Share This Post:
زبانِ اردو کی دنیا میں دھوم ہو
انتظارِ گلِ رعنا نے کیا ہے مجھے سنگ
اس سفر میں مجھے لگتا رہا ہر شخص نہنگ
کر چکا خود کو ہواؤں کے حوالہ ترے بعد
اڑ رہا ہوں میں فضاؤں میں یوں ہی مثلِ پتنگ
دل کی فریاد سناتے ہیں ترے ہاتھ بھی دیکھ
دل نہ چہتا ہو تو مہندی کا بھی چڑھتا نہیں رنگ
مجھ میں رہ رہ کے یہ اٹھتا رہا مدت سے سوال
کس تمنا پہ یہ کہیے کہ ہے کیا دل کی امنگ
جب بھی پڑھتا ہوں اَتَجْعَلْ تو ستاتی ہے یہ سوچ
ایسا کیا کر دیا انساں کہ فرشتے ہوئے دنگ
شیخ سیف اللہ راہی، پنگنور
9491432393