مولنواسی اتحاد ، ناکہ ہندو مسلم اتحاد

Spread the love

مولنواسی اتحاد ، ناکہ ہندو مسلم اتحاد

 

تحریر: توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپور سہارن پور واٹسپ نمبر 8860931450

 

مولنواسی کون ہیں ؟ پسماندہ طبقات کے مفکرین اور لیڈران ”مولنواسی“ لفظ کی اصطلاح برہمن بنیا ٹھاکر اور چھتریوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں ، ان کے مطابق ملک کے پچاسی فیصد بھارتی یہاں کے پشتینی باشندے ( مولنواسی) ہیں جن میں مسلمان سمیت بھارت کی تمام اقلیتیں شامل ہیں باقی برہمن آریہ وغیرہ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں جنہوں نے بھارت پر قبضہ کر رکھا ہے جن کی تعداد بمشکل 15/ فیصد ہے ۔ یہ نظریہ جہاں آر ایس ایس بی جے پی کے ”ہندو راشٹ“ کے نظریے کو جڑ سے اکھاڑنے والا ہے وہیں مسلمانوں کے لئے امید کا ایک چراغ بھی ۔ ملک کی دوسری سیاسی پارٹیاں بھی نام بدل کر ( ذات پات پرمبنی مردم شماری کی بات کرنا ، اسی طرح بی جے پی کو ریزرویشن مخالف قرار دینا خیال رہے کہ) اسی نظریہ کا سہارا لیتی ہیں اور کامیاب ہوتی ہیں ۔

آج تک ہماری قیادت ”ہندو مسلم اتحاد“ کی بات کرتی آئی ہے ، جسکو آزادی کے بعد کے بھارت میں خود ہندوؤں نے بری طرح ٹھکرادیا ، 2014 کے بعد تو ہندو مسلم اتحاد خود ہندوؤں کے اندر گالی بن گیا ۔ دوسری طرف ہماری قیادت نے آج تک مولنواسی اتحاد ( بالفاظ دیگر دلت مسلم اتحاد) کی بات نہ صرف بہت کم کی ہے بلکہ اس اتحاد کے نتائج و عواقب پر کوئی سیمنار یا منصوبہ بند گفتگو تک نہیں کی ۔ اگر ہماری قیادت ”مولنواسی اتحاد“ کی بات کرنے لگے تو اس کے دو بڑے فائدے فوراً نظر آئیں گے ایک تو یہ کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا ”نظریۂ ہندتوا“ بے انتہا کمزور ہوگا ، دوسرے ہندتوا آئڈیا لوجی کے خلاف کام کرنے والی امبیڈکر وادی طاقتوں کو بھرپور سہارا ملیگا مزید یہ کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیاں دور ہونگی ۔ مسلمانوں کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ آئین ہند constitution of India کے حمایتی ہندو نہیں بلکہ اصل حمایتی یہ ہی امبیڈکر وادی طاقتیں ہیں ، دوسری طرف مسلمان بھی آئین ہند کی بات کرتے ہیں اور اس پر اعتبار کی بات کرتے ہیں ، مگر حیرت ہے کہ یہ دونوں ہی طاقتیں ایک نہیں ہوسکی ۔

قارئین کرام ! آپ نے آر ایس ایس پرمکھ موہن بھاگوت کو ”ہم سب کا ڈی این اے ایک ہے “ والا بیان دیتے ہوئے ضرور سنا ہوگا ، یہ بیان ”ہندو مسلم اتحاد“ کے پس منظر میں نہیں ہے جیساکہ عام طور پر بیچاری مسلم قیادت سمجھتی ہے ، بلکہ یہ بیان دراصل ردعمل ہے امبیڈکر وادی طاقتوں کے اس فلک شگاف نعرے کا کہ ”بول پچاسی ، مولنواسی ، برہمن ودیسی “ ۔ راقم الحروف تقریبا 2017 سے بامسیف کے لوگوں سے رابطہ میں ہے ، میں نے پایا ہے کہ جو لوگ بھی امبیڈکر وادی ہے خواہ وہ کسی بھی پارٹی یا تنظیم سے جڑے لوگ ہوں ان میں ہندتوا غنڈہ گردی بالکل نہیں ، دوسرے یہ لوگ مانتے ہیں کہ ہندتوا کے نام پر ہمارے بچوں کو دنگائی بنایا جارہاہے اور اس سے چھٹکارے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں ، تیسرے ان لوگوں میں اسلام سمیت کسی بھی مذہب سے دلچسپی نہیں اور ہندو دھرم سے تو بالکل نہیں کیوں کہ ہندو دھرم کی ہزاروں سالہ بربریت نے ان لوگوں مذہب بیزار بنادیا ، چوتھے یہ لوگ مسلمانوں سے اتحاد کی سوچتے ہیں مگر بات کس سے کریں ؟ مسلمانوں کی اپنی کوئی سیاسی پارٹی نہیں ، مذہبی لوگوں سے یہ لوگ دور رہنا چاہتے ہیں ۔

آخری بات

جب ہم مولنواسی اتحاد ( دلت مسلم اتحاد یا بہوجن مسلم اتحاد) کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد سیاسی پارٹیوں کا اتحاد ہوتا ہے یعنی مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی پارٹی پسماندہ طبقات کی سیاسی پارٹیوں سے معاہدے پر مبنی اتحاد کرے ، اس کے لیے مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی پارٹی کا ہونا ضروری ہے ، موجودہ وقت میں ایسی کوئی پارٹی بھارت میں نہیں ہے ۔ دوسرے مولنواسی اتحاد سے مراد سماجی اتحاد ہوتا ہے یعنی پسماندہ طبقات کی تنظیموں کا تعاون کرنا اور ان سے تعاون لینا اس معاملے میں بھی ہماری تنظیموں کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *