محرم الحرام عظمت ہدایات اور ہماری ذمہ داریاں

Spread the love

محرم الحرام عظمت ہدایات اور ہماری ذمہ داریاں

از قلم: محمد صفدر رضا علائی

( مربت پور پیکبان کٹیہار بہار )

تمہید : اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف حرمت والا ہے بلکہ اس میں کئی عظیم الشان واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ سب سے زیادہ جس واقعہ کی یاد تازہ ہوتی ہے وہ ہے شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کرام کی مظلومیت

اس مہینے کو فقط غم و آہ و بکا تک محدود کر دینا، یا بدعات و رسومات میں مشغول ہو جانا ایک بڑی دینی کوتاہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم محرم کو اس کے اصل مفہوم، تاریخی عظمت، اور شرعی ہدایات کے ساتھ سمجھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔

محرم کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں1. حرمت والے مہینےاللہ تعالیٰ نے فرمایا:> إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا…مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ”بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے… ان میں چار حرمت والے ہیں۔” (سورۃ التوبہ: 36)ان چار مہینوں میں سے ایک محرم ہے، جسے نبی کریم ﷺ نے “شہرُ الله المحرم” یعنی “اللہ کا مہینہ” فرمایا (صحیح مسلم)

۔2. یومِ عاشورہ کی اہمیتنبی کریم ﷺ نے فرمایا:> “میں رمضان کے بعد کسی دن کے روزے کو عاشورہ کے دن کے روزے سے زیادہ افضل نہیں سمجھتا۔” (صحیح مسلم)> “یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی، چنانچہ ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔” (بخاری)

کربلا کا سانحہ: صبر، قربانی اور حق پسندی کی عظیم مثال حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت نہ کر کے باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کی، اور کربلا کے میدان میں اپنے اہل خانہ سمیت شہادت قبول کی مگر حق کو سرنگوں نہ ہونے دیا۔کربلا:ہمیں سکھاتا ہے کہ دین پر قربانی دینی پڑے تو گریز نہیں۔دین کی خاطر اہلِ خانہ کو بھی فدا کرنا پڑے تو کریں۔

حق پر ڈٹے رہنا ہی اصل کام یابی ہے۔

محرم الحرام میں مسنون اعمال 1. نفل روزے رکھناخاص طور پر 9 اور 10 محرم یا 10 اور 11 محرم کو روزہ رکھنا سنت ہے تاکہ ہم یہود کی مشابہت سے بچے رہیں

۔ 2. توبہ و استغفارحرمت والے مہینے میں گناہوں سے بچنا زیادہ ضروری ہے۔ یہ توبہ کا بہترین موقع ہے

۔ 3. سیرتِ اہلِ بیت پر غور و تدبرمسلمانوں کو چاہیے کہ محرم میں اہلِ بیت کی زندگی، ان کے صبر، تقویٰ، شجاعت اور دین کے لیے قربانیوں کو سمجھیں اور ان سے سبق لیں

۔4. باہمی اتحاد و اتفاق کی کوشش محرم کے دنوں میں اختلافات، فرقہ وارانہ بیان بازی، اور فتنہ و فساد سے پرہیز کریں۔ امام حسین علیہ الرضوان کی سیرت خود اتحاد کا درس دیتی ہے۔

محرم میں ممنوعہ یا غیر شرعی اعمال 1. نوحہ، ماتم، سینہ کوبیاسلام میں غم منانے کی اجازت ہے مگر نوحہ خوانی، ماتم، خود کو مارنا، سینہ پیٹنا، زنجیر زنی وغیرہ نہ صرف ناجائز بلکہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہیں۔> نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”وہ ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کے طریقے پر بین کرے۔” (بخاری)

۔ 2 . بدعات و خرافاتمخصوص رنگ کے کپڑے پہننا (مثلاً کالا لباس پہننا)تعزیہ نکالنانیاز کو مخصوص دنوں سے جوڑنایہ سب غیر ثابت اور دین میں نئی باتیں ہیں

۔ 3. فرقہ وارانہ اشتعال انگیزیمحرم کو شیعہ سنی کی جنگ نہ بنائیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد و اصلاح کے لیے استعمال کریں۔

ہمارے لیے پیغام

محرم کا مہینہ ہمیں صبر، قربانی، استقامت، اتحاد، اور باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ سکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ:اپنے گھروں میں محرم کی مسنون تعلیمات کا چرچا کریں۔اہل بیت کی محبت کو اپنے ایمان کا حصہ بنائیں۔فضول رسومات اور بدعات سے بچیں۔اپنی نسل کو واقعہ کربلا کا اصل پیغام سمجھائیں۔

خلاصہ محرم نہ صرف تاریخِ اسلام کا ایک اہم مہینہ ہے بلکہ ایک ایسی عظیم یاد ہے جو ہمیں حق کے لیے کھڑے ہونے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے، اور صبر و استقامت کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے جینے اور مرنے کا درس دیتی ہے۔

اگر ہم نے اس مہینے کو صرف رسومات میں کھپا دیا تو ہم مقصدِ کربلا سے دور ہو جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ دے، بدعات سے بچائے، اور امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کی محبت و سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *