مسلم مسائل پر عدالتی رویہ
مسلم مسائل پر عدالتی رویہ !!!
تحریر محمد زاہد علی مرکزی
چیئرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
اس وقت ہندوستان نفرت کی سبھی حدود پار کر رہا ہے، کشمیر دہشت گرد حملے میں اگر مارنے والے مسلم تھے تو حملے سے بچانے والے بھی مسلمان تھے لیکن کشمیریوں کے خلاف پورے ملک میں حملے ہو رہے ہیں، 26 کا بدلہ 2600 سے لینے کی بات ہو رہی ہے….. جگہ جگہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے…. بازاروں میں مسلم دوکان داروں کو اپنی دوکانوں پر نام لکھنے کو کہا جارہا ہے
وقف املاک پر قبضے کا بلو پرنٹ تیار ہو چکا ہے، اتر پردیش اور اترا کھنڈ میں لگاتار مدارس بند اور ڈھائے جا رہے ہیں، عدلیہ بھی اس پر خاموش ہے، عدالتوں میں عرضیاں داخل کی گئی ہیں لیکن فوری سماعت یا کوئی سخت حکم نہیں آرہا ہے، اگر عدالتی احکامات جاری بھی ہو رہے ہیں تو ان کا اثر کہیں نہیں دکھ رہا اور عدالت اپنے احکامات پر عمل نہ کرنے پر کوئی سخت حکم نہیں دے پارہی ہے……
تازہ معاملہ ہندوستانی عدلیہ کی وقف پر سماعت کا ہے
ویسے عدلیہ کو آئینی طور پر غیر جانبدار اور انصاف پسند ادارہ مانا جاتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں کئی ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں جہاں مسلمانوں سے متعلق نہایت اہم اور حساس معاملات پر ججز نے یا تو سماعت سے انکار کر دیا، یا کسی وجہ سے سماعت ملتوی ہوتی گئی، عدلیہ کے اس رویہ نے نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو متاثر کیا بلکہ عدلیہ کی آزادی پر بھی سوالات کو جنم دیا ۔ اس تحریر میں ہم ایسے ہی چند اہم مقدمات کا تجزیہ پیش کرنے جارہے ہیں جن میں ججز نے یا تو سماعت سے انکار کیا، یا ان کا رویہ عدالتی غیر جانبداری کے تصور سے ہٹتا نظر آیا۔
- سنجیو کھنہ اور وقف بورڈ کیس (2024–2025):
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے وقف جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا۔ اس کیس کے دوران بی جے پی رہنما نشیکانت دوبے، نائب صدر جمہوریہ جگ دیپ دھن کھڑ نے کھل کر بیان بازی کی اور عدلیہ کو اسمبلی کے فیصلوں پر دخل دینے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ” کہ عدلیہ صدر جمہوریہ کو حکم نہیں دے سکتی، عدلیہ اسمبلی کی کام نہ کرے” اس بیان کے بعد بی جے پی گورنمنٹ کے وزرا اور اہم عہدوں پر فائز دیگر افراد نے ایسے بیانات دیے جنہیں عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ ملک بھر سے قریب سو عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئیں تھیں کہ حکومت کا لایا ہوا موجودہ وقف بل مسلمانوں کی زمین چھیننے کے لیے لایا گیا ہے، پہلے تو کورٹ نے فوری شنوائی سے منع کیا، پھر پہلی سماعت 16 /17 اپریل 2025 کو ہوئی جہاں جسٹس سنجیو کھنہ اور دو ججوں نے سماعت کی اور حکومت سے تکیھے سوال پوچھے، حکومت کی طرف سے سالسٹر جنرل تشار مہتا سے کچھ بن نہ سکا تو 7 دن کا وقت مانگ لیا، اس مدت میں حکومت نے جواب داخل کیا تو پانچ دنوں کا وقت عرضی گزاروں کو دیا گیا اور سماعت پانچ مئی کو مقرر ہوئی، 5 مئی کو سپریم کورٹ کی تین ججوں کی بینچ نے کہا کہ اتنے کم ٹائم میں 110/115 فائل پڑھنا ممکن نہیں ہے اس لیے اگر آپ لوگ چاہیں تو اس کیس کی سماعت نئے چیف جسٹس کریں… چوں کہ جسٹس کھنہ 13 مئی کو ریٹائر ہو رہے ہیں اس لیے اب یہ معاملہ نئے چیف جسٹس بی آر گَوَئی کے سامنے آئے گا….جس کی سماعت پندرہ مئی کو ہوگی….. اس سے قبل بھی اہم معاملات میں ایسا ہی ہوتا دکھا ہے…
The Hindu, “Justice Khanna recuses from Waqf hearing amid political uproar”, December 2024.
Bar & Bench, “Political statements pressure judiciary, say legal experts”, January 2025.
بابری مسجد کیس اور عدالتی رویہ (2019):
بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازع (1949-2019)
تفصیل: 1949 میں ایودھیا کی بابری مسجد کے اندر رام کی مورتیاں رکھی گئیں، جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے تالا لگا کر مسلمانوں کی عبادت پر پابندی لگائی۔ 6 دسمبر 1992 کو مسجد کو ہندو کارسیوکوں نے مسمار کر دیا، جس سے فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔ اس تنازع کی ملکیت کا مقدمہ دہائیوں تک عدالتوں میں چلتا رہا۔
1949 میں سنی وقف بورڈ نے مسجد کی ملکیت کے لیے عدالت سے رجوع کیا، لیکن مقدمہ 1980 کی دہائی تک مؤثر سماعت کے بغیر التوا کا شکار رہا۔
2018 میں سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ سے فوری سماعت کی درخواست کی، لیکن چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اسے “ترجیحی معاملہ نہیں” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس سے تاخیر میں اضافہ ہوا۔
9 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ مسجد کی زمین ہندو فریق کو دی جائے گی اور مسجد کی مسماری کو غیر قانونی قرار دیا۔ تاہم، فیصلے میں مسماری کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی کا ذکر نہیں تھا، جسے عدالتی خاموشی سمجھا گیا۔
سابق چیف جسٹس، جسٹس گانگولی نے فیصلے کو “قانون کے طالب علم کے طور پر تسلیم کرنا مشکل” قرار دیا، کیونکہ یہ تاریخی شواہد کے بجائے “اجتماعی ضمیر” پر مبنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔(دی وائر اردو، 14 نومبر)
بابری مسجد مقدمے میں کئی ججوں کی تبدیلی اور بعض ججوں کی خودسپردگی نے عدالتی شفافیت کو متاثر کیا۔ جسٹس یوسف کمال کو بینچ سے الگ کیا گیا، جب کہ حتمی فیصلہ مکمل طور پر ہندو فریق کے حق میں آیا، باوجود اس کے کہ مجرمانہ انہدام کا ثبوت موجود تھا۔ کورٹ نے یہ مانا کہ انہدام غلط تھا لیکن سزا کسی کو نہ ہوئی، کیا یہ اس بات کی طرف اشارہ نہیں کہ ایسے اور بھی معاملات ہوں، لوگ قانون کی بالادستی کو طاق پر رکھ کر اپنے مذہب یا اپنی مرضی کے حساب سے کام کریں….
Supreme Court of India, Ayodhya Verdict, 2019.
The Wire, “Ayodhya Verdict: Faith over Facts?”, Nov 2019.
United Nations Special Rapporteur Report on Religious Freedom, 2020.
سی اے اے اور این آر سی مقدمات پر تاخیر (2019–2021):
سی اے اے مخالف عرضیوں پر سپریم کورٹ کی جانب سے فوری سماعت نہ کرنے اور کئی بار ملتوی کیے جانے کو عدالتی خاموشی تصور کیا گیا۔ جسٹس بوبڈے کی زیرِ قیادت بینچ نے قانون پر عبوری حکم دینے سے انکار کیا۔ قریب تین سو عرضیاں آج بھی زیر غور ہیں لیکن سماعت کی نوبت نہیں آ رہی، یوں ہی الیکشن کمیشن کے خلاف متعدد شکایات ہیں لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا….
LiveLaw, “Why is the Supreme Court silent on CAA?”, Jan 2020.
Amnesty International India, “Judicial Delay Undermining Constitutional Guarantees”, 2020.
9 نومبر 2019 :جہانگیر پوری، دہلی.
غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسماری (2022-2025)
تفصیل: 2022 میں دہلی کے جہانگیر پوری اور مدھیہ پردیش کے کھرگاؤں میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد، حکومتی دعوؤں کے مطابق “غیر قانونی تجاوزات” کے خاتمے کے نام پر مسلمانوں کے گھر بلڈوزر سے مسمار کیے گئے۔ 2025 میں گجرات میں کشمیر حملے کے بعد 2,000 گھر مسمار ہوئے، جن میں سے صرف 450 غیر قانونی تھے۔
عدالتی خاموشی/سماعت سے انکار:
21 اپریل 2022 کو سپریم کورٹ نے جہانگیر پوری میں مسماری روکنے کا حکم دیا، لیکن مقامی حکام نے تحریری حکم نہ ملنے کا بہانہ بنا کر کارروائی جاری رکھی۔
الہٰ آباد ہائی کورٹ میں وکلاء نے مدھیہ پردیش میں مسماری کے خلاف درخواست دائر کی، لیکن عدالت نے فوری سماعت سے انکار کیا۔
2025 میں گجرات کی مسماری کے خلاف کوئی فوری عدالتی مداخلت رپورٹ نہیں ہوئی، جسے عدالتی خاموشی سمجھا جا رہا ہے۔
سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے کہا کہ “قانون میں مشتبہ افراد کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کی کوئی شق نہیں”، اور یہ اقدامات غیر آئینی ہیں۔ ناقدین نے اسے “مسلمانوں کو اجتماعی سزا” دینے کی کوشش قرار دیا۔
حوالہ: بی بی سی اردو، 16 اپریل 2022؛ نیویارک ٹائمز)
سمبھل مسجد تنازع (2024-2025)
2024 میں اتر پردیش کے سنبھل میں ایک مسجد کے سروے کے دوران ہلاکت خیز جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد مسلم املاک پر حملے کیے گئے۔ اسے گیان واپی اور بابری مسجد تنازعات سے جوڑا گیا۔ مقامی عدالت نے مسجد کے سروے کا حکم دیا، لیکن مسلم فریق کی درخواستوں پر فوری سماعت سے انکار کیا گیا۔
2025 تک سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی واضح حکم جاری نہیں کیا، جسے عدالتی خاموشی سمجھا جا رہا ہے۔
- کرناٹک حجاب کیس اور اختلافی فیصلے (2022)
کرناٹک میں طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ میں اختلاف سامنے آیا۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے حجاب پر پابندی کو درست قرار دیا جب کہ جسٹس دھولیا نے مذہبی آزادی کے حق میں فیصلہ دیا۔
Supreme Court of India, Fathima vs. State of Karnataka, 2022.
The Print, “Split verdict in Hijab case: A constitutional dilemma”, Oct 2022.
- دہلی فسادات اور جسٹس مرلی دھر کا تبادلہ (2020):
دہلی فسادات کے دوران جسٹس ایس مرلی دھر نے بی جے پی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات پر سخت تبصرہ کیا۔ اسی رات ان کا تبادلہ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کر دیا گیا، جسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ تصور کیا گیا۔ ایسے ہی سخت سوالات سپریم کورٹ نے وقف بل پر کیے، نتیجہ ایک بار پھر وہی رہا جو جسٹس مرلی دھر کا رہا….
NDTV, “Justice Muralidhar Transferred After Hearing Hate Speech Case”, Feb 2020.
Hindustan Times, “Justice Muralidhar’s midnight transfer triggers controversy”, 2020.
ہم نے یہاں چند معاملے آپ کے سامنے رکھے ہیں اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلم مسائل پر عدلیہ کس قدر دباؤ کا شکار رہتی ہے، دہلی فسادات میں ملوث کپل مشرا کو کورٹ سے کئی بار ایف آئی آر درج کرنے کا حکم ہوا باوجود اس کے کوئی کارروائی نہیں ہوئی ، دھرم سنسد میں مسلمانوں کو کھلے عام مارنے کاٹنے کی باتیں آج بھی ہو رہی ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی، لنچنگ سے لے کر ریپ، فسادات تک اگر کچھ ہوتا ہے تو مسلمانوں کے خلاف کارروائی جلد ہوتی ہے جب کہ ان مسائل پر آواز اٹھانے والوں کو پانچ پانچ سالوں تک بغیر چارج شیٹ کے ہی جیل میں رکھا جاتا ہے، وقف مسئلے پر جس قدر بیان بازی ہوئی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ عدلیہ بھی متاثر ہوئی ہے، سپریم کورٹ کو کیمپین چلا کر “سپریم کوٹھا” اور شریعہ کورٹ کہا گیا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے، بابری مسجد معاملے پر تو صاف کہا گیا ہے کہ “آستھا کے نام پر فیصلہ دیا جارہا ہے” ایسے میں مسلمانوں خصوصاً علما کو خاموش مگر اثر دار کیمپین چلانے کی ضرورت ہے..
یہ اعداد و شمار اس بات پر دال ہیں کہ جب تک آپ حکومت میں حصہ دار نہیں بنیں گے تب تک آپ کے ساتھ یہی ہونا ہے