ایک معصوم سا بچہ
ایک معصوم سا بچہ
محمد فاروق حیدر علی
عصر حاضر کے پر آشوب دور میں جہاں چہار جانب مذہبیت کی سیاست نے ہندوستان کے اطراف و اکناف میں فرقہ پرستی ، آپسی اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب و تمدن کی دیوار کو پارا پارا کیا تو وہیں ہندوستان کی امن و شانتی کو تباہ و برباد کیا
لیکن آج بھی ہندوستانیوں کے دل میں بھائی چارگی کی لہر اور یکجہتی کی محبت برقرار ہے ۔
معصوم سا فرحان جس کی عمر غالباً تین سال تھی اور وہ اپنے نام سے حرف با حرف مشابہت رکھتا تھا کیوں کہ اس کے چہرے پر چاند سی چمک ، رخسار بالکل سرخ و گلاب ، ہنستا ہوا معصوم سا چہرہ اور محفلوں کی جان تھا
اور فرحان کی امی جو بذاتِ خود دیکھنے میں نیک سیرت ، کم بول ، حسن مزاج اور دینی تعلیم سے مزین تھیں وہ اپنے بھائی کے ساتھ ممبئی جارہی تھیں
اور وہ ٹرین کے جس دبے میں موجود تھیں وہاں چہار جانب غیر مسلم مرد و عورت ہی تھے پر معصوم فرحان اپنی کھیل کود، حساس و بشاش اور پر رونق چہرے سے لوگوں کا دل جیت لیا۔
ایک لڑکی جوں ہیں فرحان کی طرف ہاتھ بڑھائی وہ فوراً اس کی گود میں چلا گیا اور اس کے ساتھ کھیلنے لگا کبھی اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اور زور سے ہنسنے لگتا تو کبھی اس کے کندھے پر سر رکھ کر سو جاتا اور جوں ہیں اسے ہاتھ لگائی جاتی وہ اچھل گود کرنے لگتا۔
اسی طریقے سے فرحان وہاں موجود ہر شخص کی گود میں خوشی بخوشی چلا جاتا اور ان لوگوں کے ساتھ کھیلتا اور لوگوں نے بھی بڑی محبتیں فرحان کو دی ۔
ایک چچا جن کا نام رام کرشن تھا وہ فرحان کو کھیلاتا کودتا ہوا دیکھ کر بولے کہ یہ معصوم سا فرحان جسے مذہب سے کوئی مطلب نہیں بس انہیں چاہیے تو صرف محبت اور یہی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب و تمدن تھی
لیکن عصر حاضر کی گندی سیاست نے ہندوستان کی یکجہتی کو تباہ و برباد کر ہندوستان کی سالمیت کے روح کو نقصان پہنچایا ، ہندو مسلم کے اندر نفرت و عداوت کی بیز ڈال دی
اور آج کا جاہل اور بے روزگار نوجوان جس کے ذہن کو واش کیا جاتا ہے تاکہ ہندو مسلم کے درمیان لڑائی اور دنگے ہوں ایک لاکھ چالیس کروڑ کی ابادی میں جس کا وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع بلکہ تمام وزیر ہندو اور جمو کشمیر کے علاوہ تمام ریاست کے وزیر اعلی ہندو ہیں
یہاں تک کہ سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ اور ذیلی عدالتوں میں ججوں کی اکثریت ہندو ہیں اس کے بعد بھی ہندو ہی خطرے میں ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ ہندوستان کے سیاست دانوں نے اپنی سیاست چمکانے اور اپنی کرسی بچائے رکھنے کے لیے ہندو مسلم کا کھیل کھیلا ہے
اور ہندوستان کے ہندوؤں کو بے وقوف بنایا ہے اگر ہندو سیاستدانوں کی فیملی پر غور کرے تو معلوم ہو گا کہ ان کی فیملی کا ایک بھی بچہ فوجی میں نہیں ہے اور نہ کوئی مذہب کی بات کرتا ہے بلکہ وہ لوگ اپنے بچوں کو امریکہ ، لندن ، فرانس اور مختلف معیاری انٹرنیشنل یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے ہیں اور واپس آنے پر انہیں اعلیٰ مناصب پر فائز کرتے ہیں
لیکن وہیں غریب ہندوؤں کے بچوں کو نہ اچھی تعلیم سے ہمکنار کرتے ہیں اور نہ انہیں روزگار دیتے ہیں بس انہیں ہندو مسلم کے بیچ لڑائی کیسے ہو ، فتنہ کیسے پروان چڑھے کی تعلیم دے کر ان کے ذہن کو واش کرتے ہیں۔
آج ضرورت ہے ہندوستان کی عوام کو خصوصاً ہندو عوام کو کہ اس تین سالہ فرحان سے خوش رہنا اور آپس میں محبت تقسیم کرنا سیکھے اور سماج و معاشرہ میں اس محبت اور یکجہتی کو پروان چڑھائے جسے اس طویل سفر میں فرحان نے چڑھائی ہے میں سیلوٹ کرتا ہوں
فرحان کی ماں کو جس نے اس چاند جیسے بچے کو جنم دیا اور گزارش کرتا ہوں ان سے کہ انہیں مستقبل میں اعلیٰ تعلیم دیں اور اچھی تربیت بھی ۔وہاں بیٹھے تمام لوگوں نے چچا رام کرشن کی باتوں سے بہت متاثر ہوئے اور عہد لیئے کہ ہم اپنے سماج و معاشرہ میں فرحان کی دی گئی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے محبت کا فروغ دیں گے ۔
اسی طرح ٹرین کے اس دبے کا سفر بڑے آسانی کے ساتھ ختم ہوا اور فرحان نے دوران سفر تمام لوگوں کو کھیلتے کھیلاتے ان کے منزل مقصود تک پہنچایا اور فرحان کو تمام لوگ گلے لگاتے ہوئے بہت ساری دعائیں دی ۔