مسلم قیادت کہاں ہے

Spread the love

مسلم قیادت کہاں ہے ؟

تحریر : توصیف القاسمی (مولنواسی)

ملک عزیز بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ Citizenship Amendment Act (CAA) 12/ مارچ 2024 سے نافذ کردیا گیا ہے ، عین رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ساتھ شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کا اعلان کرنا بتلاتا ہے کہ اس قانون سے مسلمانوں کو نقصان پہچانا اور ان کو احساس کمتری میں مبتلا کرنا مقصود ہے

مزید یہ کہ قانون کے نفاذ کے وقت کا تعین ( عین رمضان کا آغاز) بی جے پی کی ”شیطانی ذہنیت“ کو آخری حد تک واضح کرتا ہے ۔

یہ قانون پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان کے غیر مسلم پناہ گزینوں کو تو شہریت دیتا ہے مگر ان ممالک سے آنے والے مسلم پناہ گزینوں کو شہریت نہیں دیتا

اسی کو تفریق discrimination کہا جاتا ہے ، خیال رہے کہ پارلیمنٹ کوئی بھی قانون مذہبی جانب داری کی بنیاد پر نہیں بناسکتی اور اگر کوئی حکومت ایسا کرتی ہے تو محروم سماج کو آواز اٹھانے کا بھرپور حق ہے ۔

وزیر داخلہ امت شاہ کا یہ کہنا کہ ”یہ قانون شہریت دینے والا ہے مسلمانوں سمیت کسی کی بھی شہریت چھین نے والا نہیں “ مکاری اور عیاری سے زیادہ کچھ نہیں اور مولانا فرنگی محلی کا یہ کہنا کہ ”امن قائم رکھیں کسی کی شہریت نہیں جائے گی “ احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے

باقی مسلم قیادت کا خاموش رہنا واضح طور پر بتلارہا ہے کہ ہماری قیادت سرینڈر کرچکی ہے اس کا ترکش خالی ہوچکا ہے ۔

میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ مسلم لیڈرشپ کو احتجاج کی کال دینی چاہیے میرا مقصد صرف اِتنا ہے کہ حکومت کے اس قدم کی مخالفت تو کیجیے اظہارِ ناراضگی تو کیجیے یا پھر کم ازکم باہر سے آنے والے مسلمانوں کو بھی مذکورہ قانون میں شامل کرنے کا مطالبہ ہی کیا جائے

ہم کو جان لینا چاہیے کہ بھارت میں افغانستان اور برما وغیرہ سے بہت سے مسلمان بھی پناہ لیے ہوئے ہیں

جب دیگر مذاہب کے پناہ گزینوں کو شہریت مل رہی ہے تو مسلمان پناہ گزینوں کو بھی شہریت ملنی چاہیے ، یہ ہمارا حق بھی ہے اور ذمے دار شہریوں کا فرض منصبی بھی ۔

تحریر : توصیف القاسمی مقصود منزل پیراگپور سہارنپور واٹسپ نمبر 8860931450

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *