اولاد کے بگاڑ کے اسباب اور ان کا اصلاح

Spread the love

اولاد کے بگاڑ کے اسباب اور ان کا اصلاح اولاد کی کامیاب تربیت : والدین کی دنیا و آخرت کی فلاح کا ضامن
از: مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی
ناظم تعلیمات:دارالعلوم انوارِ مصطفی سہلاؤشریف،باڑمیر (راجستھان)


بلاشبہ اولاد اللہ رب العزت کی عطا کردہ عظیم نعمتوں میں سے ایک بیش قیمت نعمت ہے۔ قرآن مقدس میں ارشاد ہوتا ہے:”الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا” (الکہف: 46)”مال و اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں۔”اگر یہ نعمت صحیح خطوط پر تربیت پا جائے تو والدین کے لیے دنیا میں راحت اور آخرت میں صدقۂ جاریہ بن جاتی ہے، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے:”إِذَا مَاتَ الإِنسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلاثٍ: صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ، أَوْ عِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ”(صحیح مسلم، حدیث: 1631)
“جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔”لیکن اگر تربیت میں کوتاہی برتی جائے تو یہی اولاد قیامت کے دن وبال بن سکتی ہے۔ آج معاشرہ جس زوال، نوجوان نسل جس گمراہی، اور خاندان جس انتشار کا شکار ہیں، وہ سب اسی تربیتی غفلت کے نتیجے میں ہے۔اولاد کے بگاڑ کے چند اہم اسباب:1. دینی تعلیم و تربیت سے غفلت:بچوں کو دینی تعلیم سے محروم رکھنا سب سے بڑا ظلم ہے۔

قرآن، نماز، سیرت نبوی، ادبِ والدین، اور اخلاقی اقدار کی تعلیم اگر بچپن میں نہ دی جائے تو وہ بچہ دین سے دور ہو جاتا ہے۔جیسا کہ حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”الولد أمانة عند والديه، وقلبه الطاهر جوهرة نفيسة، فإن عُوِّد الخير وعُلِّمه نشأ عليه وسَعِد في الدنيا والآخرة، وإن عُوِّد الشر وأهمل شقي وهلك”(احیاء علوم الدین، ج 3، ص 67)

بچہ والدین کے پاس ایک امانت ہے، اس کا دل پاک اور قیمتی گوہر کی مانند ہوتا ہے، اگر اسے نیکی کی عادت اور تعلیم دی جائے تو کامیاب ہوتا ہے، اور اگر برائی کی عادت دی جائے اور غفلت برتی جائے تو تباہ ہو جاتا ہے

۔”2. بیجا لاڈپیار اور حد سے زیادہ نرمی:بے جا لاڈپیار بچوں میں ضد، غرور اور خودسری پیدا کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن سلوک کے ساتھ تربیت کی تلقین فرمائی، لیکن ہر غلطی پر خاموشی برتنا کبھی تعلیماتِ نبوی کا طریقہ نہ تھا

۔3. ہر خواہش کی تکمیل: محبت یا تباہی؟بچے کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنا درحقیقت اس کی تربیت کو برباد کرنا ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے:”لا تُربُّوا أولادكم كما رُبِّيتم، فإنهم خُلقوا لزمانٍ غير زمانكم”(نہج البلاغہ، حکمت 238)

اپنے بچوں کی تربیت اس طرح نہ کرو جیسے تمہاری تربیت کی گئی، کیوں کہ وہ ایک ایسے زمانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں جو تمہارے زمانے سے مختلف ہے

۔”4. دولت کی بے مہار فراہمی:بچوں کو بغیر محنت کے سب کچھ دینا، فضول خرچی، عیش پرستی اور غیراخلاقی عادات کی راہ ہموار کرتا ہے۔ پیسہ اگر بصیرت کے بغیر ہاتھوں میں آ جائے تو اکثر بگاڑ کا باعث بنتا ہے

۔5. ماحول، صحبت اور سوشل میڈیا کا منفی اثر:آج کی نسل موبائل، فلموں، گیمز، اور سوشل میڈیا کی دلدادہ ہے۔ برے دوست، فحش مواد اور ذہنی آلودگی بچے کی فطری پاکیزگی کو دیمک کی طرح کھا جاتے ہیں۔حضرت شیخ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”صحبتِ صالح تُرا صالح کند، صحبتِ طالح تُرا طالح کند”(گلستانِ سعدی، باب اول)

نیکوں کی صحبت تجھے نیک بناتی ہے، بدوں کی صحبت بد”6. والدین کا متضاد رویہ: سختی یا لاپروائی؟کچھ والدین اولاد کو حد سے زیادہ آزاد چھوڑ دیتے ہیں، اور کچھ ہر وقت سختی سے پیش آتے ہیں۔ جبکہ تربیت میں اعتدال، حکمت اور محبت ضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ”(سنن ترمذی، حدیث: 3895)”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہتر ہو

۔”7. مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید:اپنی اسلامی تہذیب، زبان، لباس، اور عبادات کو چھوڑ کر مغرب کی نقل، بگاڑ کی بنیاد ہے۔

افسوس! آج ہمارے بچے انگریزی بولنے کو فخر، اور اسلامی شعائر کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں

۔8. دعاؤں سے غفلت:اولاد کی ہدایت کے لیے دعا کرنا والدین کی اہم ترین ذمہ داری ہے، لیکن اکثر دنیاوی مصروفیت میں ہم اس سے غافل ہو جاتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہمیں یاد رکھنی چاہیے:”رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ” (الصافات: 100)”اے میرے رب! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔

اولاد کی اصلاح کے لیے رہنما اصول

. دینی تعلیم کو زندگی کا جز بنائیں:قرآن، نماز، سیرت نبوی، اخلاقیات، اور اسلامی عقائد کی تعلیم بچپن سے دیجیے۔بچوں کو علمائے کرام، صالحین، اور دینی اداروں سے وابستہ رکھیے۔2. محبت اور تربیت میں توازن رکھیں:بچوں کو محبت ضرور دیں، لیکن غلطیوں پر نرمی سے اصلاح بھی کریں۔ حد مقرر کریں تاکہ وہ حدود کو سمجھیں اور بڑوں کا ادب سیکھیں۔3. خواہشات کی تکمیل میں حکمت اختیار کریں:ہر خواہش کو پورا کرنا تربیت نہیں۔ بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ صبر، قناعت اور شکر سے جینا ہی اصل کامیابی ہے

۔4. مالی معاملے میں توازن:بچوں کو جیب خرچ دیجیے، مگر فضول خرچی پر روک لگائیے۔ انہیں محنت سے کمائی اور نعمت کی قدر سکھائیے۔5. ماحول پر مکمل نظر رکھیے:دوستوں، موبائل، انٹرنیٹ، اور سوشل میڈیا کے استعمال پر نگاہ رکھیے۔

لیکن نگرانی کے ساتھ محبت اور بھروسہ بھی ضروری ہے۔6. والدین عملی نمونہ بنیں:والدین کی زبان، کردار، عبادات، سچائی، اور صبر و شکر… یہی سب سے بڑی تربیت ہے۔ کیوں کہ بچہ جو دیکھتا ہے، وہی سیکھتا ہے۔7. دعاؤں کو معمول بنائیے:ہر نماز، سحری، افطار اور تنہائی میں اپنے بچوں کے لیے دعا کریں:”رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي” (ابراہیم: 40)

اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔”یاد رکھیے!اولاد کی تربیت مال سے نہیں، صرف محبت سے بھی نہیں، بلکہ بصیرت، حکمت، دعا، قربانی اور مستقل مزاجی سے ممکن ہے۔اگر ہم آج جاگ جائیں، تو آنے والی نسلیں سنور سکتی ہیں۔
ورنہ یہی اولاد کل ہمارے آنسوؤں کا سبب بنے گی۔”وقت رہتے سنوار لو ان کو، ورنہ وقت ان کو بگاڑ دے گا!”اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح اسلامی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے،انہیں نیک، متقی، باعمل مسلمان اور عاشقِ رسول بنائے،اور ہمارے حق میں صدقۂ جاریہ ثابت فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *