جن پر خود فقاہت ناز کرتی ہے

Spread the love

آج 10/شوال المکرم ایسے فقیہ کی ولادت کا دن ہے جن پر خود فقاہت ناز کرتی ہے یعنی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔

اسی عظیم فقیہ کی شانِ فقاہت ایک جھلک میں ملاحظہ فرمائیں۔«» مسافر پر جماعت واجب ہے یا نہیں؟ «»اس مسئلہ میں علامہ ابن عابدین شامی اور علامہ بدر الدین عینی رضی الله تعالیٰ عنھما کے درمیان تعارض اور حضور اعلیٰ حضرت کا دو جملوں میں تطبیق۔

فقہ حنفی کی مشہور کتاب در مختار میں علامہ علاء الدین حصکفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ترکِ جماعت کے بہت سارے اَعذار تحریر کیے ہیں کہ مریض پر جماعت واجب نہیں

اندھے پر جماعت واجب نہیں،لنگڑے پر جماعت واجب نہیں،سخت بارش ہو تو جماعت واجب نہیں وغیرہ وغیرہ۔اعذار کو شمار کرتے ہوئے آپ نے فرمایا “وارادۃ سفر” اور سفر کا ارادہ ہونا لیکن آپ نے اس کی تفصیل نہیں فرمائی۔

لیکن علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ ردالمحتار میں اس عبارت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب جماعت قائم ہو جائے اور قافلہ چھوٹنے کا خوف ہو تو یہ ترکِ جماعت جائز ہونے کا عذر ہے ورنہ فی نفسہ سفر کوئی عذر نہیں مسافر پر جماعت واجب ہے۔اور شارح بخاری امام علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں کہ”ان الجماعۃ لا تتأکد فی حق المسافر لوجود المشقۃ” کہ مسافر پر جماعت واجب نہیں ورنہ مسافر حرج اور مشقت میں پڑ جائے گا۔

اب یہاں شدید تعارض ہو گیا علامہ ابن عابدین شامی فرما رہے ہیں کہ ترکِ جماعت کے لیے سفر کوئی عذر نہیں مسافر پر جماعت واجب ہے اور علامہ بدر الدین عینی فرما رہے ہیں کہ مسافر پر جماعت واجب نہیں ورنہ مسافر مشقت میں پڑ جائے گا۔

یہ مسئلہ بظاہر لا ینحل لگ رہا تھا اور تطبیق کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی لیکن جب حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جد الممتار میں علامہ شامی کی اس عبارت پر پہنچتے ہیں تو صرف دو جملوں میں دونوں تعارض کے درمیان تطبیق دے دیتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ”وان حمل ھذا علی القرار و ذٰلك علی الفرار حصل التوفیق”۔

یعنی علامہ شامی کی عبارت کو حالت قرار پر محمول کریں اور علامہ بدرالدین عینی کی عبارت کو حالت فرار پر محمول کریں تو سب تعارض رفع دفع ہو جائے گا۔

یعنی اگر کوئی شخص سفر کر رہا ہو اور ٹرین کی تلاش میں ہو،بس کی تلاش میں ہو تو چوں کہ وہ حالت فرار میں ہے لہذا اس پر جماعت واجب نہیں لیکن اگر کوئی شخص ٹھکانے پر پہنچ جائے،ہوٹل میں ٹھہر جائے تو اگر چہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہے اگر چہ شرعاً مسافر ہے لیکن چوں کہ حالت قرار میں ہے تو اگر جماعت میسر ہو جائے تو اس پر جماعت واجب یے۔

لہذا علامہ شامی کا یہ فرمانا کہ مسافر پر جماعت واجب ہے تو ان کی مراد حالت قرار ہے اور علامہ بدرالدین عینی کا یہ فرمانا کہ مسافر پر جماعت واجب نہیں تو ان کی مراد حالت فرار ہے۔سبحان اللہ کیا تبحر علمی ہے کیا خوب شانِ فقاہت ہے۔

تعارض دیکھ کر اس میں تطبیق دینا بہت مشکل معلوم ہو رہا تھا لیکن حضور اعلیٰ حضرت کی شان تو دیکھیے دو جملوں میں تطبیق فرما دیے۔لیکن کچھ حاسدین جو علم میں بونا نظر آتے ہیں،وہ اس علم کے جبلِ شامخ پر فالتو اعتراض کرتے ہیں۔

ان حاسدوں کے لیے بس اتنا ہی کہوں گا کہ۔

مینارِ قصر رضا تو بلند کافی ہے

ذرا تم اس کے پہلے ہی زینے پہ چڑھ کے دکھلا دو

فتاوی رضویہ تو ایک کرامت ہے

ذرا حدائق بخشش ہی پڑھ کے دکھلا دو

الله عزوجل ہمیں بھی حضور اعلیٰ حضرت کے فیضان سے مستفیض فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

۔( ماخوذ:رد المحتار علی الدر المختار جلد:2,صفحہ:293,جد الممتار:جلد:صفحہ:276)

محمد نوشاد عالم امجدی

دارالعلوم غوثیہ ایجوکیشنل سینٹر امباٹاند کوڈرما جھارکھنڈ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *