سورہ کہف ایک مختصر تعارف
سورہ کہف ایک مختصر تعارف
محمد عبدالحفیظ اسلامی
سورہ کہف مکی ہے اس میں110 آیات کریمہ اور 12 رکوع آے ہیں۔
سورۃ کہف سے؛ ان سورتوں کا آغاز ہوتا ہے جو آپؐ کی مکی دعوت کے تیسرے دور میں نازل ہوتی ہیں۔ یہ دور تقریباً 5 نبوی کے آغاز سے شروع ہوکر قریب قریب 10 نبوی تک چلتا ہے۔
سورہ کہف کے مضمون پر غورکرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تیسرے دور کے آغاز میں نازل ہوئی ہوگی۔ جبکہ ظلم و ستم اور مزاحمت نے شدت تو اختیار کرلی تھی مگر ابھی ہجرت حبشہ واقع نہ ہوئی تھی۔
اس وقت جو مسلمان ستائے جارہے تھے ان کو اصحاب کہف کا قصہ سنایا گیا تاکہ ان کی ہمت بندھے اور انہیں معلوم ہو کہ اہل ایمان اپنا ایمان بچانے کیلئے اس سے پہلے کیا کچھ کرچکے ہیں۔
یہ سورت مشرکین کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی ہے جو اُنہوں نے حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتحان لینے کے لیے اہل کتاب کے مشورے سے آپ کے سامنے پیش کئے تھے
۔ ( اصحاب کہف کون تھے ؟ ( قصہ خضر کی حقیقت کیا ہے؟ (۳) ذوالقرنین کا قصہ کیا ہے ؟ (۱) جواب میں اصحاب کہف کے متعلق بتایا گیا کہ وہ اسی توحید کے قائل تھے جس کی دعوت قرآن پیش کررہاہے۔
اور ان کا حال مکہ کے مٹھی بھر مظلوم مسلمانوں کے حال سے اور ان کی قوم کا رویہ کفار قریش کے رویہ سے کچھ مختلف نہ تھا۔ پھر اسی قصے سے اہل ایمان کو یہ سبق دیا گیا کہ اگر کفار کا غلبہ بے پناہ ہو اور ایک مومن کو ظالم معاشرے میں سانس لینے تک کی مہلت نہ دی جارہی ہو ، تب بھی اس کو باطل کے آگے سر نہ جھکانا چاہیے۔ (چاہے اس کے لیے اسے گھر بار اور اہل و عیال سب کچھ چھوڑ دینا پڑے)۔(۲) اصحاب کہف کے قصے سے راستہ نکال کر اس ظلم و ستم اور تحقیر و تذلیل پرگفتگو شروع کردی گئی جو مکے کے سردار مسلمانوں کے ساتھ برت رہے تھے۔
اس سلسلہ میں حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دی گئی کہ نہ ان ظالموں سے کوئی مصالحت کرو اور نہ غریب صحابہؓ کے مقابلے میں ان بڑے بڑے لوگوں کو کوئی اہمیت دو۔ دوسری طرف ان رئیسوں کو نصیحت کی گئی کہ اپنے چند روزہ عیش زندگی پر نہ پھولو بلکہ ان بھلائیوں کے طالب بنو جو ابدی اور پائیدار ہیں
۔ (۳) اسی سلسلہ کلام میں قصہ خضر و موسیٰ کو کچھ اس انداز سے سنایا گیا کہ اس میں کفار کے سوالات کا جواب بھی تھا اور مومنین کیلئے تسلی بھی۔ اس قصے میں دراصل جو سبق دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت کا کارخانہ جن مصلحتوں پر چل رہا ہے وہ چونکہ تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے ، اس لئے تم بات بات پر حیران ہوتے ہو کہ یہ کیوں ہوا ؟ یہ کیا ہوگیا ؟ حالاں کہ اگر پردہ اُٹھادیا جائے تو تمہیں خود معلوم ہوجائے کہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے ٹھیک ہورہا ہے
۔ (۴ اسکے بعد قصہ ذوالقرنین ارشاد ہوتا ہے اور اس میں سائلوں کو یہ سبق دیاجاتا ہے کہ تم تو اپنی اتنی ذرا ذرا سی سرداریوں پر پھول رہے ہو ، حالانکہ ذوالقرنین اتنا بڑا فرمانروا اور ایسا زبردست فاتح اور اس قدر عظیم الشان ذرائع کا مالک ہوکر بھی اپنی حقیقت کو نہ بھولا تھا اور اپنے خالق کے آگے ہمیشہ سر تسلیم خم رکھتا تھا۔ خاتمہ کلام میں بھی انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے جو آغاز کلام میں ارشاد ہوئی ہیں۔ یعنی کہ توحید و آخرت سراسر حق ہیں اور تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ انھیں مانو۔ (تلخیص تفہیم القرآن)اس سورت کا آغاز اللہ تعالی عزوجل کی تعریف سے ہوا اور ساتھ ہی ” اَنزلَ علٰی عَبِدہ الکِتابَ“ اپنے (محبوب ) بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کے نازل کیے جانے کا ذکر فرماتے ہوے منکرین حق کو بتایا جارہا ہے کہ تم جس دین کی مخالفت کررہے ہو اور اس پر ایمان لانے والے اصحاب کو تنگ کر رہےہو
خوب جان رکھو کہ جس کتاب کی تعلیم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) دے رہے ہیں یہ دراصل تمہارے اس حقیقی مالک کی طرف سے تہاری ہدایت کے لیےنازل ہورہی ہے
جو صرف اکیلا لائق تعریف ہے اور ساری کی ساری حمد ثنا اسی کے لیے مخصوص ہے، اور قرآن حکیم کے بارے میں صاف فرمادیا کہ ” وَلَم یَجعَل لَهُ عِوَجًا ” یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئ کجی وپیچیدگی نہیں ہے، یعنی نوع انسانی کی حقیقی فلاح وکامیابی کے لیے صاف صاف ہدایات دینے اور (لوگوں کو اللہ کی نافرمانی کے انجام بد سے خبردار کرنے ) والی کتاب ہے ، پھر آگے منکر حق و نافرمانوں کو تنبیہ ہے کہ ہوش میں آو اور آنے والے سخت عذاب سے ڈرو۔۔۔۔۔۔ !!!۔
دوسری طرف (یہ کتاب اللہ)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کر تے ہوے نیک اعمال اختیار کرنے والےفرمانبردار بندوں کو خوشخبری سناتی ہے کہ تمہارا رب تمیںبہترین اجر دیتے ہوے جنت ودرجات جنت عطا فرماے گا۔
اس طرح سورت کے اختتام سے قبل اللہ تعالی کی کبرائ وبڑائ بیان کی گئ اور ساتھ ساتھ مشرکین کو شرک کی قباحت اور اسکی باداش میں ملنے والی جہنم اور اسکی حولناکی کا ذکر بھی ہوا اور توحید باری تعالی اختیار کرنے کے دائمی فوائد بیان فرماے گئے۔
آیت 102 میں اللہ تعالی کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا حاجت روا مشکل کشا، فریاد رس اور کارساز سمجھتے ہوے ان کی پرستش کرنےوالے مشرکین کے متعلق فرمایا گیا کہ یہ لوگ کفر کی روش اپناتے ہوے یہ بھول رہے ہیں کہ انکا حقیقی پروردگار و پالن ہار ان سے خفا نہیں ہوگا۔۔۔۔؟
حقیقت تو یہ ہے کہ کافروں کے لیے اللہ تعالی جہنم کی ضیافت تیار کر رکھی ہے۔آیات کریمہ 103تا 106 میں ان لوگوں کے باطل افکار وخیالات پر مبنی تمام اعمال کے ضائع و بے وزن ہوجانے کا تذکرہ بھی ہوا اور بتا دیا گیا کہ جولوگ الٰہی و نبوی تعلیات کو جھٹلاتے ہوے اپنی سعی وجہد کو اچھا سمجھتے ہیں وہ دنیا ہی میں ناکام ہوجاتے ہیں، اسلیے کہ انہوں نے اپنے رب کے کھلی نشانیاں دیکھ کر بھی اسے جھٹلایا، اور کل روز قیامت (جوابدھی کے احساس کے بغیر، بے لگام زندگی بسر کی ہوگی تو ) ان کے اعمال بھی بے وزن ہوکر رہیں گے۔۔۔!
اللہ کی آیات اور رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہوتاہے۔ آخری آیت کریمہ میں صاف طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان صادق سے یہ بات کہلوائ گئ کہ دیکھو! میں تمہارے درمیان میں سے ہی {نبی بناکر اٹھایا گیا} ہوں ، وہی کی جاتی ہے میری طرف کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے
لہذا عملی توحید یہ ہےکہ عبادت خالص اللہ ہی کی ہو۔ پس جو کوئ اس بات کی امید رکھتا ہو کہ اپنے رب سے ملاقات ہوگی! تو اسے ضرور چاہیے کہ نیک اعمال کرتا رہے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی بھی حیثیت سے دوسروں کو شریک نہ کرے۔
سورۂ کہف کے فضائل بھی کثرت سے وارد ہوئے ہیں، کچھ روایات درج ذیل پیش کیے جاتے ہیں۔
حضرت ابوسعد خدری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جس شخص نے سورہ کہف اس کی نازل شدہ ترتیب اور تجوید کے ساتھ پڑھی اس کے لیے قیامت کے دن اس کے مقام سے مکہ کی مسافت کے بقدر نور ہوگا اور جس شخص نے سورہ کہف کی آخری دس آیتیں پڑھیں دجال کا اس شخص پر بس نہ چلے گا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تورات میں سورہ کہف کا نام حائلہ (حائل ہوجانے والی ہے) یہ سورہ اپنی تلاوت کرنے والے اور جہنم کے درمیان حائل ہوجاتی ہے‘‘۔ (فضائل قرآن از مولانا افتخار احمد قادری)
سورہ کہف کی جو فضیلت آئی ہے اس کی تلاوت کے ساتھ اس کے مضامین پر بھی توجہ دی جانی چاہیے کہ اللہ تعالی ہم سے کیا مطالبہ فرمارہا ہے، یہ بات احسن رہے گی کہ جہاں بھی درس قرآن ودرس حدیث کی نشستیں ہوا کرتی ہیں اس میں شریک ہو کر اپنی مادری زبان میں فرمان باری تعالی٫ ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے کی کوشیش بھی کی جاے تاکہ ہم اپنا تعلق قرآن و حدیث سے مضبوط کرسکیں
ہند و پاک میں ہمارے مفسرین کرام نے اپنی زندگی کے قیمتی اوقات لگا کر اسکے تراجم و ترجمانی، تفاسیر وتفہیم لکھدیے ہیں تاکہ لوگ قرآن مجید اور اسلامی تعلیمات سے اپنا تعلق بناے رکھیں جو دنیا وآخرت کی کام یابی کا اصل ذریعہ ہے۔
محمد عبدالحفیظ اسلامی
سورہ کہف ایک مختصر تعارف