وقت وغیرہ کے متعلق نیوٹن، گلیلیو، آئن سٹائن، ارسطو، افلاطون، کانٹ، ٹوڈے کارڈ جیسے سائنسدانوں اور فلسفیوں کے باطل دعووں کا سیکڑوں دلیلوں سے زور دار رد فرمایا، خاص طور پر اپنی شہرۂ آفاق کتاب “فوز مبین” میں قران ،عقل اور سائنسی اصولوں کی روشنی میں زمین کی ساکنیت ثابت فرمائی ۔ آپ کی دیگر کتب جیسے “نزول آیاتِ فرقان” اور “معینمبین “نے مغربی فلسفے اور سائنسی خیالات کا زوردار رد کرتے ہوۓ دین و سائنس میں ھم آہنگی پیدا کردی ۔ ریاضی کے مشکل پیچیدہ کو آسان زبان میں حل فرمانااور فلسفیانہ اشکالات کو سادہ دلائل سے سلجھادینا آپ کی عقلی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ابن الہیثم کی بصریات ،جابر بن حیان کی کیمیا ،الخوارزمی کا الجبرا لبیرون کی فلکیات ،اب سینا کا طب الفارابی کی منطق اور نصیر الدین طوسی کی ہیٔت ۔ یہ سب اسلامی سائنسدانوں کی وہ روشن قندیلیں ہیں جن کی روشنی سے صدیوں تک دنیا نے علم حاصل کیا اور مستقل میں بھی رہتی دنیا تک استفادہ ہوتا رہے گا ۔آج مغرب جن سائنسی اصولوں کی بنیاد پر اسلام کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کی جرأت کررہا ہے وہ سب ہمارے ہی آباء و اجداد کی ایجاد ہیں ۔مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آباء کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ ۔لیکن افسوس صد افسوس! آج وہی مسلمان علمو سائنس سے دور اور وہی فنون اسلامی غیروں کے قبضے میں ہیں ۔ جو قومایک وقت تک دنیا کی معلم تھی آج خود دوسروں کی محتاج بن چکی ہیں ۔ تعجب اور افسوس ہے کہ جنہوں نے کائنات کے راز سے پردے اٹھاۓ،آج ان کی اولاد کتاب کے نام سے نا واقف ،تحقیق سے غافل اور علم سے بیگانہ ہے ۔ یہ غفلت صرف نقصان نہیں بلکہ ایک عظیم امانت سے خیانت ہے ۔روایات قدیمہ کو بھی زیر پا کیا تمنےبزرگوں کے مقدس نام کو رسوا کیا تم نے کوئ خوبی طریق اہل یورپ کی نہیں سیکھی لباس اپنا بدل ڈالا فقط اتنا کیا تم نے ۔۔از قلم :محمد ضیاء برکاتی (نیپال) متعلم جامعہ احسن البرکات مارہرہ شریف