پندرہ سو سالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کچھ اس طرح منائیں

Spread the love

پندرہ سو سالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کچھ اس طرح منائیں

۔✍️ از: مولانا محمدشمیم احمد نوری مصباحی

ناظم تعلیمات:دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)

الحمد للّٰہ!اللہ ربّ العزت نے ہمیں حضور سید المرسلین، رحمت للعالمین، خاتم النبیین محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی امت میں شامل فرمایا۔

یہ وہ نعمتِ کبریٰ ہے جس پر عمر بھر شکر ادا کرنا بھی کم ہے۔ ربیع الاول کی مقدس ساعتیں اور بالخصوص عید میلاد النبی ﷺ کا دن دراصل اسی شکرگزاری کا حسین موقع ہے۔

اس موقع پر ہمیں محض رسمی خوشی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اپنی زندگی کے ہر گوشے میں حضور نبی رحمت ﷺ کی سنتوں، تعلیمات اور محبت کو نافذ کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔آئیے دیکھیں کہ ہم پندرہ سو سالہ اس عظیم الشان جشنِ میلاد کو کس طرح بہتر، مؤثر اور بامقصد بنا سکتے ہیں: ۔

۔1 ۔ نماز کی پابندی اور شکرانۂ عبادت:جس نبی کریم ﷺ کا میلاد ہم مناتے ہیں، انہوں نے نماز کو “آنکھوں کی ٹھنڈک” قرار دیا۔ اس لیے پانچ وقت کی نماز باجماعت، تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کریں۔ ساتھ ہی نوافل بطور شکرانہ ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں محبوبِ خدا ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا

۔2۔ قرآنِ پاک کی تلاوت و تدبر:قرآنِ مجید حضور نبی کریمﷺ کی سب سے بڑی امانت اور امت کے لیے عظیم سوغات ہے۔ روزانہ فجر کے بعد یا حسب سہولت قرآنِ کریم کی تلاوت کریں۔ ماہِ ربیع النور شریف میں کم ازکم ایک ختم شریف کی سعادت ضرور حاصل کریں اور آیاتِ قرآنی پر غور و فکر کے لیے وقت نکالیں

۔3۔ درود و سلام کی محافل:درود پاک پڑھنا سب سے اعلیٰ ترین وظیفہ ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر درود و سلام کی محافل کا اہتمام کریں۔ حتیٰ کہ گھر میں بھی روزانہ کچھ اوقات (کم ازکم بارہ منٹ) سب اہلِ خانہ مل کر درود و سلام پڑھیں تاکہ اس رحمت و برکت سے گھر منور ہو جائے

۔4۔ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ:میلاد النبی ﷺ کی حقیقی خوشی تب ہی حاصل ہوگی جب ہم سیرتِ طیبہ کو پڑھیں اور اپنی زندگی میں انہیں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ روزانہ کچھ وقت حضور ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے مطالعہ کے لیے وقف کریں

۔ اردو زبان میں علامہ محمد نور بخش توکلی کی “سیرتِ رسولِ عربی ﷺ”علامہ پیر کرم شاہ ازہری کی “ضیاء النبی”بطل حریت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی (تسہیل و تخریج و ترتیب جدید:مولانا اختر حسین فیضی مصباحی) کی تواریخ حبیب الٰہ،علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی کی “سیرتِ مصطفیٰ ﷺ”اور پروفیسر سید شجاعت علی قادری کی “سیرت رسول اکرم ﷺ” اس ضمن میں بہترین ولائق مطالعہ کتب ہیں

-5۔ صدقہ و خیرات اور خدمتِ خلق:عید میلاد کی خوشی میں سفید پوش، غریب اور محتاج مسلمانوں کی مدد کریں۔ کھانے کا انتظام کریں، خشک راشن دیں، پرندوں اور بے زبان جانوروں کے لیے دانہ پانی رکھیں۔ یہ سب صدقہ و خیرات کے ایسے پہلو ہیں جن سے میلاد النبی ﷺ کے دن کو بابرکت بنایا جا سکتا ہے

۔6۔ تعلیم اور طلبہ کی اعانت:غریب طلبہ کی فیس، کتابیں، یونیفارم یا ٹھنڈی میں گرم کپڑے خرید کر دیں۔ مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ و اساتذہ کی مدد کریں۔ دین کے خادموں کی خدمت دراصل حضور ﷺ کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے

۔7۔ قرض اور حقوق کی معافی:اگر کسی پر قرض ہے تو میلاد کی خوشی میں کچھ یا سارا معاف کر دیں۔ یہ رحم و کرم کا وہ عمل ہے جو روزِ محشر حضور ﷺ کی شفاعت اور اللہ وحدہ لاشریک کی رحمت کا ذریعہ بنے گا

۔8۔ صلح و آشتی:دو ناراض مسلمانوں میں صلح کروائیں۔ خصوصاً رشتوں میں بچھڑے افراد کو جوڑیں۔ میلاد النبی ﷺ کا پیغام ہے دلوں کو صاف کرنا، دوسروں کو معاف کرنا اور امت کو ایک کرنا

۔9۔ مریضوں کی عیادت:ہسپتال جا کر مریضوں کی خبرگیری کریں، ان کی دلجوئی کریں اور اگر ممکن ہو تو ان کے علاج معالجے کا بندوبست کریں۔ یہ سب اعمال میلاد کی برکتوں کو بڑھاتے ہیں

۔10۔ شجرکاری اور ماحولیات:میلاد کی خوشی میں چراغاں کے ساتھ ساتھ درخت لگائیں۔ یہ صدقۂ جاریہ ہے اور ماحول کو بہتر بنانے کا ذریعہ بھی۔ میلاد کمیٹیاں محفلوں کے ساتھ ساتھ شجرکاری مہم کا بھی اہتمام کریں

۔11۔ سنتوں کی پیروی:اپنے کھانے، پینے، سونے، جاگنے اور روزمرہ کے معمولات میں حضور ﷺ کی سنتوں کو زندہ کریں۔ مسنون دعائیں یاد کریں اور عمل کریں تاکہ زندگی میں خیر و برکت آئے

۔12۔ میلاد کی رونق اور اعتدال:گلی محلوں کو چراغاں اور جھنڈیوں سے سجائیں، مگر حلال آمدنی سے اور بغیر کسی زبردستی چندہ کے۔ غیر شرعی کاموں اور لغویات سے مکمل پرہیز کریں تاکہ میلاد النبی ﷺ حقیقی معنوں میں ایک اصلاحی اور روحانی تقریب بن سکے

۔13۔ علمی و اصلاحی اجتماعات:میلاد کے موقع پر صرف ظاہری خوشی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ علمی و فکری نشستوں کا بھی اہتمام کیا جائے، جہاں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ، احادیثِ مبارکہ، اور تعلیماتِ نبویہ پر روشنی ڈالی جائے۔

وہیں علما و مشائخ ایسی تقاریر کریں جن سے ایمان تازہ ہو اور نئی نسل اپنے نبی ﷺ کی زندگی سے رہنمائی حاصل کرے۔ ان مجالس میں آسان زبان استعمال کی جائے تاکہ ہر شخص حضور ﷺ کے پیغام کو سمجھ کر اپنی عملی زندگی میں شامل کر سکے

۔14۔ عزم و تجدیدِ وفا:عید میلاد النبی ﷺ کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ ہم عہد کریں کہ اپنی زندگی کو نبی اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں اور سنتوں کے مطابق گزاریں گے۔ میلاد کا دن محض چراغاں اور جلوس تک محدود نہیں بلکہ اپنے نبی ﷺ سے تجدیدِ وفا اور عملی پیروی کا دن ہے۔

جلوسِ محمدی ﷺ کی اہمیت و ضرورت:۔

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جلوس محمدی ﷺ ایک عظیم الشان سنتی و دینی روایت ہے۔ یہ جلوس دراصل اعلانِ محبت، اظہارِ شکر اور نبی رحمت ﷺ کی عظمت کا پرامن اظہار ہے۔ اس کے ذریعے غیر مسلم اقوام اور نئی نسل کو بتایا جاتا ہے کہ مسلمان اپنے نبی ﷺ سے کس درجہ محبت کرتے ہیں۔

۔★جلوس محمدی ﷺ امت کے اتحاد کی علامت ہے

۔★یہ سیرت النبی ﷺ کا پیغام عام کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

۔★جلوس میں شرکت کرنے والے اپنے عمل سے اعلان کرتے ہیں کہ وہ نبی پاک ﷺ کے پیغامِ امن و رحمت کو زندہ رکھنے والے ہیں

۔★جلوس ایک پرامن دینی اجتماع ہے جو محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاح کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔جلوس کے آداب:جلوس محمدی ﷺ میں شرکت اور اس کے انعقاد کے کچھ اہم آداب درج ذیل ہیں:۔

۔1. نماز کی پابندی: جلوس کا آغاز اور اختتام نماز کے اوقات کو سامنے رکھ کر ہو تاکہ کوئی شخص نماز قضا نہ کرے

۔2. درود و سلام کی کثرت: جلوس میں شور شرابے یا بے فائدہ نعرے بازی کے بجائے اجتماعی طور پر درود شریف اور نعت خوانی کا اہتمام کیا جائے

۔3. علماء و صلحاء کی قیادت: جلوس میں علما، مشائخ اور حفاظ و قراء اور باشرع لوگوں کو آگے رکھا جائے تاکہ دینی تقدس قائم رہے

۔4. اخلاق و کردار: جلوس میں شریک ہر شخص خوش اخلاقی، نرم دلی اور وقار کا مظاہرہ کرے۔ کوئی بداخلاقی یا غیر شرعی حرکت ہرگز نہ ہو۔5. شرعی حدود کی رعایت: مرد و عورت کا اختلاط نہ ہو۔ پردے اور حیا کے تقاضے مکمل ملحوظ رہیں

۔6. صفائی و طہارت: جلوس کے راستوں میں کوڑا کرکٹ نہ ڈالا جائے بلکہ ممکن ہو تو صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے تاکہ میلاد کا جلوس ماحول کو پاکیزہ بنائے

۔7.لباس و ظاہری آداب:جلوسِ محمدی ﷺ میں صاف ستھرا اور سفید لباس (کرتا پاجامہ) پہن کر شریک ہوں، سر کو ٹوپی، عمامہ یا کم از کم رومال سے ڈھانپیں، اور خوشبو (عطر) کا استعمال کریں تاکہ دینی تقدس کے ساتھ ساتھ خوشنمائی اور طہارت کا بھی اہتمام ہو

۔8. روشنی و سجاوٹ میں اعتدال: جلوس کے راستوں میں چراغاں کیا جائے لیکن بیجا فضول خرچی اور اسراف سے بچا جائے

۔9. امن و سکون: جلوس میں شامل تمام افراد حکومتی قوانین، ٹریفک نظام اور امن و امان کی فضا کو مقدم رکھیں۔ حضور ﷺ کا پیغام ہی امن اور سلامتی ہے

۔10. اصلاحی پیغام کی ترسیل: جلوس کے دوران ساؤنڈ سسٹم پر نعت شریف، درود شریف، اور سیرت کے واقعات سنائے جائیں تاکہ عوام الناس کے دلوں میں نبی اکرم ﷺ کی محبت اور دین کی شوق پیدا ہو

۔11. دعاؤں کا اہتمام: جلوس کے اختتام پر اجتماعی دعا کی جائے جس میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن، سلامتی، ایمان کی حفاظت اور دین کی سربلندی کی دعائیں کی جائیں۔

کچھ مزید رہنما نکات:۔

۔★میلاد النبی ﷺ کے موقع پر گھروں میں بھی اجتماعی محافل کریں، تاکہ بچوں اور خواتین کو بھی سیرت النبی ﷺ کی تعلیم ملے

۔★میلاد کے دن اسلام کی بنیادی تعلیمات مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حقوق العباد کی اہمیت پر عوام کو یاد دہانی کرائی جائے

۔★اس موقع پر علماے کرام اور ذاکرین امت کو موجودہ دور کے مسائل اور ان کے دینی حل سے روشناس کرائیں

۔★نئی نسل کو میلاد کے ذریعے اپنے نبی ﷺ کی سنتوں سے روشناس کرانا سب سے اہم پہلو ہے۔

الحاصل ! عید میلاد النبی ﷺ کا جشن محض چراغاں، جلوس اور رسمی تقاریب کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے نبی پاک ﷺ سے تجدیدِ وفا اور عملی پیروی کا دن ہے۔

اگر ہم جلسہ و جلوس عید میلاد النبی میں ان اصلاحی، دینی، فلاحی اور روحانی پہلوؤں کو شامل کر لیں تو ہمارا یہ 1500سالہ جشن عید میلادالنبی نہ صرف دنیاوی برکتوں کا سبب ہوگا بلکہ آخرت میں حضور نبی رحمت ﷺ کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بھی بنے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں جشنِ میلاد النبی ﷺ منانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *