گر چہ ما حول و حشیانہ تھا

Spread the love

گر چہ ما حول و حشیانہ تھا

پھر بھی میرا وہ آشیا نہ تھا

مجھ کو اس نے بھی الوداع بولا

جن سے رشتہ مرا پرانا تھا

وہ بھی آتے قریب دل میرے

راز قلب خودی بتا نا تھا

اپنی مجبور یاں گناتے تھے

کچھ نہیں تھا و ہ بس بہانا تھا

آج بھی سوچتا ہوںمیں تنہا

عشق وہ تھا بھی یا فسانہ تھا

آج شا ہیؔ کو ہوگیا حاصل

جن سے رشتہ بڑا بیگانہ تھا

سبطین رضا شاہی ؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *