- ← جب زمین دو ڈگری گرم ہو جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے
- تنظیم و اُصول اور استعداد و صلاحیت کے ضمن میں تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کی افادیت →
Share This Post:
زبانِ اردو کی دنیا میں دھوم ہو
گر چہ ما حول و حشیانہ تھا
پھر بھی میرا وہ آشیا نہ تھا
مجھ کو اس نے بھی الوداع بولا
جن سے رشتہ مرا پرانا تھا
وہ بھی آتے قریب دل میرے
راز قلب خودی بتا نا تھا
اپنی مجبور یاں گناتے تھے
کچھ نہیں تھا و ہ بس بہانا تھا
آج بھی سوچتا ہوںمیں تنہا
عشق وہ تھا بھی یا فسانہ تھا
آج شا ہیؔ کو ہوگیا حاصل
جن سے رشتہ بڑا بیگانہ تھا
سبطین رضا شاہی ؔ