مہاکمبھ میلہ اور مسلمان
مہاکمبھ میلہ اور مسلمان
تحریر : محسن رضا ضیائی، پونہ
اِن دنوں ہندوستان کے شہرِ پریاگ راج (الہ باد) میں مہاکمبھ میلہ چل رہا ہے، جہاں لاکھوں اور کروڑوں ہندوؤں کی شرکت ہورہی ہے۔ یہ میلہ ہندوستان میں ہندوؤں کی قدیم روایات کا ایک حصہ ہے،جسے ایک مقدس تہوار متصور کیا جاتا ہے، جو ہر 12/ سال میں منعقد ہوتا ہے، جس میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں ہندوؤں کی شرکت یقینی ہوتی ہے۔
یہ ہندوستان کی دواہم ندیوں گنگا اور جمنا کے عظیم سنگم پر انعقاد پذیر ہوتا ہے۔ ہندو دھرم کے پیروکار اِس میں بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرتے ہیں اور وہاں گنگا ندی میں اشنان کرکے اپنے پاپوں کو دھوتے ہیں۔ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے پاپ دھل جائیں گے اور انھیں”موکش“ یعنی بار بار جنم لینے کے جنجھٹ سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا
۔42/ دنوں تک چلنے والے اِس میلے میں گنگا ندی میں اشنان اور کتھائیں سنانے کا اہم رول ہوتا ہے۔ یہاں ہم نے اجمالاً کمبھ میلے سے متعلق دو چند باتیں پیش کردی، ہمیں یہاں جو بات کرنی ہے وہ مسلمانوں کے حوالے سے ہے، جنہیں کمبھ میلے میں دکانیں لگانے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بڑے ہی زور و شور سے سَنْتْ سماج کی طرف سے مسلمانوں کو میلہ اور اس کے اطراف و جوانب میں کاروبار کرنے سے منع کیا گیا ہے ،یو کہہ لیجیے کہ ان کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔
حالاں کہ دیکھا جائے تو شہرِ الہ باد پر جتنا ہندوؤں کا حق ہے اتنا ہی مسلمانوں کا بھی ہے۔2011ء ءکی مردم شماری کے مطابق یہاں مسلمانوں کی کل 796،556 ہے، جو اپنے آپ میں بہت بڑی آبادی ہے۔ اس کے علاوہ دیکھا جائے تو یہاں اکبر کا ایوان، جامع مسجد، زمین دوز قلعہ اور خسرو باغ جیسے تاریخی اور سیاحتی مقامات موجود ہیں، جنہیں مسلمانوں نے ہی بنوایا اور دنیا بھر میں اسے تاریخی طور پر زندہ رکھا۔
اسی طرح یہ شہر مولوی لیاقت علی کا بھی ہے جنہوں نے الہ باد کی سرزمین پر1857ءمیں انگریزوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور ان کے ناکو چنے چبوادیے اور اِس کشتِ ویراں کو اپنے خون و لہو سے سینچ کر سرسبز و شاداب کیا۔ یہ شہرِ علم و تہذیب اکبر الہ آبادی، نوح ناروی، فراق گورکھپوری، شبنم نقوی، راز الہ آبادی، عتیق الہ آبادی اور شمس الرحمن فاروقی جیسے نامور ادبا، شعرا اور محققین کا بھی ہے، جنہوں نے دنیا بھر میں اپنی شعری و ادبی خدمات سے اِس شہرِ علم و آگہی کو متعارف کرایا۔
شہرِ الہ باد کی صنعت و حرفت اور یہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مسلمانوں نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے بلکہ یہاں ہندوستان کے بڑے بڑے مسلم تاجر اور ان کی کمپنیاں موجود ہیں، جو شہر اور ملک دونوں کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں۔
بہت افسوس کی بات ہے کہ جس شہرِ الہ باد کو مسلمانوں نے ہر لحاظ سے تاریخی حیثیت عطا کی وہاں ایک خاص موقع پر دکان داری اور کاروبار سے روکا جارہاہے۔ یقیناً یہ نفرت و تعصب پر مبنی فیصلہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف لیا گیا ہے اور اس پر پولس انتظامیہ سے لے کر میڈیا تک خاموش ہے۔
خیر! اِس ملک میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اِس طرح کے تعصب اور نفرت آمیز فیصلے لیے گئے بلکہ اس سے قبل بھی اِس طرح کے متنازع واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
یہاں ”دی وائر“ کی صحافی روہنی سنگھ کے مضمون کا ایک اقتباس پڑھیں اور اندازہ لگائیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کس طرح کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں: ”ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں اور اسلام سے جڑی ہوئی کسی بھی چیز کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، کمبھ میلے کے دوران جو رسومات ادا کی جاتی ہیں، ان میں سے متعدد کو بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
۔ ‘شاہی اشنان‘، جو گنگا میں مقدس غسل ہے، اس لفظ کو بدلنے کی بات کی جا رہی ہے کیوں کہ یہ لفظ فارسی زبان کا ہے۔ اسی طرح ‘پیشوائی‘، جو کہ ناگا سادھووں کے جلوس کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایسی تبدیلیوں کا مقصد صرف مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنا نہیں بلکہ ان کی اس ثقافت اور تاریخ کو بھی مٹانا ہے، جو ہندوستان کی گنگا جمنا تہذیب کا حصہ رہی ہے۔“(بحوالہ: دی وائر پورٹل)
اِس میں کوئی تردد و شبہ نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو زک پہنچانے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھا جارہا ہے۔ بلکہ شدت پسند عناصر جب چاہتے ہیں اسلام اور مسلمانوں سے منسلک اور مربوط چیزوں پر جبراً دخل اندازی کی ناروا کوششیں کرتے ہیں اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ہیں۔
اب ایسے مسلمانوں کو بھی سمجھنا چاہیے جو بہت زیادہ گنگا جمنی تہذیب کا راگ الاپتے ہیں ،وہ اپنے ماتھے کی نگاہوں سے یکھیں کہ آج اسی گنگا ندی کے آس پاس انہیں دکان داری کرنے سے کھلے بندوروک دیا گیا ہے، ان کے خلاف تمام شدت پسند ہندو تنظیموں نے محاذ کھول رکھا ہے۔
ابھی بھی موقع ہے کہ گنگا جمنی تہذیب کے دل دادہ مسلمان اپنی گنگا جمنی ذہنیت کے خول سے باہر آئیں اور ایسے ہوش ربا ماحول میں ہوش کے ناخن لیں اور اِن گنگا جمنا ندیوں میں امت کا بیڑا غرق کرنے سے گریز کریں اور جو کچھ ہورہاہے اس سے عبرت حاصل کریں۔