ملک میں ہر طرف نفرت کا بازار

Spread the love

ملک میں ہر طرف نفرت کا بازار
(حافظ)افتخاراحمدقادری


ان دنوں ملک کے حالات دگر گوں اور خطرات کے سیاہ بادل گھنے ہوتے جا رہے ہیں۔ملک میں تیزی کے ساتھ خانہ جنگی کا ماحول بنتا جارہا ہے جہاں ایک شخص کو دوسرے پر بھروسہ نہیں بلکہ ہر شخص خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ حالات نظم و نسق انتظامہ کے قابو سے باہر ہیں۔وہ ملک جس کی تہذیب گنگا جمنی ہوا کرتی تھی اور آپس میں میل محبت،اخوت و بھائی چارگی،توافق و اتحاد و رواداری اور امن و شانتی جس کی علاماتی نشانات ہوا کرتے تھے آہ!آج اسی ملک میں ہر طرف نفرت کا بازار گرم ہے۔


آج ملک میں نفرت کے سودا گروں کی طرف سے زہر افشانی روزانہ کا معمول بنتا جا رہا ہے اور حکومت ان کی زہر افشانی پر قانونی کارروائی کرنے کے بجائے بلکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ملک کے وزیراعظم جنہیں کبھی کو سب سے زیادہ بولنے والوں میں دیکھا جا رہا تھا وہ بھی ان دنوں ملک میں ہو رہے فرقہ وارانہ فسادات،مساجد کے سروے،مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر کی کاروائی اور ان جیسے نہ جانے کتنے ہی مسائل ہیں جن پر بالکل خاموش ہیں۔
ملک کے موجودہ حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہی نہیں کہ یہاں کبھی امن و محبت کی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں جن سے مشام جاں ترو تازہ ہو جایا کرتے تھے اور دل و دماغ میں تازگی و بالیدگی کا بھر پور احساس ہوتا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ برسرِ اقتدار حکومت کے لیڈران ہی کھلے عام نفرت انگیز بیانات کا آئے دن مظاہرہ کر رہے ہیں۔ان نفرت انگیز بیان بازیوں کا ہی منفی نتیجہ ہے کہ ملک میں آئے دن فرقہ وارانہ واقعات و سانحات میں شدت آتی جا رہی ہے۔
بی جے پی کے دور حکمرانی میں ملک کے دیگر علاقوں کے علاوہ حساس مسلم مقامات پر اب تک ان گنت فسادات رونما ہوچکے ہیں ۔

بالخصوص منی پور جو آج کئی مہینوں سے ظلم و جبر کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔یہاں مسلسل مسلمانوں پر آئے دن ظلم و ستم میں اضافہ ہو رہا ہے۔اخبارات کی خبروں کے مطابق ابھی بھی منی پور میں حالات قابو سے باہر ہیں۔بہرائچ جہاں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فساد کرایا گیا اور ملزم پر کاروائی کرنے کے بجائے خود مظلوم مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلایا گیا ان کئی دکانوں میں آگ زنی کی گئی اور پھر بعد میں مسلمانوں ہی کو جبراً گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا۔ابھی حال ہی میں سانحہ سنبھل کا واقعہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ یہاں کس طرح سالوں سے ہندو مسلم اتحاد کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت تار تار کر کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی جس میں کئی مسلمانوں کی پولیس کی گولی سے موت ہوگئی۔


سانحہ سنبھل نے پورے ملک کے سر کو جھکا دیا کہ کس طرح ایک مسجد کے سروے کے بہانے وہاں کا ماحول خراب کیا گیا لیکن اب تک اس فرقہ وارانہ کشیدگی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے مسلمانوں کے ہی سر اس فرقہ وارانہ فسادات کا ٹھیکرا پھوڑا جارہا ہے اور فسطائی طاقتوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ہوتی بھی کیوں کہ تقسیم کار کے اصولوں کے تحت براہِ راست اقتدار کی باگ ڈور جن اشخاص کے ہاتھوں میں ہے وہ ایک طرف ہاہمی ہم آہنگی اور آئین کی حفاظت کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب ان کی ذیلی تنظیموں کے وہ لوگ جو براہ راست اقتدار میں نہیں ہیں وہ ایک مخصوص طبقہ کے خلاف کھلے عام زہر افشانی کر رہے ہیں۔


ملک کے وزیراعظم جہاں ایک طرف آئین کے سب سے مقدس کتاب ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور نسلی فرقہ وارانہ فسادات پر روک لگانے کی بات کرتے ہیں وہیں دوسری جانب ان ہی کی پارٹی کے وزراء و ممبران زہر افشانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس وقت اتر پردیش میں معمولی سی بات یا افواہ کشیدگی اور قتل کا سبب بن جاتی ہے۔فرقہ پرست عناصر آگ میں گھی ڈالنے کے لئے فوراً جمع ہوکر بیان بازی میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔اس بیان بازی کا انجام کیا ہوگا؟جانی و مالی نقصانات کا سامنا کس طبقہ کو کرنا پڑے گا؟سیاسی فائدے کسے حاصل ہوں گے؟ان سب امور کی خبر ان فرقہ پرستوں کو خوب اچھی طرح ہوتی ہے۔اس وقت اتر پردیش میں پورے تسلسل کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن ان کی روک تھام کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔


ایک نظر ادھر بھی

کورٹ میرج کرنا شرم ناک عمل ذمہ دار کون

جہیز کا وبال اور شرعی احکام

مغربی تہذیب کی چند بے ہودہ رسمیں

حلال گوشت کے نام پراقتصادی جہاد کا نیا شگوفہ

مانتے ہیں لوگ بری عادتوں کا برا

لڑکیوں کی شادی کی عمر !!

شوسل میڈیا بلیک میلنگ

ہمارے لیے آئیڈیل کون ہیں ؟

حسد کی تباہ کاریاں اور ہمارا معاشرہ

جہیز کا سد باب نہ ہوا تو یقیناً یہ چنگاری شعلہ بن جائے گی


بہرائچ اور سنبھل فرقہ وارانہ فسادات میں کئی مسلمانوں کی جان و مال اور ان کے گھروں کو تباہ و برباد کر دیا گیا لیکن پھر بھی وہی بے حسی۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ طبقہ انتظار میں رہتا ہے کہ کب مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان ہو اور پھر وہ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک چھڑکتے ہوئے زبانی جمع خرچ کر کے اپنی جھوٹی ہمدردی کا مظاہرہ کرے۔


ہمیشہ کی طرح پولیس جائے سانحہ پر اس وقت پہنچتی ہے جب مسلمانوں کا نقصان ہوچکا ہوتا ہے اور فرقہ پرست عناصر ماحول کو خراب کرنے میں کام یاب ہو چکے ہوتے ہیں۔اس کی قانونی کارروائی ایسی نہیں ہوتی جو دوسروں کے لیے سامان عبرت بن جائے اور مستقبل میں کوئی فرقہ وارانہ فسادات،قتل و غارتگری کا بازار گرم کرنے سے پہلے سو بار سوچے بلکہ فسادی و خطا کار طبقہ بڑی آسانی کے ساتھ ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں اور مقدمات فائلوں کی زینت بن جاتے ہیں اور کسی بھی قصوروار کو سزا نہیں ہوتی۔ آزاد بھارت کے معماروں نے ملک کی بنیاد جمہوری اصولوں پر استوار کی تھی جس کے مطابق ملک کے ہر مذہبی اکائی کو اپنے اپنے مذہبی اصول و ضوابط اور رسوم و رواج کے مطابق آزادانہ طور پر زندگی بسر کرنے کی پوری پوری آزادی حاصل تھی اور کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں پر زبردستی اپنے مذہبی نظریہ کو تھوپنے کی قطعاً اجازت نہیں تھی۔
لیکن اس آئینی و دستوری ممانعت کے باوجود کچھ تنظیمیں شروع سے ہی ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔سنگھ پریوار کے طے شدہ پلان کے مطابق شروع سے ہی دو محاذوں پر کام کیا جارہاہے۔ان میں سے ایک ہندوؤں کو منظم کرنا ہے اور دوسرا غیر ہندوؤں کو بنیادی دھارے میں ضم کرنا ہے۔ہندوؤں کو منظم و متحد کرنے کے لیے سنگھ پریوار نے ابتداء ہی سے نفرت کو ذریعہ بنایا ہے۔اب جبکہ ملک کی مرکزی کمان بے جے پی کی وساطت سے خود آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہے اس لیے وہ ان محاذوں پر سختی کے ساتھ کار بند نظر آ رہے ہیں۔
انہیں نہ تو غربت و بے روز گاری اور ناخواندگی وغیرہ ملکی مسائل کی فکر ہے اور نہ عالمی برادری کی تنقیدوں اور ملامتوں کا خوف و ڈر،بس انہیں ایک ہی فکر ہے کہ کسی طرح ملک ہندو راشٹر میں تبدیل کردیا جائے۔کس طرح ہندوؤں کو منظم و متحد کیا جائے اور مسلمانوں کو اس روش پر چلنے کے لیے کون کون سے طریقے اپنائے جائیں۔ حکومتِ وقت کو چاہیے کہ وہ ان امور کے بجائے ریاستی معاملات پر توجہ دے۔


بلا تفریق مذہب و نسل ملک کے تمام شہریوں کو عزت و وقار فراہم کرے،ان کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کرے،ان کے مذاہب اور مذہبی قائدین کو احترام دے، ان کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرے،تمام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے،اپنے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ ملک میں نفرت پھیلانے اور اس کی پر امن فضا کو مسموم و مکدر کرنے والے مجرموں کو لگام دے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائے۔

یہ بات ہر باشعور شہری کو معلوم ہے کہ یہاں کی مٹی میں آپسی میل محبت،اخوت و بھائی چارگی اور توافق و اتحاد و رواداری کا عنصر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باشندوں کی غالب اکثریت امن پسند ہے اور حقیقی جمہوریت و سیکولرزم میں یقین رکھتی ہے۔


اب لوگ امن و شانتی کو بھنگ کرنے والے ان شرپسندوں کی ذہنیت سے خوب اچھی طرح واقف ہوچکے ہیں۔اس لئے اقتدار کے رکھوالوں سے مشورہ ہے کہ نفرت و تعصب،ذات پات، مندر مسجد کی سیاست کو بند کریں ورنہ وہ
دن دور نہیں کہ آپ کی پارٹی کو پورے ملک میں شکست و ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے۔ خدا کرے کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو پراگندہ کرنے والے فرقہ پرست عناصر کی زبانیں بند ہوں اور ملک کا زمام اقتدار ان افراد کے ہاتھوں میں ہو جو عدل وانصاف اور رواداری کے ساتھ حکمرانی کریں اور جو خود کو حکمران نہیں بلکہ عوام کا خادم تصور کریں۔


iftikharahmadquadri@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *