سیمانچل میڈیا ٹرائل اور الیکشن کمیشن
سیمانچل میڈیا ٹرائل اور الیکشن کمیشن
تحریر محمد زاہد علی مرکزی
چیئرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
بہار میں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں، ہر طرف گہما گہمی کا ماحول ہے ایسے میں الیکشن کمیشن کے نئے فرمان نے اپوزیشن پارٹیوں کی نیند اڑا رکھی ہے، بی جے پی چین کی بنسی بجا رہی ہے وہیں تیجسوی، راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈران الیکشن کمیشن کے فیصلوں سے حیران و پریشان نظر آرہے ہیں
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے NRC والے مقصد کو پورا کرنے میں اہم رول ادا کر رہا ہے یہ این آر سی کا بیک ڈور ٹرائل ہے، جس کی شروعات بہار سے ہو رہی ہے لیکن یہ صرف بہار تک نہیں رکے گی ۔
بہار اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (SIR) کے خلاف جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایک سماعت ہوئی۔ اس دوران درخواست گزاروں اور الیکشن کمیشن کو سننے کے بعد عدالت نے ایس آئی آر پر روک لگانے سے انکار کردیا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے کمیشن کو بتایا کہ دستاویزات کی فہرست حتمی نہیں ہے۔ عدالت نے کمیشن سے آدھار، ووٹر کارڈ اور راشن کارڈ کو بطور ثبوت شامل کرنے کو کہا، جس کی الیکشن کمیشن نے مخالفت کی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم آپ کو نہیں روک رہے۔
ہم آپ سے قانون کے تحت کام کرنے کو کہہ رہے ہیں، عدالت اب اس معاملے کی سماعت 28 جولائی کو کرے گی۔
سیمانچل کے میڈیا ٹرائل کا مقصد کیا ہے؟
اس وقت نیشنل میڈیا میں بہار کے سیمانچل علاقے کا خوب ٹرائل ہو رہا ہے، مشہور نیوز چینل” آج تک” پر انجنا اوم کشیپ نے پورا شو ہی سیمانچل پر کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ فروری 2025 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹ کے بعد آخر ووٹر ویری فکیشن کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟
سیمانچل میں چار ضلع آتے ہیں کشن گنج، اَرَریا، پورنیہ، کٹیہار ان چاروں ضلعوں میں مسلم آبادی اکثریت میں ہے، ان چار ضلعوں میں ودھان سبھا کی 24 نشستیں ہیں یعنی اتنی نشستیں ہیں کہ یہاں کے ووٹر کسی بھی سیاسی پارٹی کا گڑِت گڑبڑا کر رکھ سکتے ہیں ، اب ذرا آبادی کا تناسب دیکھ لیں پھر میڈیا ٹرائل کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں ۔
سیمانچل اور بہار کی مسلم آبادی
کاسٹ سروے 2023 (ذات پات مردم شماری) کے مطابق بہار میں کل مسلم آبادی 17.7 فیصد ہے، لیکن سیمانچل کے چار اضلاع میں یہ آبادی زیادہ ہے
کشن گنج 68 فیصد
کٹیہار 44 فیصد
ارریہ 43 فیصد
پورنیہ 38 فیصد
بہار کی 20 فیصد آبادی والی مسلم نشستیں ہیں 87، اور پندرہ سے بیس فیصد والی نشستوں کی تعداد ہے 47، کل ملا کر 134 نشستوں میں مسلم ووٹر نہایت اہمیت کے حامل ہیں جب کہ سیمانچل کی 24 نشستوں پر مسلمان اکیلے ہی الیکشن جتانے یا ہرانے کی حیثیت رکھتے ہیں
یہیں سے شروع ہوتا ہے میڈیا ٹرائل، نیوز چینلز کا کہنا ہے کہ کشن گنج، ارریہ، کٹیہار، پورنیہ میں علی الترتيب آدھار کارڈ آبادی سے زیادہ پائے جارہے ہیں اس لیے ہر ہر ووٹر کی پہچان کرنا ضروری ہے، چینلنز کا ماننا ہے کہ کشن گنج 100 میں 126،پورنیہ میں 100 میں 121، ارریہ میں 100 میں 123،کٹیہار میں 100 میں 123 لوگوں کو آدھار کارڈ اشو ہوے ہیں یعنی آبادی سے زیادہ، آبادی سے زیادہ کا سیدھا مطلب ہے کہ ان علاقوں میں بنگلا دیشی گھس پیٹھ ہوئی ہے ۔
میڈیا ٹرائل کا پوسٹ مارٹم
آدھار کارڈ کی ویب سائٹ UIDAI پر مذکورہ بالا ضلعوں کے نقشے دکھا کر میڈیا ودھوا ولاپ کر رہا ہے اور جان بوجھ کر لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے کہ آبادی سے زیادہ آدھار کارڈ ایشو ہوے ہیں جب کہ یہی حالت گجرات أور اترا کھنڈ کے کئی علاقوں کی بھی ہے، ہم نے گجرات کا ذکر اس لیے کیا ہے کیوں کہ وہاں تو دہائیوں سے بی جے پی ہی حکومت میں رہی ہے
نیز ہندو آبادی بھی کثیر تعداد میں ہے، مسلمان برائے نام ہی ہیں باوجود اس کے آدھار کی ویب سائٹ پر گجرات کے مختلف علاقوں میں آدھار کارڈ آبادی سے زیادہ جاری کیے گئے ہیں لیکن اس پر کوئی ہنگامہ نہیں ہو رہا، پہلے گجرات کا ڈیٹا دیکھ لیں..
گجرات :ڈانگ آبادی 100 آدھار کارڈ 138، پاٹن میں 100 میں 122 آدھار کارڈ، وناس کاٹھا 100 میں 118، گاندھی نگر 100 میں 118، 100 میں 118،داہود 100 میں 117، آدھار کارڈ جاری ہوے ہیں، اس کے علاوہ گجرات ہی کے مہساڑا، پوربندر، ولساڑ، احمد آباد، موربی، نرمدا کا حال بھی یہی ہے گجرات میں مجموعی طور پر آبادی کے لحاظ سے 11 فیصد زیادہ آدھار کارڈ بنے ہیں، یہاں تو بنگلہ دیشی گھس پیٹھ نہیں ہوئی مگر پھر بھی یہ حال ہے ۔
اترا کھنڈ میں بھی آدھار کارڈ آبادی سے زیادہ ہیں
اودھم سنگھ نگر 100 میں 125، دہرا دون 100 میں 124،باگیشور 100 میں 123،نینی تال 100 میں 121، رودر پریاگ 100 میں 120، چمپاوت 100 میں 120، اس کے علاوہ ہری دوار، ٹہری گڑھوال، پتھورا گڑھ، پَوڑی گڑھوال، الموڑا، چمولی وغیرہ میں بھی ہندو آبادی ہی ہے لیکن اترا کھنڈ کے 12 اضلاع میں آبادی سے 15 فیصد زائد آدھار کارڈ جاری کیے گئے ہیں –
دماغ چکرا گیا کیا؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آدھار کارڈ تو بڑی چھان بین اور اسکیٹنگ پروسس سے ہوکر بنتا ہے پھر اس قدر ہیرا پھیری کیسے ممکن ہے؟ در اصل معاملہ یہ ہے کہ میڈیا کو کسی بھی طرح ملک کی اکثریت کو یہ دکھانا ہے کہ دیکھو ان کی آبادی کس قدر بڑھ رہی ہے اور جو بڑھی ہے یقیناً وہ بنگلہ دیشی روینگیا گھس پیٹھ کا نتیجہ ہے
لہٰذا یہ لوگ الیکشن میں اثر انداز ہو سکتے ہیں اس لیے ووٹر ویری فکیشن ضروری ہے، لیکن بات صرف اتنی سی ہے کہ میڈیا آبادی کے جو اعداد و شمار دکھا رہا ہے وہ 2011 کی مردم شماری کے ہیں جب کہ آدھار کارڈ ڈیٹا فروری 2025 کا ہے، جب مردم شماری ہوئی نہیں ہے تو آبادی کا شمار ممکن نہیں
لیکن آدھار کارڈ برابر اشو ہو رہے ہیں اس لیے آبادی اور آدھار کارڈ میں یہ فرق دیکھنے کو مل رہا ہے، بات بڑی آسان ہے مگر الیکشن میں اثر کیسے ہوگا اگر ہندو مسلم نہ کیا جائے اور اصل بات بتا دی جائے ۔
الیکشن کمیشن کا رویہ کتنا درست؟
بہار میں کل ووٹر سات کروڑ پچانوے لاکھ ہیں اور اس قدر تعداد کے ویری فکیشن کے لیے صرف 20 دن کا وقت دینا کیا درست ہے؟ اکثر کاغذات بنوانے میں پندرہ دنوں سے لے کر ایک ماہ لگ جاتا ہے
پھر جو دستاویز مانگے جارہے ہیں وہ تو کسی کے پاس نہ ملیں گے، جیسا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہا کہ آپ جو کاغذات مانگ رہے ہیں وہ تو ہمارے پاس بھی نہیں ہیں، باوجود اس کے الیکشن کمیشن اپنی بات پر اڑا ہوا ہے ۔
11 سرٹیفکیٹ میں سے کوئی ایک پہچان کے طور پر دینا ہو گا، لیکن پریشانی یہ ہے کہ لوگوں کے پاس جو پہچان کے کاغذات ہیں انھیں الیکشن کمیشن قبول نہیں کر رہا جیسے، آدھار کارڈ، راشن کارڈ ،ووٹر کارڈ وغیرہ وغیرہ ۔ الیکشن کمیشن وہ کاغذات مانگ رہا ہے جو لوگوں کے پاس نہیں ہیں جیسے 2003 کے الیکشن کی ووٹر لسٹ میں نام، ہائی اسکول کی مارک شیٹ، پریوار رجسٹر کی کاپی، برتھ سرٹیفکیٹ، پاس پورٹ، مرکزی حکومت/ریاستی حکومت/پی ایس یو کے باقاعدہ ملازم/پنشنر کو ایک شناختی کارڈ/پنشن ادائیگی کا آرڈر جاری ہونا چاہیے، زمین کے کاغذات جو حکومت نے دی ہو، ذات کا سرٹیفکیٹ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ۔
لوگوں کی پریشانی یہ ہے کہ یہ سارے کاغذات 26 جولائی سے پہلے BLO کو دینا ہے اور فارم بھرنا ہے ورنہ ووٹ نہیں ڈال سکیں گے ۔ ہائی اسکول کی مارک شیٹ، 2023 بہار کاسٹ سروے (ذات پات مردم شماری ) میں 85 فیصد لوگوں کے پاس مارک شیٹ نہیں ہے
سب سے زیادہ پریشان وہ لوگ ہیں جن کے نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں نہیں تھے۔ بہار میں ایسے لوگوں کی تعداد 2.93 کروڑ ہے۔
سرکاری ملازمین بہار کاسٹ سروے 2022 کے مطابق صرف 20.49 لاکھ لوگ سرکاری ملازمت میں ہیں یعنی کل آبادی کا صرف 1.57 فیصد۔ یوں ہی پاسپورٹ جو قریب 7 لاکھ 44 ہزار لوگوں کے پاس ہے، پریوار رجسٹر بھی کم ہی لوگوں کے پاس ہے ۔ایسے میں لوگوں کا پریشان ہونا لازمی ہے کیوں کہ ان کی شہریت خطرے میں ہے ۔
شناختی کارڈ یا دیگر سرٹیفکیٹ
01.07.1987 سے پہلے ہندوستان میں حکومت/مقامی اتھارٹی/بینک/پوسٹ آفس/LIC/PSU کی طرف سے جاری کردہ کوئی بھی شناختی کارڈ/سرٹیفکیٹ/دستاویز – اس میں مقامی ادارے میں ملازمت کا ثبوت بھی شامل ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے اور اتنے پرانے کاغذات شاید ہی کوئی کسی کے پاس ہوں ۔
قریب 8 کروڑ ووٹروں میں صرف 2.8 فیصد لوگوں کے پاس ہی جنم پرمان پتر یعنی Birth Cirtfcate ہے..
1987 سے پہلے والوں میں والدین میں سے کسی ایک کا پہچان پتر، 1987 کے بعد والوں جیسے 2003، یا اس کے بعد والوں میں دونوں کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ ہونا، یہ بہت مشکل ہے، پھر صرف بیس دنوں میں قریب 8 کروڑ لوگوں کے کاغذات بننا ممکن ہی نہیں۔
الیکشن کمیشن کا یو ٹرن
ووٹر ویری فکیشن معاملہ میں سپریم کورٹ تک بات پہنچنے اور ہر طرف سے ہلہ بولے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ آپ صرف فارم بھر دیں بس، باقی ہم دیکھ لیں گے، اجیت انجم کی رپورٹ کے مطابق اب جو بی ایل او فارم بھر رہا ہے اس میں کسی قسم کی کی جان کاری نہیں ہے، بس فارم کے ساتھ نام بھر کر جمع ہو رہے ہیں
اگر فائنل ووٹر لسٹ سے کاغذات نہ ہونے کی بنا پر نام کٹ گئے تو کیا ہوگا؟ بہار کی آدھی سے زیادہ آبادی ووٹ ڈالنے سے ہی محروم ہو جائے گی ۔ نیز الیکشن کمیشن اب کسی کے انڈین ہونے نا ہونے کا فیصلہ کرے گا حالاں کہ اسے یہ اختیار نہیں –
خلاصہ یہ ہے کہ بہار الیکشن مرکزی حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ ہے اگر یہ پاس ہوتا ہے تو اگلے سبھی الیکشن اسی طرز پر ہوں گے اور غیر معلنہ NRC بھی ہو جائے گی، اگر فائنل ووٹر لسٹ سے کثیر تعداد میں نام کٹتے ہیں تو سیاسی پارٹیوں کو الیکشن کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ورنہ ان کی داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں ۔
سوال یہ ہے ہَوا آئی کس اشارے پر
چراغ کس کے بجھے یہ سوال تھوڑی ہے
(نادم ندیم)