شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ
شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ : تاریخِ اسلام کا درخشاں باب
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالا
جس کی قوت دین اسلام کی طاقت ٹھہری
وہ علی جس کی رضا حق کی مشیت ٹھہری
کہہ دے کوئی گھیرا ہے بلاؤں نے حسن کو
اے شیر خدا بہر مدد تیغ بکف جا
یہ خاکدانِ گیتی آمد و رفت کی ایک مسلسل داستان ہے، جہاں روزانہ بے شمار انسان جنم لیتے ہیں، اپنی زندگی کی مقررہ مدت پوری کرتے ہیں اور پھر داعیِ اجل کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے اس دارِ فانی کو الوداع کہہ جاتے ہیں۔ مگر وقت کا یہ بے رحم بہاؤ سب کو یکساں طور پر یاد نہیں رکھتا۔ جو لوگ اس عالمِ رنگ و بو میں کسی بھی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہیں، تاریخ کے اوراق انہیں مدتِ دراز تک محفوظ کر لیتے ہیں
جب کہ وہ زندگیاں جو مقصد اور اثر سے خالی ہوں، رفتہ رفتہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ کچھ انسانوں نے دنیاوی نظم، معاشرتی بہتری اور انسانی سہولتوں کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا، اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو دین کی خدمت، سنت کے استحکام اور اسلام کی اشاعت کے لیے وقف کر دیا۔
یہ وہ نفوس تھے جن کے نزدیک دنیا محض قیام گاہ تھی اور اصل توجہ حیاتِ اخروی کی تعمیر پر مرکوز رہی۔ اسی نسبت سے وہ دین کے علم بردار بنے اور اپنے بعد فکری و اخلاقی وراثت چھوڑ گئے۔
اسی انسانی ہجوم میں اکثر افراد ایسے گزرے جن میں کوئی نمایاں امتیاز نہ تھا، اور کچھ وہ تھے جنہیں چند صفات کا حصہ ملا؛ مگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذاتِ اقدس ایک ایسی جامع شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہے جس میں کمالات کا تنوع بھی ہے اور ہر وصف میں امتیازی شان بھی۔ آپ شیرِ خدا بھی ہیں اور رسولِ اکرم ﷺ کے داماد بھی؛ حیدرِ کرار بھی اور ذوالفقار کے مالک بھی۔
آپ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رفیقِ حیات اور حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے شفیق والد ہیں۔ آپ کی زندگی سخاوت اور شجاعت، عبادت اور بصیرت، علم اور حلم کا حسین امتزاج ہے۔
آپ فاتحِ خیبر بھی ہیں اور فکر و بیان کے میدان میں بھی بے مثال۔ یوں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں جو محض ایک تاریخی کردار نہیں بلکہ اقدار اور کمالات کا زندہ استعارہ ہیں۔ اسی لیے دنیا انہیں مظہرُ العجائب والغرائب کے نام سے یاد کرتی ہے، اور یہ یاد قیامت تک تازہ و تابندہ رہے گی۔
نام و نسب
آپ رضی اللہ عنہ کا نام ’’علی بن ابی طالب‘‘ اور کنیت ابوالحسن وابو تراب‘‘ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ سرکار اقدسﷺکے چچا ابو طالب کے صاحبزادے ہیں یعنی حضورر ﷺکے چچازادبھائی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد بن باشم ہے اور یہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔۔
آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ علی بن انی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ۔آپ رضی اللہ عنہ واقعہ فیل کے 30سال بعد پیدا ہوئے۔(سیرتِ خلفاء راشدین ،ص:251)۔
شجرئہ نسب پدری : حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کریم کا شجرئہ نسب پدری کچھ اس طرح ہے : ’’ علی المرتضی کرم رضی اللہ عنہ بن ابو طالب بن عبد ا لمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصیٰ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی۔‘‘ (طبقات ابن سعد ،ج: سوم ،ص:150)۔
شجرئہ نسب مادری : حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کریم کا شجرئہ نسب پدری کچھ اس طرح ہے :’’ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف بن قصیٰ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی۔‘‘ ((طبقات ابن سعد ،ج: سوم ،ص:150)۔
حلیہ مبارکہ
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا قد میانہ، رنگ گندمی، آنکھیں بڑی، سینہ چوڑا اور جسم پر بال بکثرت تھے۔ آپ ہی ان کے بازو اور پنڈلیوں پر گوشت زیادہ تھا اور جسم مبارک قدرے فربہ تھا۔ آپ بھی بیوی کے کندھے چوڑے اور مضبوط تھے اور سر مبارک کے بال قدرے کم تھے۔ آپ پیسے کی ریش مبارک گھنی تھی اور جو کوئی آپ ٹایا ہے کے سراپا کو دیکھتا تھا وہ اس میں کھو جاتا تھا۔ حضرت علی المرتضی یا سادہ لباس زیب تن فرماتے تھے اور آپ نبی کا لباس دو چادروں سے زیادہ نہ ہوتا تھا۔ آپ میلی مولوی سر پر ہمیشہ عمامہ باندھتے تھے۔ (تاریخ طبری جلد سوم ،ص: 360)۔
سرکارﷺ کی پرورش میں
اور اعلانِ نبوت سے پہلے ہی مولائے کل سید الرسل جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی پرورش میں آئے کہ جب قریش قحط میں مبتلا ہوئے تھے تو حضور ﷺنے ابو طالب پر عیال کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو لے لیا تھا۔ اس طرح حضو ر ﷺ کے سائے میں آپ رضی اللہ عنہ نے پرورش پائی اور انہیں کی گود میں ہوش سنبھالا، آنکھ کھلتے ہی حضور ﷺم کا جمالِ جہاں آراء دیکھا۔
آپﷺم ہی کی باتیں سنیں اور آپﷺ ہی کی عادتیں سیکھیں۔ اس لیے بنوں کی نجاست سے آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کا دامن کبھی آلودہ نہ ہو یعنی آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے کبھی بت پرستی نہ کی اور اسی لیے’’ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ‘‘آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب ہوا۔
آپ کی ہجرت
سرکار اقدسﷺنے جب خدائے تعالی کے کے مطابق مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کی ہجرت کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو بلا کر فرمایا کہ مجھے خدائے تعالی کی طرف سے ہجرت کا حکم ہو چکا ہے لہذا میں آج مدینہ روانہ ہو جاؤں گا۔ تم میرے بستر پر میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر سور ہو۔ تمہیں کوئی تکلیف نہ ہو گی قریش کی ساری امانتیں جو میرے پاس کو رکھی ہوئی ہیں ان کے مالکوں کو دے کر تم بھی مدینے چلے آنا۔ یہ موقع بڑا ہی خوفناک اور نہایت خطرہ کا تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو معلوم تھا کہ کفار قریش سونے کی حالت میں حضور ﷺکے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں اسی لیے خدائے تعالیٰ نے آپﷺ کو اپنے بستر پر سونے سے منع فرما دیا ہے۔
آج حضور ﷺ کا بستر قتل گاہ ہے لیکن اللہ کے محبوب دانائے خفایا و غیوب جناب احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺکے اس فرمان سے کہ ’’ تمہیں کوئی تکلیف نہ ہو گی قریش کی امانتیں دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔
‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو پورا یقین تھا کہ دشمن مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے میں زندہ رہوں گا اور مدینہ ضرور پہنچوں گا لہذا سر کا ر اقدس صﷺم کا بستر جو آج بظاہر کانٹوں کا بچھونا تھا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے لیے پھولوں کی سیج بن گیا اس لیے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے نکل سکتا ہے مگر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فرمان کے خلاف نہیں ہو سکتا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ میں رات بھر آرام سے ہے سویا صبح اُٹھ کر لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو سونپنا شروع کیں اور کسی سے نہیں چھپا۔ اسی طرح مکہ میں تین دن رہا پھر امانتوں کے ادا کرنے کے بعد میں بھی کی مدینہ کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں بھی کسی نے مجھ سے کوئی تعرض نہ کیا یہاں تک کہ میں قبا میں پہنچا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت کلثوم رضی اللہ عنہا کے مکان میں تشریف فرماتھے میں بھی وہی ٹھہر گیا۔ (اسد الغابۃ، علی بن ابی طالب، 104/4)۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور کشف و کرامات
حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم صاحب کشف و کرامت تھے اور آپﷺ کی حیات طیبہ میں اور بعد وصال بھی کئی کرامتوں کا ظہور ہوا۔ ذیل میں آپ رضی اللہ عنہ کی چند کرامات اختصار کے ساتھ بیان کی جارہی ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں : حضرت علی کو حضرت ابوبکر سے افضل کہنا
بوسیدہ دیوار : حضرت امام جعفر صادق علی اللہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی المرتضی یا بیوی ایک خستہ حال دیوار کے سائے میں بیٹھے کسی مقدمہ کا فیصلہ ناز ہے تھے۔ مقدمہ کے دوران لوگوں نے شور مچایا کہ امیر المومنین! یہ دیوار خستہ حال ہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں یہ گر نہ جائے؟ حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اطمینان سے فرمایا کہ مقدمہ کی کاروائی جاری رکھو اللہ عزوجل بہترین حفاظت فرمانے والا ہے۔ پھر آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے انتہائی اطمینان کے ساتھ مقدمہ سنا اور اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے بعد وہاں سے چل دیئے۔ جیسے ہی آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اس دیوار کے سایہ سے اٹھ کر روانہ ہوئے وہ خستہ حال دیوار گر گئی۔ (تاریخ الخلفاء، ص:258)۔
سیلاب میں کمی : حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانہ خلافت میں ایک مرتبہ نہر فرات میں شدید طغیانی کے باعث سیلاب آگیا جس سے تمام لوگ متاثر ہوئے اور فصلیں برباد ہو گئیں۔ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور داد رسی کی درخواست کی۔ آپ اس وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور حضور نبی کریم ﷺ کا جبہ مبارک و عمامہ شریف اور چادر پاک زیب تن فرمائی پھر گھوڑے پر سوار ہوئے اور ایک جماعت آ پ کے ساتھ روانہ ہوئی جس میں حضرت سیدنا امام حسن اور حضرت سیدنا امام حسین مبنی یہ بھی تھے۔
حضرت علی المرتضی علی کرم اللہ وجہہ الکریم نہر فرات کے پل پر پہنچے اور اپنے عصا سے نہر فرات کی جانب اشارہ کیا تو نہر کا پانی فوری طور پر کم ہو گیا۔ آپ بھی یونین نے دوسری مرتبہ اشارہ فرمایا تو مزید پانی کم ہو گیا۔ پھر جب آپ کی اللہ نے تیسری مرتبہ اشارہ فرمایا تو سارا پانی اتر گیا اور سیلاب ختم ہوگیا یہ دیکھ کر لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا امیر المومنین! بس کیجئے اس قدر ٹھیک ہے۔ (شواہد النبوۃ صفر 282,283) ۔
ایک ساعت میں قرآن ختم کرنا: حضرت علی المرتضی مالی ان کو اللہ عزوجل نے یہ قوت عطا فرمائی تھی کہ آپ الا یہ گھوڑے پر سواری کے وقت ایک رکاب میں پاؤں ڈالتے تو قرآن مجید شروع کرتے اور دوسرے رکاب میں پاؤں ڈالنے تک آپ کی یہ قرآن مجید ختم کر لیا کرتے تھے۔ (شواہد النبوۃ،ص: 280) ۔
مدفن امام حسین رضی اللہ عنہ سے آگا ہی
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے کہ ہمارا گزر اس جگہ سے ہوا جہاں آج امام حسین بھی کنید کی قبر مبارک ہے۔ آپ بھی اللہ نے فرمایا اس جگہ آنے والے دور میں آل رسول سے یم کا ایک قافلہ قیام کرے گا اور اس جگہ ان کے اونٹ بندھے ہوئے ہوں گے اور اسی میدان میں جوانان اہل بیت می بینیم کی شہادت ہوگی اور یہ جگہ شہیدوں کا مدفن بنے گی اور زمین و آسمان ان لوگوں پر روئیں گے۔ (شواہد اہر و صفر،ص: 386)۔
بینائی جاتی رہی
حضرت علی المرتضی علی ان کی خدمت میں ایک شخص آپ بڑی طیبہ کے مخالفین کا جاسوس بن کر رہتا تھا اور آپ کی ان کی خفیہ باتوں کی اطلاعات آپ کی الیون کے مخالفین کو پہنچا تا رہتا تھا۔ ایک دن آپ طی نرینہ نے اس سے اس بارے دریافت کیا تو اس نے قسمیں کھانا شروع کردیں اور اپنی بے گناہی کا یقین دلانا شروع کر دیا۔ حضرت علی المرتضی علی نے اس کی دیدہ دلیری دیکھ کر جلال میں آگئے اور فرمایا اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ عزوجل تیری آنکھوں کی بینائی چھین لے۔ چند دن ہی گزرے تھے کہ اس شخص کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی اور وہ نابینا ہو گیا اور لوگ اسے لاٹھی پکڑا کر چلاتے تھے۔ (شواہد النبوۃ صفر 229)۔
فضیلت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم بروئے احادیث
حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث مروی ہیں اور حضور نبی کریم ﷺ نے کئی مواقع پر آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان فرمائے۔ ذیل میں چند احادیث بطور نمونہ پیش کی جارہی ہیں۔
مومن بغض نہیں رکھتا: ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ منافق علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں رکھتا اور مومن علی رضی اللہ عنہ سے بغض نہیں رکھتا۔ (سنن الترمذی )۔
علی رضی اللہ عنہ سے محبت، اللہ سے محبت ہے: حضور نبی کریم ﷺنے ایک موقع پر فرمایا جس نے علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی رضی اللہ عنہ سے دشمنی مول لی اس نے مجھ سے دشمنی مول لی اور جس نے مجھ سے دشمنی مول لی اس نے اللہ سے دشمنی مول لی۔ (تاریخ التلفاء ،ص:935)۔
شہر علم کا دروازہ: حضور نبی کریم ﷺنے ایک موقع پر فرمایا کہ جس نے علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا بلاشبہ اس نے مجھے برا کہا اور میں علم کا شہر ہوں اور علی رضی اللہ عنہ شہر علم کا دروازہ ہے۔ (مستدرک الحاکم جلد چہارم کتاب مرقۃ اصحابہ انا مہ یہ العلم حدیث3994)۔
میں اورعلی ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ تمام لوگ مختلف درختوں کی شاخیں ہیں جبکہ میں اور علی ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں۔ (تاریخ اطلاعاء ،صفحہ:832)۔
علی رضی اللہ عنہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ (تاریخ الطلعاء، صفحہ249)۔
تو میرا ہے میں تیرا ہوں: حضور نبی کریم سے ہم نے حضرت علی المرتضی علی علیہ کے متعلق فرمایا تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں۔ (صحیح بخاری جلد دوم کتاب المناقب باب مناقب علی یا حدیث 897)۔
مردوں میں سب سے زیادہ محبت
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے ۔ سوال کرنے والے نے پوچھا حضور نبی کریم ﷺمردوں میں کس سے زیادہ محبت رکھتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت علی المرتضی لی لی ہے۔ (جامع ترندی جلد دوم)۔
فضیلت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم بز زبانِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم : حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بے شمار اقوال ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرعی و فقہی مسائل میں آپ رضی اللہ عنہ سے برجوع کرتے تھے۔ ذیل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چند اقوال یہاں بطور نمونہ پیش کئے جا رہے ہیں۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ کا چہرہ علی ؓ کو تکتا: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں:’’ میرے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اکثر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو غور سے دیکھا کرتے تھے میں نے ایک مرتبہ وجہ پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے‘‘ ۔( ابن عساکر بحوالہ تاریخ دمشق، حدیث: 167)۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو تین بہترین فضیلتیں ایسی عطا کی گئیں جن میں سے ایک بھی اگر مجھے مل جاتی تو وہ میرے نزدیک دنیا سے زیادہ محبوب ہوتی‘‘ ۔ لوگوں نے پوچھا کہ وہ تین فضیلتیں کون سی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ پہلی فضیلت یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا کا نکاح ان سے کیا۔ دوسری فضیلت یہ ہے کہ ان دونوں کو مسجد میں رکھا اور جو کچھ انہیں وہاں حلال ہے مجھے حلال نہیں۔ تیسری فضیلت یہ کہ غزوہ خیبر کے دن انہیں علم عطا فرمایا‘‘۔ (البدایہ والنہایہ، صفحہ: 446)۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ ہم میں بہترین رائے رکھنے والے علی رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں بہترین قاری ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں ‘‘۔(مستدرک الحاکم جلد سوم حدیث:5328)۔
اس طرح سے علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کریم کی بے شمار فضیلتیں احادیث نبوی ﷺ اور اقوال صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم میں ملتی ہے بس ہمیںاس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اور اگر حقیقی معنوں میں کسی نے علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کریم کو جان لیا اوران کی زندگی کو اپنے لیے سرمایہ سمجھ کر اس عملِ پیرا ہوا تو اس کی دنیا بھی سنورجائیگی اور آخرت بھی
کیوں کہ رسول ِ اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے : ’’جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی رضٰ اللہ عنہ سے دشمنی مول لی اس نے مجھ سے دشمنی مول لی اور جس نے مجھ سے دشمنی مول لی اس نے اللہ سے دشمنی مول لی‘‘ ۔
اللہ رب ا لعزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان جیسا بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین