معرکۂ کربلا کا پیغام امتِ مسلمہ کے نام

Spread the love

معرکۂ کربلا کا پیغام امتِ مسلمہ کے نام

از: محمد برکت علی احسنی انواری
خادم: دارالعلوم انوار مصطفیٰ درگاہ حضرت پیر سید حاجی عالی شاہ بخاری،پچھمائی نگر،سہلاؤشریف، پوسٹ:گرڈیا،ضلع:باڑمیر(راجستھان)

حق و باطل کی جنگ کوئی نئی بات نہیں، یہ ازل سے جاری ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد سے ہی سچائی اور جھوٹ کے درمیان معرکے رونما ہوتے رہے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہر دور میں باطل نے حق کو مٹانے کی ناپاک کوشش کی، لیکن خداوندِ قدوس نے اپنے سچے بندوں کو فتح و نصرت عطا فرمائی۔

بدر ہو یا احد، خندق ہو یا موتہ، ان ہی معرکوں کی ایک روشن مثال کربلا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دینِ اسلام کی حفاظت اور باطل کے خلاف اعلانِ بغاوت کرتے ہوئے اپنی جان، اہل و عیال اور تمام وابستگان کو قربان کر دیا۔

یزید پلید نہ صرف فاسق و فاجر حکمران تھا بلکہ اس نے اسلامی اقدار کو مٹانے، شریعتِ مصطفوی ﷺ کا مذاق اڑانے اور حرمین شریفین کی حرمت کو پامال کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ ایسے پُرفتن ماحول میں امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا قیام ہی حق کا قیام تھا، انکار ہی بقا کا اعلان تھا۔

کربلا کے پیغامات

(1) نماز کی اہمیت:
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معرکۂ کربلا کے دوران نیزوں اور تیغوں کے سائے میں بھی نماز ادا کر کے یہ پیغام دیا کہ نماز کسی حال میں معاف نہیں، چاہے امن ہو یا جنگ۔

(2) حق کے ساتھ وفاداری:
کربلا کا پیغام ہے کہ ہمیشہ اہلِ حق کے ساتھ کھڑے رہو، کیوں کہ دنیا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کرتی ہے، ان کے نام پر بچوں کا نام رکھتی ہے، مگر کوئی یزید کے نام کا نام لیوا نہیں۔

(3) شکست میں بھی فتح:
کربلا سکھاتا ہے کہ بظاہر شکست کھانے والا حق پر ہو تو وہی اصل فاتح ہوتا ہے۔ امام عالی مقام حضرت امام حسین شہید ہوکر بھی کام یاب و سرخرو ٹھہرے، اور یزید حکومت پا کر بھی لعنت کا مستحق بن گیا۔

یہی وہ عظیم نکتہ ہے جسے حضور رفیق ملت، سجادہ نشین خانقاہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ شریف، حضرت سید شاہ نجیب حیدر نوری مدظلہ العالی نے نہایت خوب صورتی سے اپنے خطابات کے اختتام پر ہمیشہ بیان فرمایا:
❞میری پوری تقریر کا خلاصہ یہی ہے کہ…
یزید تھا… حسین ہیں! ❞

یہ جملہ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک پیغام ہے، جو رہتی دنیا تک باطل کے ہر نمائندے کے لیے چیلنج اور حق کے ہر پیروکار کے لیے عزم و حوصلے کی بنیاد ہے۔

(4) وعدہ وفا کرو:
وعدہ خلافی ذلت اور بدنامی کا باعث ہے، جب کہ امام حسین اور ان کے اصحاب نے ہر وعدہ پورا کیا اور وفاداری کی لا زوال مثالیں قائم کیں۔

(5) دین پر قربانی کا جذبہ:
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں سکھایا کہ اگر دین بچانے کے لیے جان دینی پڑے تو پیچھے نہ ہٹنا۔ یہی سچی وفاداری ہے، یہی قربانی کا فلسفہ ہے۔

(6) مصیبتوں میں استقامت:
کربلا یہ درس دیتا ہے کہ چاہے کیسا ہی کٹھن وقت کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے احکام سے غفلت نہ برتو، صبر، شکر، رضا اور توکل کا دامن تھامے رکھو۔

(7) قرآن سے تعلق:
امام عالی مقام کا نیزے کی نوک پر قرآن کی تلاوت کرنا ہمیں پیغام دیتا ہے کہ قرآن کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنالو، اسی میں دنیا و آخرت کی فلاح وبہبود ہے۔
ان‌ مذکورہ پیغامات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ کربلا فقط تاریخ نہیں، یہ حیاتِ نو کا پیغام ہے، یہ حق کے لیے قربانی کی روشنی ہے۔

آج امتِ مسلمہ اگر چاہتی ہے کہ اس کی عزت بحال ہو، تو اسے حسینی کردار اختیار کرنا ہوگا۔ باطل چاہے کتنا ہی طاقتور ہو، اہلِ حق اگر ایمان، استقامت اور صداقت کے ساتھ کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔

یاد رکھو
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانی نے اسلام کو وہ دوام بخشا ہے جو قیامت تک باقی رہے گا!
یزید جیسے ہزاروں آتے رہیں گے اور مٹتے رہیں گے… مگر حسین ہر دور کا رہبر ہے!

❞یزید صرف تخت پر بیٹھنے والا تھا… حسین تو دلوں پر حکومت کرتے ہیں! ❞
❝ یزید تاریخ بن چکا… حسین چراغِ راہ ہیں! ❞

آخر میں پاک پروردگار کی بارگاہ میں دعا کہ یا اللہ۔۔۔۔
ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جاں نثار رفقاء کی سیرت سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
ہمیں حق پر ڈٹے رہنے، دین کی حفاظت کرنے، اور باطل کے خلاف کلمۂ صداقت بلند کرنے کا حوصلہ عطا فرما۔
ہمیں نماز، قرآن، صبر، وفا، اور قربانی جیسے حسین اوصاف سے مزین فرما۔
امتِ مسلمہ کو اتحاد، اخوت، اور ایمانی غیرت نصیب فرما
اور ہمیں ہمیشہ حسینی فکر و کردار کا حامل بنا، آمین یا رب العالمین!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *