حسب و نسب کا غرور کتنا اسلامی ہے

Spread the love

حسب و نسب کا غرور کتنا اسلامی ہے ؟

____________________مشتاق نوری (۱۰؍اگست ۲۰۲۳ء)_____________________________________(ا)قرآنی آیات کے پس منظر،متعلقات،مقاصد نزول،معانی و مطالب کے افہام و تفہیم کے لیے عرب و عجم نے روایۃ درایۃ علم تفسیر کا دامن تھاما۔سورۃ القمر کی آیت نمبر ۱۷ میں ہے “ولقد یسرناالقران للذکر فھل من مدکر” تیسیر و تسہیل قرآن کے اس خدائی دعوے کے باوجود، سینکڑوں تفاسیر لکھی گئیں۔جب کہ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن آسان کر دیا گیا ہے تو تفسیر چہ معنی دارد؟مگر یہ کہنا اصولا و عقلا لغو ہوگا۔حدیث سامنے آئی تو علماۓ فن نے اصول حدیث وضع کئے۔مقاصد فقہ کی تفہیم و تعلیم کے لیے اصول فقہ کا نصاب رکھا۔اس سے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ بنا چھان بین، جانچ پڑتال کے،کسی شے کی حیثیت متعین کرنا غیر دانش مندانہ عمل ہے۔علم تفسیر کا مطلب ہے کہ آپ من چاہی بات کو تفسیر بنا کر پیش نہیں کر سکتے۔اصول حدیث کا مطلب ہے کہ خواہ علامہ الدہر ہی کیوں نہ ہو، بنام حدیث بیان کی گئی ان کی ہر بات حدیث ہی ہوگی غیر معقول قضیہ ہے۔اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاۓ گا تب رد و قبول کا حکم لگے گا۔اصحاب جرح و تعدیل نے احادیث کی اسناد و مآخذ پر تحقیق کر کے صحیح ،حسن،ضعیف، غریب،مقبول و مردود کی پہچان ثابت کی ہے اور حدیث کے نام پر پھیلائی گئی اسرائیلی روایات، عجمیانہ رطب و یابس کی دھاندلیوں کا پردہ فاش کیا ہے۔ موضوع و من گھڑت روایات کی علمی و تحقیقی چھان پھٹک کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا ہے۔رواۃ کی حیثیت و اہمیت پر اکیڈمک بحث کر کے اقوال رسول کے اعتباری و استنادی پہلوؤں کو سامنے لایا ہے یہ امت پر ان ارباب نقد و نظر کا ایک بڑا احسان ہے۔یہ دین کے مآخد و مصادر کے خالص و خلوص کی فراست مندانہ تطہیر و تنظیف ہے۔یہ ایسا کارنامہ ہے جس کا پوری امت نہ صرف سواگت کرتی ہے بلکہ فرائض و واجبات، سنن و نوافل، مباح و مستحسن کی قدر و حکم متعین کرنے کے لیے کھرے کھوٹے کی اس پرکھ کو واجب گردانتی ہے تاکہ تحقیق کی مشین میں اصلی کو فلٹرائز کر کے نقلی سے الگ کیا جا سکے۔(ب)اگر کوئی ماہر ادیب، عربی کی بہترین عبارت اٹھا کر کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔تو اسے ایک سنگین مسئلہ مان کر کلام اللہ پر کلام کرنے والے،قرآن کی آیات و سورت پر باریک نگاہ رکھنے والے اس شخص کا یہ دعوی پہلی فرصت میں رد کر دیں گے کہ اگرچہ مذکورہ بات و عبارت بھلی ہے مگر یہ ہرگز خدا کا کلام نہیں ہے۔اب اگر بکر کہے کہ جب زید نے کہ دیا کہ یہ خدا کا کلام ہے تو ہمیں بحث یا تحقیق کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے بلکہ آمنا و صدقنا کہ کر سر تسلیم خم کر لینا چاہیے تو یہ بات اگرچہ عقیدت کی حد تک درست قرار دی جا سکتی ہے مگر علمی و تحقیقی حلقے میں اس کی ذرا بھی اہمیت نہیں۔بلکہ عقیدت محض کی بنیاد پر کھڑے ایسے کسی بھی غیر اساسی مفروضے کو علم و تحقیق اور نقد و نظر سے خالی مانا جاۓ گا۔ایسا کوئی بھی مفروضہ، مقولہ یا فن پارہ اہل نظر و اہل بصیرت کے نزدیک بے وقعت ہی ٹھہرے گا۔(ج)منفلوطی کی نظرات سے اخذ کرکے پند و حکمت سے مملو ادب عربی کی اعلی عبارت کو کلام اللہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ کلام اللہ اور کلام العباد کا کیس ہے۔اس پر عقیدتا سکوت بالکل ناجائز ہے۔بلکہ بعض دفعہ حرام و کفر بھی ہے۔ٹھیک اسی طرح ہر اچھی بات کو قول رسول مان کر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ان ساری چیزوں پر ناصرف کھل کر بحث کی گنجائش رکھی گئی ہے بلکہ اہل ذکا و صلاح نے اجر آخرت کا حقدار بھی مانا ہے۔اسی سلسلے میں عقیدت کے خیمے سے نکل کر محققین نے کھرے کھوٹے کی تمیز کے اصول بناۓ۔صحیح و غلط کی شناخت کے لیے ضابطہ مقرر کیا۔اب کیا صحیح ہے کیا حسن ہے کیا غریب ہے کیا ضعیف ہے کیا موضوع ہے سب دو دو چار کی طرح اہل علم و دانش کے سامنے ہے۔(د)ذات پات، حسب نسب،آبا و اجداد کے اقبال و کرامت کی جو مارکٹنگ بر صغیر پاک و ہند کے مذہبی حلقے میں ہوئی ایسا تو پوری دنیا میں نہیں ہوئی۔ہم نے کتنی ذات، کتنے قبیلے تقسیم کر لیے۔(یہ تقسیم کس نے کی یہ ایک الگ موضوع ہے)نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ رسول کے درس مواخات و مساوات کالعدم قرار داد لگنے لگا۔اشراف و ارذال کے درمیان اتنی بڑی لکیر کھینچ دی گئی کہ اب اعلی حضرات کے دربار میں جاتے ہوئے اسفل حضرات کو شودر دلت جیسا گمان ہوتا ہے۔عرض حال یہ ہے کہ اگر ان مقدس چیزوں میں تحقیق و تفتیش ہو سکتی ہے۔دریافت حقیقت حال کی گنجائش موجود ہے۔نقد و نظر کی کلی رخصت ہے تو پھر حسب و نسب کے باب میں یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں نے کہ دیا کہ میں فلاں بن فلاں ہو تو اس کی تحقیق نہیں کی جاۓ گی بس اس کا احترام و تقدس ملحوظ رکھا جاۓ گا؟ مثلا زید کا دعوی ہے کہ وہ سید ہے اب خالد کو اس بات کا جبری پابند بنانا کہ زید کے شجرۂ نسب کی تحقیق کیے بنا ہی اس کی بات پر آمنا و صدقنا کہے یہ ایک غیر علمی و غیر منطقی بات ہے۔(ھ)کبر، غرور ، نخوت، تمکنت، فخر،تعلی، تفوق یہ سارے الفاظ عربی کے ہیں اور قریب المعانی بھی۔ ان کے محل استعمال سے قطع نظر، ایک بھلا چنگا بلکہ پابند صوم و صلوۃ آدمی بھی ان کے دام میں پھنسا ہوتا ہے۔یہ کبر و غرور چاہے مال و ثروت کا ہو یا حسب و نسب کا، بہت ہی خطر ناک ہے۔مال کے غرور و تمکنت کا نشہ تو کچھ حد تک سماج جھیل سکتا ہے مگر نسب و ذات کا نشہ ایمان شکن ہے۔بزرگوں نے بارہا نسب کے کبر سے بچنے کی تلقین کی ہے۔بقول اقبالبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا (و)یوں تو مذہب کی ایک شاندار اور واضح عبارت ہمارے سامنے ہے جو پوری امت کے لیے صبح قیامت تک رہنما آیت ہے۔سورہ حجرات کی ایت نمبر ۱۳ میں ہے یاایھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثی و جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم۔کہ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد ایک عورت سے پیدا کیا ہے ہم تمہیں قوم و قبائل بناۓ تاکہ تم اپنی پہچان رکھو(واضح رہے) تمہارے رب کے نزدیک وہی مقام و مرتبے کا اہل ہے جو تقوی شعار ہے۔خوف و خشیت الہی سے جو سینے لرزتے ہیں در اصل رب کے نزدیک وہی اکرام و انعام کا استحقاق رکھتے ہیں۔(ز)حسبی، نسبی و نسلی تفاخر پر ضرب لگاتے ہوۓ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں حمد و ثناء کے بعد اسی آیت کے ذکر خیر کرنے کے بعد صاف اور دو ٹوک انداز میں فرما دیا “فلیس لعربی علی عجمی فضل، ولا لعجمی علی عربی، ولا لابیض علی اسود، ولا لاسود علی ابیض فضل الا بالتقوی”۔۔۔۔مطلب کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر،کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت و فضیلت حاصل نہیں الا یہ کہ تقوی ہو۔(ح)خدا کی قسم! میں جب بھی اس خدائی اعلان پر غور کرتا ہوں تو یہ سوچ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ قادر و قیوم نے اس مفہوم و مقصد کی آیت نازل فرما کر دین کے اندر برپا ہوۓ کمزور سماج کے ان دبے کچلے لوگوں کی لاج رکھی ہے جن کے پاس خاندانی یا نسبی پس منظر کا کوئی مستند حوالہ نہیں ہے۔مذکورہ آیت کا مفہوم و مصداق جاننے اور حجۃ الوداع کے خطبے کی وہ انتباہی سطریں سمجھنے کے بعد کون باشعور مومن ہوگا جو نسب کا غرور پالے گا؟دعوت و موعظت کے مسند و منبر پر براجمان وہ کون کلاہ و ریش والا ہوگا جو حسبی و نسبی گھمنڈ ، خاندانی و قبیلائی ناز و تکبر کو دل میں رکھ کر نبی کے تصور مساوات انسانیت کا درس دیتا ہوگا؟(ط)ذات پات سے جنمے بھید بھاؤ، حسب و نسب کے غرور اور آبا پرستی کے جاہلانہ تمکنت کے رد و ابطال کے لیے سورۂ حجرات کی اسی ۱۳؍ویں آیت کا پہلا جز ہی پڑھ لیں سمجھ لیں تو خاندانی تقسیم و تحدید کی غیر اسلامی روایت سے نکلنے کے لیے کافی ہے۔خدا بندوں سے مخاطب ہے کہ “انا خلقناکم من ذکر و انثی” یعنی تم خاندانی یا نسبی افتخار و استکبار کے زعم فاحش کا شکار مت ہونا۔ تم لاکھ الگ الگ قبیلے و شعبے سے متلعق رہو مگر اصلا تمہاری پیدائش ایک مرد ایک عورت(حضرت آدم و حوا علیھما السلام) سے ہی ہوئی ہے۔بالفاط دیگر میر و افغان کے تفوق و تعلی کے ہزار دعوے کے بعد بھی ان کے والدین اول وہی ہیں جو زمینی خداؤں کے بناۓ گیے دُھنیا و فقیر کے ہیں۔حقیقت میں نسبی افتخار ایک مرض ہے جو قلب کو متأثر کرتا ہے اور بے نور کر دیتا ہے۔کثرت غرور نسبت سے توفیق ایزدی مصلوب ہو جاتی ہے۔حسب و نسب کا غرور دین کی نظر میں ایک سنگین جرم ہے۔مگر بندے کو اس کا شعور بروقت نہیں ہو پاتا وہ کبر کو رشک سمجھ کر پھولتا رہتا ہے۔ (جاری)مشتاق نوری ۱۰؍اگست ۲۰۲۳ء ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *