اردو زبان کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے قومی اساتذہ تنظیم بہار کا مکتوب

Spread the love

اردو زبان کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے قومی اساتذہ تنظیم بہار کا مکتوب

محکمۂ تعلیم کو ارسال ہندی اسکولوں کے روٹین میں اردو ہو شامل، اردو اساتذہ سے اردو زبان کی درس و تدریس کا لیا جائے کام : محمد رفیع

پٹنہ

ہندی اسکولوں میں مسلم بچوں کو لازمی طور پر اردو زبان کی تعلیم دی جائے۔

یہ باتیں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر محمد رفیع نے محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری، ڈائریکٹر سیکنڈری ایجوکیشن بہار و ڈائریکٹر پرائمری ایجوکیشن بہار کو ایک مکتوب ارسال کرنے کے بعد پریس ریلیز جاری کر بتائی۔

محمد رفیع نے محکمۂ تعلیم کو خط میں صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ نئے اکیڈمک سیشن 2025 – 26 کی شروعات ہو گئی ہے اور اسکولوں میں درس و تدریس کا بہترین ماحول بھی قائم ہو گیا ہے لیکن افسوس کہ اردو زبان کی تعلیم کو نقصان پہنچانے کا عمل اب بھی جاری ہے۔

جناب رفیع نے کہا کہ مسلم بچے جو مکتب مدرسہ میں تو اردو کی تعلیم حاصل کرتے ہیں یعنی اردو زبان کے وہ جانکار ہیں لیکن اسکول میں اردو زبان کے ٹیچر نہ ہونے اور کتاب وغیرہ کئی طرح کے بہانے بنا کر اردو زبان کی تعلیم سے انہیں محروم کر دیا جاتا ہے۔

جناب رفیع نے محکمۂ تعلیم سے یہ مانگ کی ہے کہ اول ان تمام ہندی اسکولوں میں جہاں مسلم بچے ہیں یا اردو بچے ہیں وہاں روٹین میں اردو زبان کو شامل کیا جائے اور اردو زبان کے ٹیچر ہیں تو ان سے اردو زبان کی درس و تدریس کا کام لیا جائے۔

محمد رفیع نے یہ بھی کہا کہ درجہ اول سے پنجم کے اردو زبان کے بچوں کو بنیادی طور پر مادری زبان اردو کی تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے‌ وہیں مڈل اسکول میں درجہ چھ سے آٹھ کے بچے اردو ٹیچر نہ ہونے یا دوسرے بہانے کی وجہ سے اردو زبان کی تعلیم سے محروم ہوتے ہیں، ایسے بچوں کو دوہری مار جھیلنی پڑتی ہے کہ اسے سنسکرت بھی پڑھنا ہوتا ہے جس سے اس کا دور تک کا رشتہ نہیں ہوتا، نہ تو سنسکرت ہماری زبان ہے نہ تہذیب۔

جو بچے اردو مضمون لیتے ہیں انہیں راشٹر بھاشا ہندی پڑھنا ہوتا ہے اور جو ہندی مضمون لیتے ہیں اسے سنسکرت پڑھنا ہوتا ہے۔ مجبوری میں ہمارے لاکھوں بچے سنسکرت پڑھ رہے ہیں۔

اس لیے محمد رفیع نے مانگ کی ہے کہ ایسی مجبوری نہ ہو کہ ہمارے بچے سنسکرت پڑھیں۔ اس موقع پر محمد رفیع نے کہا کہ ہماری یہ پرانی مانگ ہے کہ سبھی پنچایتوں میں اردو میڈیم پرائمری سے سینیئر سیکنڈری تک کی ایجوکیشن کا نظم لازمی طور پر ہو۔ کیوں کہ ہمارے بچے پرائمری میں اردو پڑھتے ہیں، مڈل میں نہیں اور مڈل میں پڑھتے ہیں تو سیکنڈری میں نہیں۔ سرکار کی اس بدنظمی کا برا اثر ہمارے بچوں کے پرفارمینس پر پڑتا ہے۔

جناب رفیع نے اس بات کی شکایت بھی محکمۂ تعلیم سے کی ہے کہ ہندی اسکولوں کے پرانے ٹیچر بیٹھے رہتے ہیں اور نئے بحال اردو ٹیچروں کو اردو زبان چھوڑ کر دوسرے زبان کی تعلیم دینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے

ایسی شکایتیں بہار کے مختلف اضلاع سے موصول ہوتی رہتی ہیں، خصوصاً ویشالی ضلع سے بھی ایسی شکایتیں ملی ہیں اس پر بھی محکمۂ کو ایکشن لینے کے لئے لکھا ہے۔

جناب رفیع نے آخر میں کہا کہ اس مکتوب کے ذریعہ ہمارا مقصد ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو معیاری تعلیم دینے کے سمت میں آرہی دشواریوں کو حکومت یا محکمۂ تعلیم دور کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *